رمضان ایسے گزاریں جیسے یہ ہمار ا آخری رمضان ہو

28


موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن ہر انسان کے لئے یہ اس لحاظ سے غیر یقینی ہے کہ اُسے نہیں معلوم کہ موت کا فرشتہ کب آکر اُسے دبوچ لے
اِس لیے آپﷺ شعبان میں یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ ہمیں ماہ رمضان تک پہنچا دے تاکہ ہم اس ماہِ مبارکہ کی برکتوں، اس کی فضیلتوں اور رحمتوں سے مستفیذ ہو سکیں۔
حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپﷺ نے ماہِ شعبان کی آخری تاریخ کو خطبہ فرمایا ’اے لوگو تم پر ایک ایسا مہینہ سایہ فگن ہو نے والا ہے جس کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
اس ماہِ میں اللہ تعالیٰ نے ایک سنّت کی ادائیگی کو ایک فرض کے برابر او ر ایک فرض کی ادائیگی کو ستر فرائض کے برابر قراردیا ہے اس ماہ کے روزے ہم پر فرض کیے گئے ہیں
اور اس کی راتوں میں قیام کرنے کو بڑے ثواب کا کام قرار دیا ہے
یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنّت ہے، یہ ہمدردی اور مواسات کا مہینہ ہے
اس ماہ کا پہلا عشرہ رحمت کا، دوسرا عشرہ مغفرت کا اور آخری عشرہ نجات کا ہے۔ ہمپھر کیوں نہ اِسے اِس طرح گزاریں کہ یہی ہمارے لیئے توشۂ عاقبت بن جائے!
شھر رمضان ا لذی انزل فیہ ا لقرآن (رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن اُتارا گیا)
ماہِ رمضان گزر جانے کے بعد ذیل میں درج سوالنامے کے ذریعہ اپنا جائزہ لیں کہ آپ کے طرزِ زندگی میں کیا تبد یلی آئی۔اُصولی طور پر تو یہ سوالنامہ ماہِ مبارکہ گزر جانے کے بعد دیا جانا چاہیے تھا
مگر پہلے دینے کا مقصد آپ کو احساس دلانا ہے کہ آپ نے ماہِ رمضان کیسے گزارنا ہے
اور بعد میں اپنا جائزہ لیں کہ آپ اپنی کوشش میں کس حد تک کامیاب رہے ہیں۔
کیا ماہِ رمضان گزر جانے کے بعد
آپ کے دل میں
اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسولﷺ کے لئے محبت بڑھی اور اُن کے احکامات پر من و عن عمل کرنے کا شوق پیدا ہوا ؟
ہر دینی اور دنیاوی کام میں اللہ تعالیٰ ٰ اور اُس کے رسولﷺ سے راہنمائی حاصل کر نے کا جذبہ پیدا ہوا ؟
آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی نمازوں میں باقاعدگی پیدا ہوئی اور
بصد شوق آپ کے قدم مسجد کی طرف اُٹھتے ہیں ؟
روزانہ قرآن مجید کی تلاوت، اُس کا مطا لعہ او ر غور و خوص کرنے کو اپنا معمول بنا لیا ہے ؟
اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے اپنے آپ کو پہلے سے زیادہ آمادہ پاتے ہیں ؟
آپ پہلے سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور اُس سے اپنی اور اُمتِ مسلمہ کی مغفرت طلب کرتے ہیں ؟
اپنی بری عادتوں کے بارے میں زیادہ فکرمند ہیں یا دوسروں کے عیب تلاش کر نے میں زیادہ پرُجوش ہیں ؟
آپ پہلے سے زیادہ اپنی آخرت کی فکر کرتے ہیں یا دل ابھی تک دنیاوی جاہ وطلب کی طرف راغب ہے ؟
کیا عبادات احسان کے درجہ پر ہیں؟ یعنی تو اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کر جیسے تو اُسے دیکھ رہا ہے،
اور اگر تو اُسے نہیں
دیکھ رہا تو وہ توتجھے دیکھ رہا ہے‘ صحیح مسلم، صحیح بخاری (کتاب الاء یمان)
آپ کے تعلقات بطور شوہر، بیوی، بیٹا، بیٹی، والد، والدہ، بھائی، بہن، پڑوسی، دوست، طالب علم یا
بطور ساتھ کام کرنے والے ساتھی کے پہلے سے بہتر ہیں یا اُسی نہج پر ہیں ؟
آپ نے محسوس کیا کہ رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰٰ نے ہماری عملی تربیت کا مہینہ مقرر کیا ہے
تاکہ باقی کے گیارہ مہینے اسی تربیت
کے زیرِ اثر گزارے جائیں، کہیں آپ نے اس کو دعوتِ افطار کے ذریعے بسیار خوری اور نمود و نمائش
کا مہینہ تو نہیں بنا یا؟
آپ فروغِ دین کے کاموں کی طرف راغب ہوں گے یا اپنی پرانی روش پر قائم رہیں گے؟
آپ اپنا احتساب کرنے کی عادت اپنائیں گے یا ہمیشہ کی طرح اگلے رمضان کا انتظار کریں گے؟


ہو سکتا ہے یہ میرا اور آپ میں سے کچھ حضرات کا آخری رمضان ہو
کالم کے اختتام پر رمضان المبارک پر کہے ہوئے چند اشعار قارئین کی نذر کرتا ہوں
رمضان المبارک ہے نزولِ قرآن کا با برکت مہینہ ۔۔۔ چھُپا ہے اِس میں سب کے لئے ہدایت کا انمول خزینہ
قرآن دکھاتا ہے سیدھی راہ جو ہوں اِس کے متلاشی ۔۔۔ سیاہ کاروں کے لئے تو دائما ً یہ رہتا ہے نسیان دفینہ
تقویٰ ہے مطلوب اللہ کو اپنے روزہ داروں سے ۔۔۔ ریاکاروں کو کچھ نہیں ملتا بہا لیں خواہ وہ اپنا پسینہ
عملِ صالح سے رکھی ہے مشروط اِس کی ہدایت ۔۔۔ ہے غنیمت مل جانا اِس بار، پھر نہ ملے شاید یہ مہینہ
’میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر‘
’فاعتبرو یا اولی الابصار‘ (اے عقل والو عبر ت حاصل کرو)۔۔

ابو عمیر صدیقی

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-24-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.