طالبان رجیم اور شیطان الرّجیم دوسری قسط
افکارِ تازہ ڈاکٹر افتخارالحق
گزشتہ قسط جب شائع ہوچکی تو ایران-اسرائیل جنگ شروع ہو چکی تھی جسے یقیناً پاک-افغان تنازعے سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکتا ۔ تاہم فی الوقت گزشتہ واقعاتی تسلسل پر لکھنا بہتر ہوگا ۔ اس اہم موضوع کی کامل تفہیم کیلیے ضروری ہے کہ ماضی کے کچھ مزید صفحات کا مطالعہ کیا جائے ۔
1893 میں ڈیورنڈ لائن نامی ہند-افغان ، اب پاک-افغان ، سرحد جب بنائی گئی تو افغانستان کی برطانوی بھارت سے دشمنی میں شدت آگئی ۔افغان حکمران امیر عبدالرّحمان نے یہ سرحدی لکیر برطانوی طاقت کے سبب قبول تو کرلی لیکن دل سے کبھی نہ مانی کیونکہ اس نے بلوچ اور پشتون قبائل کو دو ملکوں میں بانٹ دیا۔ سو افغانیوں نے اسے بھی مشہور برطانوی پالیسی “ تقسیم کرو اور حکومت کرو”/
Divide n rule
سے تعبیر کیا ۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد انگریزوں کی روانگی کے بعد افغانستان کے لیے پاکستان کی مخالفت آسان تھی جس کی شروعات اس نے ہماری اقوامِ متحدہ میں رکنیت کی مخالفت کے ذریعے کی ۔ پٹھان اور بلوچ قبائل کی تقسیم سے کسی کو انکار نہیں لیکن شاید افغانستان قصداً بنگال اور پنجاب کی تقسیم سے صرفِ نظر کرتا آیا ہے ۔
بھارت نے افغانستان کے اس پاکستان ۔مخالف رویے کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مشہور مفکر چانکیہ کے منڈالہ فلسفہ پر عمل کرنا شروع کر دیا : ہمسایہ ملک ہمارا دشمن ہے اور اس کا ہمسایہ ہمارا دوست ۔ کانگرسی رہنما جو پاکستانی سیاسی قیادت کے مقابل کہیں زیادہ زیرک ، تجربہ کار اور اپنے ملک سے مخلص تھے ۔ یہاں صرف ٹی بی کی آخری سٹیج سے لڑتے قائدِ اعظم جس پائے کے سیاستدان تھے باقی اس کا عشرِ عشیر ہی تھے یا پھر بڑی تعداد میں زمیندار طبقے سے تعلق رکھنے والے سیاستدان جو رفتہ رفتہ ایوانِ اقتدار پر پنجہ جمانے میں مصروف رہے ۔بھارت نے چانکیہ کی حکمتِ عملی کو کامیابی سے استعمال کر کے اپنے نئے آزاد ہمسائے کے ہمسائے افغانستان کو پاکستان کا مستقل دشمن بنا دیا اور دشمنی کا یہی بیج آہستہ آہستہ پختونستان کا تناور درخت بنتا گیا ۔اس دشمنی کے اولین ترین ثبوتوں میں سے ایک یہ تھا کہ افغان حکومت نے قائدِ اعظم کی فری ٹرانزٹ ٹریڈ
Free Transit Trade
کی پیشکش ٹھکرادی کیونکہ یہ پختونستان کے مطالبے سے دستبرداری کے ساتھ مشروط تھی ۔
بھارت نے اس منظرنامے کا پورا فائدہ اٹھایا ۔ لیاقت علی خان کے ماسکو کے دورے کی منسوخی کے بعد اس نے سوویت یونین سے پینگیں بڑھاتے ہوئے 1950 کی دہائی میں بھارت۔ افغان-سوویت کی پاکستان-مخالف ایک جارحانہ مثلث تشکیل دینے کا مکروہ عمل جاری رکھا ۔ افسوس ایسے میں پاکستان کوئی متوازن خارجہ پالیسی نہیں اختیار کر سکا ورنہ ایک زبردست علاقائی توازن اس کے حق میں ابھر سکتا تھا ۔
افغانستان کا یہی رویہ آنے والی دہائیوں میں مختلف مواقع پر قائم رہا ۔ صرف 1972 سے 1977 کے قلیل وقفے میں اس جمود کی برف ذوالفقار علی بھٹو اور سردار داؤد کی کاوشوں سے وقتی طور پر کچھ پگھلی لیکن یہ عمل چراغ کے بجھنے سے پہلے یک دم بھڑک اٹھنے کے مترادف تھی جسے میڈیکل سائنس میں
Lucid interval
کہا جاتا ہے ۔اس اصطلاح کا ذکر اس لیے کرنا پڑا کہ سوویت یونین جو ایک عرصے سے افغانستان میں سرمایہ کاری کر رہا تھا ، نے بالآخر دسمبر 1979 میں اپنی کٹھ پتلی افغان حکومت کی دعوت پر افغانستان میں اشتراکی انقلاب کے لیے بھرپور فوجی حملہ کر دیا اور پاک-افغان دوستی کی تمام شمعیں یکدم گُل ہو گئیں ۔
جاری ہے






