ہزارہ ادب کا اک ہیرا ملک عظیم ناشاد اعوان

31

سال 2018 میرے لیے اس لحاظ سے بہت یادگار تھا کہ اس سال مجھے عمرہ کی سعادت کے ساتھ ساتھ
اک کتاب “تاریخ قوم طاہرخیلی و شجرہ” کی اشاعت میں مرکزی معاونت بھی نصیب ہوئی۔
یہ کتاب میری تین سال شب و روز کی محنت تھی۔ پھر اس کے بعد 2023 میں میری دو کتب شائع ہوئیں۔
اشاعت والے ادارے سے ملک عظیم ناشاد اعوان صاحب کو میری کتب کا علم ہوا
اور وہیں سے میرا موبائل نمبر حاصل کرکے انہوں نے مجھے کال کی۔


ہماری شناسائی کا یہی نقطہء آغاز تھا۔
ہماری جان پہچان کو محض ایک سال کا عرصہ گزرا ہے لیکن آپ کی شخصیت میں وہ محبت، خلوص، ہمدردی اور درویشی ہے کہ یہ تعلق برسوں پرانا محسوس ہوتا ہے۔
اتنی طویل تمہید کا مقصد صرف یہ تھا کہ
آپ سب کو میری عظیم ناشاد اعوان صاحب سے شناسائی میں بہت دیر ہو جانے کا اندازہ ہو جائے۔
کاش آپ مجھے 16-2015ء میں مل جاتے تو کتاب کے لیے مواد کے حصول میں میرے تین سال نہ لگتے۔ بقول شاعر:

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے
تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے

بحرحال دیر سے ہی سہی لیکن پھر بھی آپ کی صورت میں مجھے ایک ایسا محبت کرنے والا
مخلص قدردان اور دوست ملا کہ میں تقدیر سے شاکی نہیں بلکہ نازاں ہوں۔
ہماری ہندکو میں اک کہاوت ہے کہ:
” ڈُلے بیراں دا ہَلے وی کُج نئیں گیا”
(گرے ہوئے بیر ابھی بھی ضائع نہیں ہوئے)

اس کہاوت کا مطلب ہے کہ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی یعنی اللہ کے کرم سے لکھنے کا سلسلہ جاری ہے
اور عظیم ناشاد صاحب کی رہنمائی اور ہمدردی ان شاءاللہ اب میرے ساتھ رہے گی۔

