ناراض بلوچوں کو ایک بار پھر قومی دھارے میں شامل کرنےکی پیشکش

22

اداریہ

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے وسائل کو بروئے کار لاکر ملکی ترقی میں اہم پیشرفت ہوسکتی ہے ۔
بلوچستان کے عوام کی طرف سے بھی ملکی تعمیر وترقی کے لئے اہم کردار کی توقع وابستہ رہی ہے ۔
پاکستان کئی طرح کے مسائل کا شکار ہے سب سے اہم مسئلہ ملک دشمنوں کی جانب سے ناراض ہم وطنوں کے ذہنوں میں زہر بھر کر ریاست کے خلاف بیانیہ دینے والی بات ہے
قومی مفاد کا تقاضا تو یہی ہے کہ فی الحال تمام ناراض ہم وطنوں کو قومی دھارے میں لانے کی ہر کاوش کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے
اس حوالے سے بلوچ رہنماؤں کے فعال کردار سے قومی یکجہتی کی صورت نکالنا ہے
اس تناظر میں زیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے تمام ناراض بلوچوں کو ایک مرتبہ پھر ہتھیار پھینک کر قومی دھارے میں شامل ہونے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ
ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی چاہتی ہے کہ ناراض بلوچوں سے بات کی جائے
اور ہتھیار پھینک کر اور تشدد ترک کرنے والوں کے لیے ریاست کے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ قومی دھارے میں شامل ہونے کی صرف ایک شرط ہے کہ ہتھیار پھینکنا ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان میں دہشت گردی کی جو تعریف کی گئی ہے
اس میں مذہب کے نام پر تشدد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے دیا ہے
دوسروں کو آپ نے ناراض بلوچوں کا نام دے دیا ہے، یہی نام تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر دیا ہے
تو میں سرفراز بگٹی اس سے ہٹ تو نہیں سکتا۔
ہم ان ناراض بلوچوں کو موقع دینا چاہتے ہیں کہ آئیں اور قومی دھارے میں شامل ہوں، پرامن بلوچستان کی پالیسی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے وقت میں بنی تھی

اس میں بہت سارے لوگوں نے سرنڈر کیا تھا جن کا ریاست نے خیال کیا تھا اور
حال ہی میں سرفراز بنگلزئی نے خود سرنڈر کیا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ اس طرح اگر ناراض بلوچوں کی مرکزی قیادت یا
دوسرے درجے کی قیادت واپس آنا چاہتی ہے
ہتھیار ڈالنا چاہتی ہے تو اس سے خوبصورت بات کیا ہو سکتی ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ
وہاں ملٹری اسٹیبلشمنٹ بھی اسٹیک ہولڈر ہے
تو کیا ان کو آن بورڈ لیا گیا کیونکہ وہاں لڑائی وہی لڑ رہے ہیں اور وہ بھی چاہتے ہیں کہ ان سے بات کی جائے تو
اس پر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ لڑائی بے شک ملٹری لڑ رہی ہے
لیکن یہ لڑائی اکیلے ملٹری کی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑائی سیاستدانوں،
عدلیہ، دانشوروں، انٹیلی جنس، یونیورسٹی میں بیٹھے طلبہ اور اساتذہ، میڈیا کی بھی ہے
مجموعی طور پر یہ ریاست کے خلاف جنگ ہے، ہم نے کیوں سمجھا ہوا ہے کہ
یہ جنگ صرف ملٹری نے لڑنی ہے
یہ ہم نے مل کر لڑنی ہے، کسی نے نقطہ نظر کی لڑائی لڑنی ہے
کسی نے قانون سازی کرنی ہے۔اس میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ یقیناً سب سے اہم اسٹیک ہولڈر ہے
اور انہیں اس شورش کے بارے میں جو کچھ معلوم ہے وہ کسی سیاستدان کو نہیں معلوم
وہ اس پر بالکل آن بورڈ ہیں کہ عام معافی کا اعلان ہونا چاہیے اور جو لوگ ہتھیار پھینک کر
اور تشدد ترک کر کے آنا چاہتے ہیں ان کے لیے ریاست نے دروازے کھلے ہوئے ہیں۔
معاملے میں پیشرفت کے حوالے سے سخوال پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ
کابینہ کی تشکیل کے بعد ہم پارلیمانی کمیرف بنا کر پہلے خود عرق ریزی کریں گے اور
اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سب سے پہلے ان قوم پرست جماعتوں سے تجاویز طلب کریں گے جو یہ کہتی رہی ہیں
کہ بلوچستان کا مسئلہ تشدد سے حل نہیں ہو گا اور مذاکرات اور ڈائیلاگ ہونے چاہئیں
ہم ان سے پوچھیں کہ کیا وہ بشیر زیب سے ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں، کیا بشیر زیب ان کے ڈائیلاگ سے واپس آ جائے گا،
کیا وہ اللہ نذر بلوچ، براہمداغ بگٹی، حرب یار مری کے ساتھ ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں۔
سرفراز بگٹی کاکہنا تھا کہ ہم قوم پرست جماعتوں سے پوچھیں گے وہ یہ مذاکرات کس طریقے سے کریں گے،
اس کا فریم ورک کیا ہو گا
صرف سیاسی بیان بازی کرنا کہ مذاکرات ہونے چاہئیں تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہو گا،
اہم بات یہ ہے کہ کس سے مذاکرات کریں اور کن شرائط پر کریں۔
ان حالات میں ریاست کی جانب سے نرمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹریک سے اترنے والوں کو آگے آنا چاہئے ۔
قومی دھارے میں شامل ہونے کا یہ موقع ضائع نہیں کرنا چاہئے ۔
قومی مفاد کو سامنے رکھا جائے تو اس سے اچھی پیضشےکش کوئی نہیں
اور یہی ملکی حالات بہتر بنانے کیلئے بہترین موقع ہے
جس ناراض بلوچوں کو بھی حصہ ڈالنے کا موقع میسر آرہا ہے ۔

26/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-5-scaled.webp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.