کشمیری انقلاب اور دوبئی پراپرٹی لیکس

13

تحریر فیصل زمان چستی

چند دن پہلے آزاد کشمیر میں مہنگائی اور بجلی کی اوور بلنگ کے خلاف پر تشدد عوامی تحریک جاری تھی۔ چار پانچ دن تک نظام زندگی مفلوج رہا۔ پر تشدد واقعات ہونے کے بعد جس میں قیمتی جانی اور مالی نقصان ہوا بہت سے لوگ زخمی بھی ہوئے ۔ آخر کار بےیقینی کی کیفیت ختم ہوئی اور حکومت نے عوام کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے اور آٹا اور بجلی کے نرخوں پر مذاکرات کامیاب ہوئے وفاقی حکومت نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے 25 ارب کا ہنگامی پیکج دیا جس سے سبسڈی دی جائے گی اس کے بعد حکومت نے قیمتوں کے کم کرنے کا اعلان کیا قیمتیں کم ہویئں اور احتجاج ختم ہوا۔ ان دنوں لا اینڈ آرڈر صورتحال انتہائی خراب رہی۔ سوشل میڈیا پر بہت سی ویڈیوز اپ لوڈ ہویئں جس سے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک ہی ملک کے صوبوں میں قیمتوں میں اتنا تفاوت مسائل کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ کچھ لوگ اس عمل کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور کچھ لوگ اس کو منفی رویہ بھی قرار دے رہے ہیں کہ عوام کو اس طوفانی مہنگائی میں ریلیف چاہیے جب گھر میں کچھ بھی نہ ہو تو لازمی بات ہے کہ انسان انتہائی قدم اٹھانے پر بھی مجبور ہو جاتا ہے۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کی مناسب قیمتوں پر فراہمی حکومت کے بنیادی فرائض میں شامل ہوتا ہے اور اہم ترین ذمہ داری بھی۔ جب لوگ بےروزگاری اور دیگر مسائل کی وجہ سے اجتماعی خودکشیوں پر مجبور ہو جایئں۔ اپنے بچوں کو اپنے ہاتھوں ذبح کردیں اور حکومت وقت کے ماتھے پر پسینہ تک نہ آئے تو اس حکومتی رویے کو کیا سمجھا جائے۔ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال کلبلا رہا ہے کہ کیا اب عوام کو اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ریاست سے جنگ کرنی پڑے گی اور کیا یہ صحیح راستہ ہے کیا ایسا آئندہ بھی ہوتا رہے گا کیا عوام کا احتجاج درست فیصلہ تھا کیا حکومت کا ردعمل صحیح تھا کیا جو احتجاج نہیں کرے گا اس کو ریاست اس کے حقوق نہیں دے گی۔ کیا پرتشدد راستہ ہی باقی رہ گیا ہے۔ کیا یہ اچھی روایت کا آغاز ہے کیا یہ خونیں انقلاب کی طرف پہلا قدم ہے اور اس انقلاب کی ہمارے دروازے پر پہلی دستک ہے کیا یہ آئندہ چلنے والی فلم کا وہ ٹریلر ہے جو اس ملک کا مستقبل ٹھہر چکا ہے ۔ یہ وہ چند سوالات ہیں جو ان حالات کے تناظر میں عام آدمی کے ذہن میں اٹھ رہے ہیں۔ حکومتی تھنکس ٹینک ان وجوہات کو تلاش کریں جس سے عام آدمی مجبور ہوا کہ وہ حکومت کے سامنے کھڑا ہو جائے۔ کس بات نے عوام کو انارکی کا رستہ دکھایا۔ کیا حکومت اور عوام کا آپس میں ایسا ہی تعلق ہوتا ہے جو آج کل نظر آرہا ہے۔ ریاست تو ماں جیسی ہوتی ہے۔ کیا اب عوام یعنی ریاست کی اولاد ریاست کو مفلوج کر کے اور اسے زخمی کرکے کھانا طلب کریں گے۔ حکومت اور عوام دونوں اچھا نہیں کررہے ہیں۔ عالی دماغوں کو اس بابت بہت کچھ سوچنا چاہیے اور کرنا بھی چاہیے تاکہ آئندہ ایسی صورتحال پیدا ہی نہ ہو جو خود کو زخمی کرنے کا باعث بنے اور جگ ہنسائی بھی نہ ہو۔ ورنہ ہم تو اپنے پوتڑے بیچ چوراہے کو دھونے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں اردگرد کا ، اپنی ساکھ کا اور کسی بھی چیز کی حساسیت اور اہمیت کا ادراک تک نہیں ہوتا۔ ارباب اقتدار و اختیار کو ان حالات اور مسائل پر انتہائی سنجیدگی اور مثبت انداز میں سوچنا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ واپسی کا راستہ ہی نہ ملے۔
