بہاول جمخانہ کلب بہاولپور کے انتخابات
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخا ن
جم خانہ دراصل ایک عمارت نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک تصور ہے ۔یہ وہ جگہ ہے جہاں شہر کی اشرافیہ کی تھکن اتارنے کا انتظام کیا جاتا ہے پورے دن کی مصروفیت کے بعدانہیں چند خوشگوار لمحے میسر آتے ہیں ۔جہاں گفتگو شور نہیں بنتی او روقت ذرا آہستہ چلنے لگتا ہے ۔تاریخ میں جم خانہ تفریح ،صحت ،میل جول اور تہذیبی شائستگی کی علامت رہا ہے ۔یہ ایسا سماجی ادارہ ہے جو لوگوں کی مصروف زندگی میں توازن پیدا کرنے کے لیے وجود میں آیا ۔شہر کی مرکزی جگہ پر واقع بہاول جم خانہ کلب بہاولپور کی ایک طویل تاریخ ہے جسے ریاست بہاولپور کےعظیم نوابین نے بہاول کلب کے نام سے قائم کیا تھا اور مقصد صرف مخصوص اور ایلیٹ طبقہ کو مختلف آوٹ ڈور اور ان ڈور کھیلوں کی تفریح فراہم کرنا تھا ۔اسی لیے بہاول کلب سے بیڈ منٹن کے عالمی سطح کے کھلاڑی پیدا ہوے۔ میرے بینک کے ساتھی حسن الرحمان لودھی تو بیڈ منٹن کے عالمی ایمپائر بھی رہے ۔مگربدلتے وقت اور جدید تصورات کے ساتھ ساتھ یہ بہاول کلب سے بہاول جم خانہ کلب بہاولپور بن گیا ۔اور وقت اور جدید ضروریات کی باعث ہی "جم خانے "کا تصور اور کردار بھی بدلتا گیا ۔کھیل کے میدان آہستہ آہستہ گفتگو کے کمروں میں بدل گئے۔ اور صحت مند سرگرمیوں کی جگہ میل ملاپ اور باہمی تعلقات کا نشان بن گئی ۔بہر حال کسی بھی شہر کا جم خانہ وہاں کی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے اور شناخت بھی سمجھا جاتا ہے ۔ آج بہاول جم خانہ کلب بہاولپور صرف آرام گاہ یا صحت گاہ ہی نہیں رہا بلکہ یہ علاقائی شناخت کی علامت بھی بن گیا ۔ایک ایسا مہنگا دائرہ جس میں داخلہ ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا لیکن ا س کی خواہش اور خواب ضرور دیکھا جاتا ہے۔
پچھلے کئی ماہ سے بہاول جم خانہ کلب بہاولپور کے انتخابات کا شور برپا رہا ہے بھاگ دوڑ اور جوڑ توڑ کی ایک ریس سی لگی رہی ۔کہتے ہیں کہ جب سیاست میں کچھ کرنے کے مواقع نہ ہوں تو سیاستدان اپنا رخ اور اپنی مصرو فیت سماجی میل جول برقرار رکھنے ایسے ہی سماجی اور فلاحی اداروں کی سیاست کی جانب موڑ دیتے ہیں ۔یہی اس الیکشن کے دوران دیکھا گیا کہ اس الیکشن کو تقریبا” تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈران نے اپنی اپنی مقبولیت اور اپنا اپنا اثر رسوخ دکھانے کو موقع سمجھا اور جم خانے کے الیکشن کی گہما گہمی کسی بھی بڑے الیکشن سے کم محسوس نہ ہوتی تھی ۔یہ الیکشن بڑی تلخیوں ،مکالموں،جھگڑے اور باہمی تکرار جیسے کچھ ناخوشگوار واقعات پر گذشتہ روز اختتام پذیر ہوا ۔ایسے ناخوشگوار واقعات سےہر بہاولپوری کا دل دکھتا ہے کیونکہ ایسی کوئی بھی تلخی ہماری اور ہمارے شہر کی روایت ہرگز کبھی نہیں رہی ہے ۔بہاولپورشہر ہمیشہ سے ایک پرامن ،محبت اور باہمی یک جہتی کا نشان اور علمبردار رہا ہے اور پرامن ماحول قائم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
آج جیتنے والے وکٹری کا نشان بناتے جشن مناتے دکھائی دیتے ہیں ۔عوامی سیاسی رہنما جو اس الیکشن کا حصہ بنے وہ اس جیت کو اپنی اپنی سیاسی شخصیت اور سیاسی سوچ کی کامیابی سمجھتے ہیں ۔چوہدری وحید ارشد کی کامیابی یقینا” ایک اچھی روایت ثابت ہوگی ان کی جیت میں ان کی سیاسی وابستگی کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت ،ذاتی تعلق اور ملنساری کا بھی بڑا دخل دکھائی دیتا ہے ۔ان کے ساتھ ساتھ بورڈ آف گورنرز کے چارسیٹوں پر نوجوان اور تعلیم یافتہ شیخ ارباض راشد ،سید مومن شہباز گیلانی ،شاہ ویز خان لودھی اور حافظ حارث حسین بھی ممبر منتخب ہوے ہیں ۔جو یقینا” بہت باصلاحیت اور پرعزم ہونے کی وجہ سے بہاول جم خانہ کلب بہاولپور کے معاملات کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ بہر حال چوہدری وحید ارشد سمیت تمام جیتنے والوں کو بہت بہت مبارکباد قبول ہو کہ ان کی شخصیت اور سوچ کو بہاول جم خانہ کلب بہاولپور کے لیے پسند کیا گیا ہے ۔اور امید ہے کہ کامیاب عہدیداران اس کی بہتری کے لیے اپنے وعدوں کو ضرور پورا کریں گے ۔آج ہر جیتنے والی سیاسی جماعت اسے اپنی کامیابی اور مقبولیت سمجھتی ہے ۔جبکہ ایسا ہرگز نہیں ہے یہ الیکشن ایک بہت ہی مخصوص طبقہ اور گنتی کے ووٹوں پر لڑا گیا ہے جہاں صرف سماجی و سیاسی وابستگی کو ہی نہیں بلکہ ذاتی سوچ اور شخصیت کو بھی معیار بنایا گیا ہے ۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ اس سماجی ذمہ داری کو سیاست سے الگ ہی رکھ کر ہی سوچا جاتا ۔
