اللہ دتہ بہشتی
جاویدایازخان
گذشتہ دنوں سے پورے بہاولپور واسا کی جانب سے پانی کے بلوں کی آمد کا شور سا مچا ہوا ہے ۔ہر شخص پریشان ہے کہ نہ صاف پانی اور نہ سیوریج کا انتظام تو پھر اتنے بھاری بل کیوں اور کیسے ادا کریں ۔جبکہ بیشتر علاقوں میں واٹر سپلائی مہیا ہی نہیں کی گئی ۔اب سننے میں آرہا ہے کہ ہر گھر میں لگی موٹر اور نلکے پر بھی پانی حاصل کرنے پر ٹیکس عائد ہو گا ۔انسانی زندگی کے لیے اوکسیجن اور پانی دو ہی تو اللہ کی نعمتیں ہیں جن پر انسانی زندگی کا انحصار ہوتا ہے ۔مجھے ان بلوں کو دیکھ کر آج سے ساٹھ سال قبل کا چاچا اللہ دتہ ماشکی یاد آگیا جو ڈیرہ نواب صاحب میں ہمارۓ گھروں میں پانی اپنی چمڑے کی مشک میں پانی دور دراز کنوئیں سے بھر کر اور پھر اپنی کمر پر لاد کر بہاولپور کی سخت گرمی اور ٹھٹھرتی سردی میں بروقت پہنچاتا تھا ۔یہ واحد کام تھا جس کا ناغہ بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ۔وہ اپنی مشک سے ہمارۓ گھروں کے مٹکے ،گھڑۓ اور برتن بھر جاتاتھا جو پینے اور استعمال کرنے کے لیے سارا دن کافی ہوتےتھے ۔ہر گھر میں مٹی کے گھڑوں کی ایک طویل قطار لگی ہوتی تھی جبکہ پینے کے لیے چند گھڑے لکڑی کی گھڑونچی پر الگ سے رکھے جاتےتھے ۔ریاست بہاولپور میں پانی کےانتظام کے لیے ایک پورا محکمہ ہوا کرتا تھا اور ان ماشکیوں کے لیے ہمارۓ علاقے میں ایک پوری بستی بسائی گئی تھی جسے آج بھی "بستی ماشکیاں” کہتے ہیں ۔
آج جن کاموں کے لیے بڑے بڑے ادارے، محکمے اور واٹر سپلائی کے نظام قائم ہیں، کبھی یہی ذمہ داری ماشکی یا بہشتی اپنے کندھوں پر اٹھایا کرتے تھے۔ وہ اپنے مضبوط بازوؤں اور مشک میں صرف پانی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ضرورت اٹھائے پھرتے تھے۔ گویا اُس زمانے کا “واسا” یہی سادہ، محنتی اور خاموش لوگ تھے، جو گلی گلی پھر کر زندگی تقسیم کرتے تھے۔ اللہ دتہ ماشکی بھی انہی کرداروں میں شامل تھا جو رزقِ حلال کمانے کے ساتھ ساتھ پانی پلانے کو عبادت اور نیکی سمجھتے تھے۔ شاید اسی لیے ان کے لہجے میں سختی کم اور خدمت کا جذبہ زیادہ ہوتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ پیاس بجھانا صرف مزدوری نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ انہیں محض مزدور نہیں بلکہ عزت و محبت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے کندھوں پر رکھی مشک گویا دعاؤں، محنت اور خلوص کا استعارہ ہوتی تھی۔
وقت جب اپنے قدم آہستہ آہستہ آگے بڑھاتا ہے تو بہت سے چہرے، آوازیں اور کردار گردِ زمانہ میں کہیں اوجھل ہو جاتے ہیں، مگر یادوں کے کسی نیم روشن کونے میں پھر بھی سانس لیتے رہتے ہیں۔ ہمارے بچپن کے گلی کوچوں میں بھی کچھ ایسے لوگ بستے تھے جو بظاہر وہ معمولی لوگ تھے مگر زندگی کی روانی انہی کے دم سے قائم تھی۔وہ کندھے پر مشک اٹھائے، پسینے میں بھیگی پیشانی اور رزقِ حلال کی خوشبو لیے وہ گھروں تک صرف پانی نہیں بلکہ سکون بانٹتا تھا ۔زندگی کی ٹھنڈک پہنچایا کرتا تھا۔
ہمارے بچپن کے زمانے میں جب ہر گھر میں نلکوں کی فراوانی نہ تھی، جب موٹروں اور واٹر سپلائی کا جال ہر گلی تک نہ پہنچا تھا، تب ایک خاموش مگر نہایت اہم کردار ہماری زندگیوں کا حصہ ہوا کرتا تھا — “ماشکی” یا “بہشتی”۔تپتی دوپہر ہو یا سخت سردی اپنے مقررہ وقت پر آواز گونجتی تھی "ماشکی آیا ” اور ہمارےگھروں کے خالی گھڑے اور برتن بھر جاتے تھے ۔ہر ماہ غالبا” ایک روپیہ مزدوری لینے والا یہ بہشتی کبھی تنخواہ بڑھانے کی بات نہ کرتا ۔بلکہ ہماری امی جان جب ضرورت ہوتی فالتو پانی کی بھی ایک یا دو مشک ڈلوا لیتی تھیں ،جن کا معاوضہ ثواب سمجھ کر نہیں لیا جاتاتھا ۔البتہ ہر عید یا تقریب پر گھر کے مشکی کو کپڑوں کا ایک جوڑا ضرور دیا جاتا تھا ۔