پاکستان میں پچھلے چند سالوں سے مختلف لیکس آتی رہیں جن میں ڈان لیکس اور وکی لیکس سر فہرست ہیں۔ وکی لیکس کی وجہ سے تو ایک وزیر اعظم کو اپنے گھر جانا پڑا اور بیرون ملک پناہ لینی پڑی۔ اب دبئی پراپرٹی لیکس سامنے آئی ہیں جس 400 ارب ڈالر کی جائیدادیں شامل ہیں۔ یہ ایک نیا پنڈورا باکس کھلا ہے دیکھیں کہ اب اس سے کیا کچھ برآمد ہوتا ہے۔ خبروں کے مطابق پاکستانیوں کا ان میں دوسرا نمبر ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان جس کے پاس زہر کھانے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں جو ملک قدم قدم پر آئی ایم ایف اور دوست ممالک کی امداد اور قرضوں کا محتاج رہتا ہے اور عوام کو آئے دن آئی ایم ایف کی طرف سے عائد کردہ شرائط کے شکنجے میں جکڑا جاتا اور ان کی رگوں سے خون کے آخری قطرہ تک نچوڑنے کے پلان بنتے رہتے ہیں اور حال ہی میں ہمارے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہم ہر شعبے کی نجکاری کریں گے اور ملک کا ہر ادارہ بیچ دیں گے چاہے وہ منافع میں ہو یا خسارے میں تاکہ پیسے ہاتھ لگیں اور ملک چلنے کے قابل ہو سکے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے دوسرا رخ یہ ہے کہ دبئی پراپرٹی لیکس کے 400 ارب ڈالر کی پراپرٹیز میں پاکستانیوں کا دوسرا نمبر ہے۔ ذرا دیکھیے اور سوچیے کہ وہ ملک جس کو سالانہ دو ارب ڈالر لینے کے لیے آئی ایم ایف کے پاؤں پڑنا پڑتا ہے ان کے جائز و نا جائز مطالبات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے اس ملک کے لوگوں کی صرف دوبئی میں دس ارب ڈالر سے زائد کی جائیدادیں ہیں۔ سوئس بینکوں اور دیگر ممالک میں پڑی دولت اور جائیدادوں کا تو شمار ہی نہیں ہے۔ یہ تضاد ایک عام آدمی کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اس ملک کی اشرافیہ کے پاس اتنی زیادہ جائیدادیں اور پیسے کہاں سے آتے ہیں، امیر اور غریب میں اتنا زیادہ فرق کیوں ہے، کیا وہ رقوم جن سے جائیدادیں خریدی گئیں تھیں جائز تھیں یا ناجائز اور ملک سے پیسہ باہر کیسے گیا اور کیا حکومت باخبر تھی یہ ملک کن لوگوں کا ہے اور کون قوتیں اس پر قابض ہیں اور وہ کب تک ہمیں بےوقوف بناتے رہیں گے۔ کیا اسلامی فلاحی ریاست ایک خواب تھا جو عوام کو دکھا دکھا کر اس کی نیندیں حرام کی گئیں یا فلاحی ریاست وہ پھکی تھی جو عوام کو کھلا کھلا کر ان کا معدہ خراب کیا گیا لیکن انہیں صحت کلی کا مثردہ بھی سنایا جارہا ہے۔
دنیا ہمارے بارے میں کیا سوچتی ہوگی کہ پوری دنیا میں کشکول لے کر گداگری کرنے والی قوم کتنی بےوقوف اور بےحس ہے کہ اس کے اپنے گھروالے تو بھوک سے مررہے ہیں ، خودکشیاں کررہے ہیں، بغاوتیں سر اٹھا رہی ہیں معاشیات اور اقتصادیات کے حالات دگرگوں ہیں لیکن یہ اپنے ملک میں پیسہ لگانے کی بجائے دنیا کے دیگر ممالک میں انویسٹمنٹف کرتے پھر رہے ہیں لیکن اگر غور فرمائیں تو کچھ نیا تو نہیں ہورہا ہے اس ملک میں۔۔۔ بھئی سبحان اللہ۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.