برکتوں، رحمتوں، سعادتوں اور نعمتوں کا مہینہ

22

(حکیم محمد سعید شہید پاکستان)

رمضان کا یہ مہینہ رحمتوں، برکتوں، سعادتوں اور نعمتوں کا مہینہ ہے۔ اس کی آمد پر ہر فرزند اسلام ہر صاحب ایمان فرحت و مسرت محسوس کرتا اور روحانی امیدوں کے ساتھ اس کا استقبال کرتا ہے۔
اس میں چھوٹے بڑے، امیر غریب، عورت مرد، مشرقی مغربی، شمالی جنوبی، کالے، گورے کی مقید نہیں۔ تمیز ہے تو بس ایمان و عقیدے کی۔ جس نے ایمان سے بہرہ پایا ہے وہ رمضان کو خوش آمدید کہتا ہے
رمضان سے برکتیں حاصل کرتا ہے۔ قران حکیم ارشاد فرماتا ہے


شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ہدیٰ الناس و بینات من الھدیٰ والفرقان شہد منکم الشہر فلیصمہ ومن کان مریضا اوعلی سفر فعدۃ من ایام اخریدید اللہ بکم الیسرولایریدبکم العسرو النکملوالعدۃ و تکبرواللہ علی ماھد اکم ولعلکم تشکرون (البقرہ :۱۴۵۰ ) ’
یعنی رمضان کے مہینے میں قرآن اتارا گیا۔ اس میں لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور روشن دلیلیں ہیں راہ پانے کی اور حق کو باطل سے جدا کرنے کی پس تم میں سے جو کوئی پائے اس مہینے کو تو روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہوتو اس کی گنتی پوری کرنی چاہیے دوسرے دنوں سے۔
اللہ تمہارے لیے سہولت چاہتا ہے، دشواری نہیں چاہتا اور یہ کہ تم احسان مانو‘‘ غور فرمائیے کہ اس ماہ کی عظمت یہ بیان فرمائی جا رہی ہے کہ اس میں قرآن نازل فرمایا گیا ہے
جو ہدایت ہے رہنمائی ہے سیدھے سچے راستے کی طرف۔ قرآن میں روشن دلیلیں ہیں دوسری عظمت رمضان کی یہ ہے کہ اس میں روزے فرض کیے گئے۔
یا یھاالذین آمنو اکتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون

(البقرہ :۱۸۳۰)
’’یعنی
اے اصحاب ایمان ! تم پر روزے فرض کیے گئے اسی طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو‘‘۔


روزے کا مقصد نیکی و پرہیزگاری بیان فرمایا گیا ہے اور اسی ماہ میں قرآن کا نزول ہوا تاکہ نیکی اور پرہیز گاری، پاکیزگی اور نکوکاری کے لیے پوری پوری رہنمائی میسر آئے۔ قرآن مکمل ضابطۂ اخلاق ہے اور دسور حیات! اور رمضان کا سب سے بڑا عطیہ یہ ہے کہ اس ماہ مقدس میں شارع اسلام پر کتاب ہدایت اتاری گئی جس کی روشنی قیامت تک نوع انسانی کی رہنمائی کرتی رہے گی، قرآن ہمیں بہترین زندگی بسر کرنے کا ڈھنگ سکھاتا ہے، اچھائی اور برائی میں تمیز کرنے کا واضح معیار عطا فرماتاہے، سیدھا صاف راستہ دکھاتا ہے۔ عبد اور محبود کے تعلق کو واضح کرتا ہے اور دین و دنیا کی نعمتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اخلاق و اعمال کا مثالی نمونہ دیتا ہے۔ تقویٰ اور طہارت کے درمیان محبت اور مودت کی بنیادیں عطا کرتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کے رہنما اصول کی تعلیم دیتا ہے۔ انسان کی عظمت اور مجدد شرف کو نمایاں کراتا ہے۔
رمضان کی دوسری فضیلت اس کے روزے ہیں جو تربیت نفس کا بہترین ذریعہ ہیں، پاکیزہ زندگی کے لیے نفس کی تربیت لازمی ہے۔ محض اچھے اصولوں کی تعلیم اس وقت تک غیر موثر ہے جب تک افراد کی تربیت اس کے مطابق نہ ہو قول کچھ ہو اور عمل کچھ، تو قول کا حسن بے معنیٰ ہو جاتا ہے۔ اصل اہمیت عمل کی ہے۔ عمل ہی انسان کا زیور ہے اور اسی سے انسان کی پستی اور بلندی ظاہر ہوتی ہے۔قرآن عمل کی تعلیم دیتا ہے اور عمل ہی کی بنیاد پر انسان کو جانچتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد عمل سے عاری ہوں تو وہ معاشرہ قرآن کے معیار سے ناقص اور ناکام ہے، اس کے افراد نکبت سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
رمضان عمل کی تربیت کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اس مہینے میں انسان خود اپنا تجزیہ کر سکتا ہے، اور خود اپنی تربیت کرسکتا ہے۔ اس مہینے میں وہ بہت سی جائز چیزوں کو بھی ایک مقررہ مدت میں حرام کر لیتا ہے۔ وہ کھا سکتا ہے مگر نہیں کھاتا۔ وہ پی سکتا ہے مگر نہیں پیتا۔ وہ اپنے نفس کی دوسری خواہشتات بھی پوری کر سکتا ہے مگر وہ ان جائز ساتھیوں کی ہمدردی اورخدمت بھی کرتا ہے اور ان کے دکھ درد کو زیادہ بہتر طریقہ سے سمجھنے لگتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں قرآن جیسی روشن کتاب سے نوازا۔ ہم اس کی روشنی سے اپنے دلوں کو منور کر سکتے ہیں، اپنے اخلاق کو جگمگا سکتے ہیں، اپنی عادات کو سنوار سکتے ہیں، خاص طور پر سعادتوں اور برکتوں کے اس مہینے میں ہمیں قرآن سے زیادہ قریب ہونا چاہیے۔ قرآن سے اپنے تعلق کو تازہ اور مضبوط کرنا چاہے۔ قرآن کے راستے پر پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن ہمارا رہنما ہے، اس کی رہنمائی سے ہمیں پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اس مہینے میں اللہ کی رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ اس کے بعد بھی ہم اگر پیاسے رہیں تو یہ ہمارا قصور ہے۔ ہم اللہ کی بندگی کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور بندے بن کر زندگی کو خوبی سے گزار سکتے ہیں۔ اس کی بندگی سے روگردانی کریں گے تو دنیا کی ہر معمولی طاقت کے آگے ہمیں جھکنا پڑے گا۔ ہماری فلاح و نجات صرف پیروی قرآن میں ہے اور اتباع قرآن کا بہترین نمونہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس و اعلا ہے۔ اس نمونے کی موجودگی میں ہمیں کسی دوسری طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ صرف اور صرف اسوہ حسنہ کی پیروی کر کے ہی ہم سرفراز اور سرخرو ہوسکتے ہیں۔ سربلندی اور سرفرازی ہماری منتظر ہے۔ قرآن کی بتائی ہوئی راہ پر ایک بار چل پڑہیے بلندیاں آپ کے پیچھے آئیں گی۔ اس کے آغاز کے لیے رمضان بہترین وقت ہے۔

20/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-13-scaled.webp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.