حکمرانوں کے شاہی اخراجات اور عوامی مشکلات

30

بڑی مشکل سے ہی حکومت سازی کے عمل کو تکمیل مل سکی ہے ۔
پاکستان کی سیاست میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی ایک جماعت کی اکثریت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کئی جماعتوں کے مینڈیٹ کو جوڑ کر حکومت بنانے کا عمل شروع کیا جائے اور ہنگامے ،جلاؤ ،گھیراؤ نہ ہو
اس بار بھی الزامات کی بوچھاڑ میں مضطرب جماعتوں نے احتجاج کا اعلان ضرور کیا
مگر قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے احتجاج کے دائرہ کار کو اس قدر وسعت نہیں دی
کہ جس سے قومی یکجہتی کا شیرازہ بکھر جائے ۔
قوم کو ملکی مفاد میں یکجا رکھنے کی شعوری کاوش سے ملک میں افراتفری کا ماحول نہیں بننے دیا گیا
تاہم اسے کسی طور بھی حقیقی عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے والی کی پسپائی سے تعبیر نہیں کرنا چاہئے۔
قومی مفاد کو ہر حال میں مقدم رکھنے والوں کے ساتھ ٹکراؤ کی پالیسی بہرحال ملک وقوم کے لئے
سراسر نقصان دہ ہوگی ۔
قوم کو مطمئن رہنے کی تلقین کرنے والے رہنمائوں کو قید کرکے بھی اہل اختیار کو چین نہیں
ان کی ملاقاتوں پر پابندی کا جواز بھی انہی کی جان کو خطرہ قرار دےدیا گیا ۔
قیدی رہنمائوں پر ملاقاتوں پر پابندی سے مسائل تو ٹلنے والے نہیں ،بس سرکاری وسائل کے غلط استعمال کی مثالیں قائم کی جارہی ہیں
موجودہ حکومت کے سامنے پہاڑ جیسے مسائل ہیں اور ان میں سب سے اہم مالیاتی مشکلات ہیں ۔
پاکستان کے موجودہ دگرگوں حالات میں کسی باصلاحیت بھاری مینڈیٹ والی حقیقی منتخب حکومت کے لئے بھی کام کرنا بہت دشوار ہوتا
جبکہ منتشر الخیال مخلوط حکومت جس کی کابینہ کے “مانگے تانگے “کے کچھ ارکان صرف
آئی ایم ایف کے ساتھ طویل ڈیل کرکے” ڈنگ ٹپاؤ “پالیسی پر عمل پیرا نظر آتے ہیں
کچھ غیر منتخب غیر ملکی بھی ابھی تک ملکی شہریت کے حصول کی کارروائی کے ساتھ ساتھ
اب آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کیلئے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں
یہ سب کچھ قوم کے ساتھ ایک ایسا خوفناک سلوک روا رکھنے کی نئی بنیاد قائم ہورہی ہے
جس کا خمیازہ آنے والی حکومتیں بھگتتی رہیں گے
تاہم ن لیگ اور پیپلزپارٹی کی سربراہی میں قائم ہونے والی اس مخلوط حکومت کو
اس کی کچھ بھی تو پروا نہیں
انہیں تو آئی ایم ایف جیسے پروگراموں کو بتدریج خیرباد کہتے ہوئے اپنے وسائل پر
انحصار کی پالیسی پر گامزن ہونا تھا جس کے لئے کم ازکم پیپلزپارٹی تو اپنے منشور سے ہی منحرف ہورہی ہے
دوسرا مخلوط حکومت کو اپنے شاہانہ اخراجات کم کرکے عوام کو سبسڈی دیتے ہوئے غریبوں کے لئے ریلیف کی صورت نکالنا چاہئے تھی
اس حوالے سے ابتدائی طور پر تو کوئی اعلان کیا گیا ہے نہ کسی روڈ میپ کی طرف اشارہ ملتا ہے ۔
حکومت کے شاہی اخراجات ،ارکان اسمبلیوں کی ہوشربا تنخواہیں ،وزراء کے دورے اور
پروٹوکول سمیت عوام کو یہ حکمران 85ارب روپے سالانہ سے بھی زیادہ کے پڑ رہے ہیں
آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران ہی بجلی ،گیس اور پٹرول مہنگا کرنے کے اصولی فیصلے ہوچکے ،قوم کو مہنگائی کے سیل بیکراں کے حوالے کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے
ان حالات میں موجودہ حکمرانوں کے شاہی اخراجات سے غریبوں کے زندہ درگور ہونے کی صورت ہی پیدا ہوتی رہے گی اور شاعر شعور سید محسن نقوی شہید کا کلام ان حالات کی کچھ اس طرح عکاسی کرتا رہے گا ۔

جسے قبائے امارت سمجھ رہے ہیں جناب
کسی کے جسم سے چھینا ہوا کفن تو نہیں
امیرِ شہر کی مسند کو غور سے دیکھو
کسی غریب کی بیٹی کا پیرہن تو نہیں۔

زاد راہ ۔۔۔۔۔سید علی رضا نقوی

15/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-10-2-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.