ملک میں سیاسی عدم استحکام سے معاشی ابتری پھیلی ،بحرانوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا اور قوم کئی طرح کے مسائل کا شکار ہوئی ،اقتصادی بدحالی سے عوام کو مہنگائی جیسے عذاب سہنا پڑے ،قوم مایوسیوں کے دلدل میں دھنستی چلی گئی ،اس صورتحال میں حکومت چلانا بہت مشکل کام تھا جسے ن لیگ کی سربراہی میں قائم مخلوط حکومت نے احسن طریقے سے نبھایا ،ملک کو بحرانوں سے نکال کر درست سمت دی گئی اور اب بتدریج بہتری کے سفر پر گامزن ہے ،ان حالات میں تصادم اور ٹکرائو کی سیاست کرنے والوں کی وجہ سے کئی عوامی بہبود کے منصوبوں کو رکاوٹ کا سامنا رہا ،جس کا برملا اظہار بھی وزیراعظم نے قوم کے سامنے کیا ،اس بارے میں وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ گزشتہ 9 ماہ دھرنوں کی سیاست نے معیشت کا دھڑن تختہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، نئے سال کے لیے ’اڑان پاکستان‘ پروگرام نیک شگون ثابت ہوگا، برآمدات میں اضافے کے سوا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئے سال کے آغاز میں پاکستان کی خوشحالی کے لیے دعاگو ہوں، ہم ثابت قدمی اور محنت کے ساتھ اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے کاوشیں کیں تو ’اڑان پاکستان‘ نئے سال میں نیک شگون ثابت ہوگا۔اگر پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ہے تو برآمدات پر مبنی ترقی کے سوا ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہے، نمو کے شعبے میں استحکام اور ترقی آچکی، اسی حوالے سے اے ڈی آر ( ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو) کی مد میں پیش رفت کو سراہا جانا چاہیے جس کے نتیجے میں 72 ارب ڈالر کی محصولات خزانے میں آئی ہیں اور محصولات کے حوالے سے آئی ایم ایف کا دسمبر کا 97 فیصد ہدف حاصل ہوگیا ہے۔وزیراعظم نے بتایا کہ کراچی پورٹ پر فیس لیس انٹریکشن شروع ہوگیا ہے، گزشتہ سال جولائی میں کراچی پورٹ گیا تو مجھے بتایا گیا کہ ہم فلاں جگہ ریئل اسٹیٹ بنارہے ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ مجھے بہت دکھ اور افسوس ہوا اور میں نے انہیں کہا کہ آپ کا کام پورٹ کو چلانا ہے یا ریئل اسٹیٹ چلانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہپ سال اپریل میں بل گیٹس فاؤنڈیشن کی 60 لاکھ ڈالر کی فنڈنگ کے ذریعے ایف بی آر میں 100 فیصد ڈجیٹائزیشن کے بعد آج کراچی پورٹ میں فیس لیس انٹریکشن کا ٹرائے رن شروع ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں کنیٹینرز کی انسپیکشن کے دورانیے میں 39 فیصد کمی آئی ہے اور کاروباری حضرات کو ریلیف ملا ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ چینی کی افغانستان اسمگلنگ مکمل طور پر بند ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں گنجائش پیدا ہوئی اور ہم چینی برآمد کرنے کے قابل ہوگئے، اس کا کریڈٹ رانا تنویر، اداروں اور آرمی چیف کو جاتا ہے، وزیراعظم نے مزید کہا کہ تیل کی اسمگلنگ میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔انکا کہنا تھا کہ مالی سال کے 5 ماہ میں ترسیلات زر 15 ارب ڈالر رہی ہیں اور یہی رفتار برقرار رہی تو ترسیلات زر 35 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی جو تاریخ کا سب سے بڑا ریکارڈ ہوگا۔وزیراعظم نے کہا کہ یہ چھوٹی چھوٹی کامیابیاں اس کے باوجود ہیں کہ 9 ماہ میں دھرنوں کی سیاست نے معیشت کا دھڑن تختہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، اس کے باوجود ہم معیشت میں استحکام لانے میں کامیاب ہوگئے اور عام آدمی بھی معیشت کی بہتری کی گواہی دے رہا ہے۔ حکومتی شفافیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 9 ماہ میں کسی میں کوئی ایک قابل ذکر اسکینڈل لانے کی بھی جرات نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب ہمیں ترقی کی اڑان کے مرحلے کی طرف بڑھنا ہے، گو کہ کارکردگی پچھلے سال سے کہیں زیادہ بہتر ہے تاہم آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف میں کافی فرق موجود ہے۔شہباز شریف کا کہناتھا کہ پچھلے چند سالوں میں افغانستان میں نگراں حکومت کے قیام کے بعد دہشت گردی دوبارہ ابھر کر سامنے آئی ہے، پچھلی حکومت نے نہ جانے کس زعم اور کس ذہن سے فیصلہ کیا کہ سیکڑوں دہشت گردوں کو آزاد کردیا اور کئی دہشت گرد یہاں پر آئے۔ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی سے پوری طرح نبرد آزما ہیں اور ان کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی۔وزیر اعظم نے امید ظاہر کی کہ یہ سال پاکستان کے لیے اچھا ثابت ہوگا اور خیر و برکت کا باعث بنے گا، بس شرط یہ ہے کہ محنت، محنت اور محنت کی جائے۔وزیراعظم شہباز شریف کے عوام کو مشکلات سے نکالنے کا عزم اور عمل قابل تعریف ہے اسے قوم سراہتی ہے ۔دوسری طرف کُرم میں امن کے لیے گرینڈ جرگہ، فریقین نے امن معاہدے پر دستخط کر دیے،اس کی تصدیق کے پی حکومت نے بھی کردی ،ان حالات میں بلاشبہ میں باہمی تنازعات سے بھاری جانی ومالی نقصان ہوا ،احتجاج اور دھرنوں سے کچھ حاصل وصول نہیں ہوا بلکہ مذاکرات سے ہی معاملات بہتر ہوئے ،وفاقی حکومت کی کاوشوں سے مزید بہتری کے امکانات روشن ہیں اور عوام کو ریلیف ملنے کی صورت بھی واضح ہورہی ہے ۔
۔