آج ہماری علاقائی سیاست ایک عجیب دوراہے پر کھڑی ہے جہاں عوامی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں مگر سیاسی سرگرمیوں کا رخ بسا اوقات ان میدانوں کی طرف مڑ جاتا ہے جہاں ہجوم کم اور شور زیادہ ہوتا ہے ۔ایسے میں بہاول جم خانہ کلب بہاولپور کے انتخابات کو غیر معمولی اہمیت دینا بھی اسی رجحان کی ایک مثال ہے ۔بہاول جم خانہ کلب بہاولپور کے حالیہ انتخابات میں علاقے کی نامور سیاستدانوں کی شرکت نے یقینا” اس سرگرمی کو منفرد اور اہم خبروں کا حصہ بنادیا ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ اس سیاسی دلچسپی کا فائدہ عام آدمی کو کہاں پہنچتا ہے ؟ بہاول جم خانہ کلب بہاولپور ایک معزز اور منفرد سماجی ادارہ ضرور ہے مگر اس کے انتخابات نہ مہنگائی کم کرتے ہیں اور نہ روزگار کے مواقع بڑھاتے ہیں اور نہ ہی عوام کے روزمرہ مسائل میں کوئی آسانی پیدا کرتے ہیں ۔عام شہری کی ترجیحات سادہ اور واضح ہیں کہ اسے سستی روٹی ،بہتر علاج ،معیاری تعلیم اور باعزت روزگار چاہیے اور جب وہ دیکھتا ہے کہ سیاست کا محور و مرکز کلبوں اور محدود حلقوں تک سمٹ رہا ہے تو اس کے دل میں یہ احساس اور بھی گہرا ہوجاتا ہے کہ شاید اب اس کی زندگی کے بنیادی مسائل سیاسی ایجنڈے کا حصہ نہیں رہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ اب بہاول جم خانہ کلب بہاولپور اور اس کےیہ کامیاب عہدیدار اس شہر کی ترقی اور فلاح کے لیے کیا خدمات انجام دیتے ہیں ؟
یہ شہر آج عجیب سی خاموشی اوڑھے ہوےہے ۔گلیوں میں مہنگائی کی دھول ہے ،دروازوں پر بےیقینی کی دستک اور آنکھوں میں ٹریفک قوانین کا خوف تو پیرا فورس کے سوالوں کی لمبی قطار مگر شہر کے ایک کونے میں ،گھاس کے سبز لان ہموار ہیں اور قہقہوں کی گونج میں ووٹ ڈالے اور گنے گئے ہیں شاید اسے ہی "جم خانہ "کہتے ہیں ۔بہاول جم خانہ کلب بہاولپور کے الیکشن کو مقبولیت کا پیمانہ سمجھنا سیاست کے دائرے کو محدود کرنے کے مترادف ہے ۔اصل مقبولیت گلیوں ،محلوں ،دیہات اور شہروں کے مسائل حل کرنے سے ہی ناپی جاسکتی ہے ۔جہاں لوگ روزمرہ کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں اور وہ سیاسی قیادت سے محض وعدے نہیں عملدرآمد بھی چاہتے ہیں ۔اگر سیاست کو واقعی عوامی بنانا ہے تو ان اداروں تک محدود رہنے کی بجاۓ عام عوام کے درمیان آنا ہوگا ۔اداروں اور کلبوں کی فضا خوشگوار ہو سکتی ہے مگر قوموں کا مستقبل لان اور ہال میں نہیں ہوتا بلکہ عوام کے دکھ درد کو سمجھنے اور بانٹنے سے سنورتا ہے ۔ہمارے سیاستدان جتنی جلدی اس حقیقت کو تسلیم کرلیں اتنا ہی اچھا ہے جو یقینا” ہماری سیاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ کم کر سکتا ہے ۔جم خانے کا حقیقی کردار تب ہی بحال ہوتا ہے جب وہ اپنے شہر سے جڑ جاےخود کو جم خانہ یا کلب نہیں بلکہ خدمت کا حصہ سمجھے اور تفریق کی بجاےتعلق کا استعارہ بنے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟یقینا” یہ فیصلہ بہاولپور جم خانہ کلب کی نئی اور پرعزم قیادت نے کرنا ہے کہ تمام تر وابستگیوں سے بالا تر ہوکر اس شہر کے مسائل حل کرنے کے لیےوہ کیا اور کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں ؟ یاد رہے کہ جم خانے گلیوں کے مسائل حل نہیں کرسکتے مگر جم خانہ کیونکہ مکالمے کی جگہ ہے اس لیے گلیوں کی آواز ایوانوں اور ارباب اختیار تک پہنچا سکتا ہے اور کبھی کبھی مسئلے کا حل یہی ہوتا ہے کہ آواز درست جگہ تک پہنچ جاۓ ۔ جم خانہ ایک اچھی علامت بن سکتا ہے اگر وہ بند دروازۓ کی بجاۓ کھڑکی بن جاۓ اور وہاں سے فیصلےنہیں خدمت کی ہوا آنے لگے ۔






