پی ٹی آئی نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عدالت میں چیلنج کر دیا

22
سینیٹ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 9 اپریل کو ہونے والے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا۔ پی ٹی آئی کے 5 سینیٹرز نے چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب روکنے کے لیے آئینی درخواست دائر کی، درخواست پر سینیٹر زرقا، سیف اللّٰہ نیازی، سیف اللّٰہ ابڑو، فلک…

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی سینیٹ نشستوں کے انتخاب تک چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب روکا جائے۔

یاد رہے کہ 6 اپریل کو سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین محمد حامد رضا نے الیکشن کمیشن سے 9 اپریل کو ہونے والے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔

اس حوالے سے سینئر وکیل حامد خان کے توسط سے دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والے ایوان بالا کے الیکشن کے بعد کسی تاریخ تک چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابات کروائے جائیں۔

اس میں دلیل دی گئی کہ خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 11 خالی نشستوں پر الیکشن اور اس کا نوٹیفکیشن آئین کے تحت سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے ضروری ہے، درخواست آرٹیکل 60 کے تحت دائر کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے حکم پر 2 اپریل کو خیبرپختونخوا میں 11 نشستوں پر الیکشن ملتوی کر دیا گیا تھا، الیکشن اس بنیاد پر ملتوی کیا گیا تھا کہ آرٹیکل 106 کے تحت مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین صوبائی اسمبلی نے اپنے عہدوں کا حلف نہیں اٹھایا اور الیکٹورل کالج نامکمل ہونے کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کا انتظام نہیں کیا جاسکا۔

درخواست میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے خیبرپختونخوا اسمبلی کے انتخابات میں تاخیر کی، درخواست میں استدعا کی گئی کہ پاکستان میں جمہوریت کو بچانے کے لیے آئین سے انحراف کو فوراً ختم کیا جائے۔

تبصرے بند ہیں.