اب آتا ہوں آپ کے تعارف اور ادبی خدمات و اعزازات کی طرف کہ کچھ اس تعلق کا حق بھی ادا ہو
اور کچھ قاری کی معلومات میں بھی اضافہ ہو۔ آپ موضع ہڑیالہ (مانسہرہ) میں 1974ء کو پیدا ہوئے۔
میٹرک تک تعلیم مانسہرہ میں ہی
جبکہ بی اے AIOU سے پاس کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ہسٹری جبکہ ہزارہ یونیورسٹی سے ایم اردو کی ڈگری حاصل کی۔ 1996ء سے تاہنوز محکمہء تعلیم میں بطور سی ٹی معلم خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آپ ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان کے چیف آرگنائیزر اور اعوان برادری کے متعلق کئی تنظیموں
اور کئی مزید کونسلوں کے کلیدی عہدے دار بھی ہیں۔ آپ بزم مصنفین ہزارہ کے مرکزی صدر ہونے کے ساتھ
پاکستان رائیٹر یونین ضلع مانسہرہ اور انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان کے صدر ہزارہ ڈویژن بھی ہیں۔
آپ کو علم و تحقیق سے اتنا شغف ہے کہ کتابوں کی تصنیف میں مواد کے حصول کے سلسلے میں
دور دور کے سفر کرتے رہے۔ بقول ان کے جب اک لائبریری کے مالک کی طرف سے مواد کے حصول میں
انہیں دشواری پیش آئی
اور عزت نفس مجروح ہوئی تو آپ نے اسی وقت زاتی لائبریری بنانے کا تہیہ کر لیا تاکہ مستقبل میں
کسی اور کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ پھر آپ نے آہستہ آہستہ اک کتب خانہ تشکیل دینا شروع کیا
جو اب پوری آب و تاب سے مصروف عمل ہے۔ اس میں تاریخ سمیت ہر موضوع پر
بالخصوص ہزارہ کے مصنفین کی کتب موجود ہیں جو تشنگان علم کی پیاس بجھا رہی ہیں۔
عنقریب ان کی لائبریری کا شمار ہزارہ کے بڑے کتب خانوں میں ہو گا جہاں ہزارہ کی یونیورسٹیوں کے طلباء کو مقالا جات کے سلسلہ میں مواد دستیاب ہوگا۔ ان سب باتوں سے صاف طور پر عیاں ہوتا ہے کہ آپ اک انتہائی مصروف شیڈول رکھنے کے باوجود خدمتِ علم کے جزبے سے بھرپور ہیں۔ میری آپ سے دو بار ملاقات ہوئی جس میں مجھے آپ کی شخصیت کی سادگی، درد دل اور درویشی نے بہت متاثر کیا۔ اتنی کتابیں لکھ کر، اتنے عہدے ہوتے ہوئے اور اتنے زیادہ تعلقات و ادبی مواد رکھ کر بھی آپ کی شخصیت میں غرور و نخرے کا ہلکا سا بھی شائبہ نہیں ہوتا۔
آپ کی مطبوعہ کتب میں آئینہء اعوان، اعوان شخصیات ہزارہ، تذکرہء اولیائے ہزارہ، گلدستہء اعوان، ہزارہ کے دیہات تاریخ کے آئینے میں، تذکرہ ایک قلندر کا، سوانح حیات محمد حنفیہؒ بن حضرت علیؓ، درخشندہ ستارے، تذکرہء مشائخ عظام خیبر پختونخواہ، ہزارہ کے دیہات تاریخ کے آئینے میں، ہزارہ تے ہندکو، سفرحیات قائد اعوان اور کاروان بزم مصنفین ہزارہ شامل ہیں۔ مزید اتنی ہی کتب اشاعت کے لیے تیار بھی ہیں۔ آپ کی شخصیت کا ہمہ جہت ہونا دیکھیے کہ ہندکو اور اردو میں شاعری کے ساتھ ساتھ کثیر رسائل و جرائد میں آپ کے کالم بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔
اگر ایوارڈز/اعزازات کی بات کی جائے تو زم زم ویلفیئر سوسائٹی کشمیر کونسل کی جانب سے بیسٹ اچیومنٹ ایوارڈ2020،
انٹرنیشنل رائیٹر فورم پاکستان کا ایوارڈ برائے حسن کارکردگی 2022، الوکیل کتاب ایوارڈ حاصل پور 2023، اعتراف فن ایوارڈ بزم ہزارہ 2023، حُسن کارکردگی ایوارڈ ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان 2022، اصحاب بدر ایوارڈ چیچہ وطنی (پنجاب)2023، بھیل انٹر نیشنل ادبی ایوارڈ و قائداعظم محمد علی جناح ایوارڈ ننکانہ صاحب (پنجاب) 2023 سمیت آپ مزید ایوارڈز و اعزازات کی اک کثیر تعداد حاصل کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی یہ سلسلہ لازماََ جاری رہے گا۔۔ان شاءاللہ۔
اب اپنے آرٹیکل کو ان الفاظ کے ساتھ سمیٹتا ہوں کہ وہ دھرتی خوش قسمت ہوتی ہے کہ جس میں علم ادب کے گلشن کی آبیاری کرنے والے محمد عظیم ناشاد اعوان جیسے سپوت موجود ہوں۔ میری خوش قسمتی ہے کہ علم و ادب کی اس راہ میں مجھے عظیم ناشاد بھائی جیسے چند مخلص احباب دستیاب ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ آپ کے قلم اور صحت کو ہمیشہ پُر بہار رکھے۔
آمین ثم آمین۔

تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی

25/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-4-scaled.webp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.