جی ہاں ! ایک ایسا ہی شخص تھا، اللہ دتہ ۔ دبلا پتلا جسم، کندھے پر مشک، ماتھے پر پسینہ اور لبوں پر عجب سی طمانیت۔ وہ روزانہ ہمارے گھر پانی بھرنے آیا کرتا تھا۔ اس کے قدموں کی چاپ گویا صبح کی ایک مانوس صدا ہوتی تھی۔ وہ صرف پانی نہیں لاتا تھا بلکہ گھروں میں سکون، صفائی اور زندگی کی روانی بھی ساتھ لاتا تھا۔پورۓ شہر میں یہ صرف ایک ماشکی نہ تھا کئی دوسرۓبھی ہوا کرتے تھے ۔کوئی سڑکوں پر چھڑکاؤ کرتا تھا تو کوئی تانگہ اسٹینڈ پر گھوڑوں کے لیے پانی کا انتظام کرتا تھا ۔ہر اسکول ،مسجد اور ادارۓ کا اپنا ایک الگ ماشکی ہوا کرتا تھا ۔مجھے اپنے اسکول کا ماشکی سوہنے خان آج بھی یاد ہے ۔ اللہ دتہ شاید زیادہ پڑھا لکھا نہ تھا، مگر اس کے کردار میں ایک عجیب وقار تھا۔ وہ رزقِ حلال کمانے والا محنتی انسان تھا۔ گرمی کی تپتی دوپہروں میں بھی مشک کندھے پر رکھے گلیوں میں گھومتا، کبھی کسی کے دروازے پر صدا دیتا اور کبھی خاموشی سے پانی کے مٹکے بھر کر آگے بڑھ جاتا۔ اس کی محنت میں شکایت کم اور ذمہ داری زیادہ ہوتی تھی۔
آج جب ہر گھر میں موٹر، فلٹر اور ٹینکیاں موجود ہیں تو ماشکی کا کردار قصۂ پارینہ بنتا جا رہا ہے۔ نئی نسل شاید یہ جانتی بھی نہ ہو کہ کبھی پانی پلانے اور گھروں تک پہنچانے والے لوگ معاشرے کے کتنے اہم فرد ہوتے تھے۔ انہیں “بہشتی” اس لیے کہا جاتا تھا کہ پیاس بجھانا گویا جنت کا کام سمجھا جاتا تھا۔چاچا اللہ دتہ جیسے لوگ دراصل ہمارے معاشرے کے گمنام ہیرو تھے۔ وہ کسی اخبار کی سرخی نہ بنے، کسی تقریب میں ان کے گلے میں ہار نہ ڈالے گئے، مگر ان کی محنت نے زندگی کو رواں رکھا۔ ایسے کردار ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ عظمت ہمیشہ بڑے عہدوں یا دولت میں نہیں ہوتی بلکہ دیانت دار محنت اور خدمت میں بھی ہوتی ہے۔وہ بیماری میں بھی اپنا کام نہ چھوڑتے اور نہ کبھی ہڑتال کرتےتھے ۔
آج جب میں ماضی کے دریچے کھولتا ہوں تو چاچا اللہ دتہ کی تصویر ابھرتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اب بھی گلی کے موڑ سے آ رہا ہو، کندھے پر مشک رکھے، چہرے پر تھکن مگر دل میں سکون لیے۔ ایسے لوگ وقت کے ساتھ اوجھل تو ہو جاتے ہیں مگر یادوں کے کنویں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اللہ دتہ کو سلام، جو ہمارے گھر پانی ہی نہیں، ایک پورا زمانہ بھر کر لاتا تھا۔جب چاچا اللہ دتہ بوڑھا ہو گیا تو مشک اٹھانا دوبھر اور مشکل ہونے لگا تو اس نےپہلے قصائی کا کام کیا اور پھر فلفی کی ایک ریہڑی لگا لی اور آخری عمر تک رزق حلال کے حصول کی جدوجہد میں زندگی گزار دی اور پھر ایک دن ثوابوں کی مشک بھر کر دنیا سے اپنے ساتھ بھی لے گیا ۔
آج کے تیز رفتار دور میں شاید اللہ دتہ جیسے لوگ تاریخ کے دھندلکوں میں کھو گئے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ معاشروں کی اصل خوبصورتی انہی خاموش کرداروں سے بنتی ہے۔ وہ لوگ جو بغیر کسی صلے، بغیر کسی شہرت کے دوسروں کی زندگی آسان بناتے رہے۔ وقت بدل گیا، مشک کی جگہ موٹروں نے لے لی، کنوؤں کی جگہ فلٹریشن پلانٹس آ گئے، مگر محنت، خلوص اور دیانت کی وہ خوشبو آج بھی ماضی کی گلیوں میں محسوس ہوتی ہے۔ کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے اللہ دتہ اب بھی کسی پرانی گلی کے موڑ پر کھڑا ہو، کندھے پر مشک رکھےثواب سمجھ کر ، انسانیت کی پیاس بجھانے کے لیے خاموشی سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہو۔ ایسے لوگ مر نہیں جاتے، وہ یادوںمیں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔کاش ہمارۓ حکمران اور پانی فراہم کرنے کے ادارۓ اور ملازمین بھی چاچا اللہ دتہ کی طرح اپنا جائز بل تو ضرور لیں مگر یہ کام ثواب اور انسانیت کی خدمت سمجھ کر انجام دیں اور لوگوں کے لیے سکون اور آسانیاں بانٹ سکیں تو اللہ دتہ کی طرح یہ بھی تاریخ کا حصہ بن سکتے ہیں ۔






