دکھی انسانیت اور فلاحی خدمت کرنے والے لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں

44

احساس کے انداز

تحریر ؛۔ جاویدایازخان

امریکہ میں سب سے مشہور براڈکاسٹر اوپرا ونفری ہیں۔  اس نے اپنی ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تو لوگوں نے فٹ بال اسٹیڈیم میں اس کے اعزاز میں ایک الوداعی تقریب منعقد کی لیکن یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس نے ایک چوتھائی صدی تک 65,000 غریب لوگوں کی کفالت کی وہ بھی بغیر کسی کو بتاے ٔ    ۔ان میں سے بہت سے لوگ اسٹیڈیم میںاس تقریب میں  شریک ہوئے اور 450  لوگ  تو موم بتیاں لے کر آئے.تھے .!    ان میں سے پانچ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر  صاحبان تھے جنہوں نے اس کا خلاصہ بیان کرتے ہوئے ایک مختصر  خطبہ بھی دیا ۔   

یہ ہجوم اسکی فلاحی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے جمع ہوا تھا ۔”اگر یہ اپرا ونفری نہ ہوتی تو اب ہم آج اس سے کسی مختلف جگہ پر ہوتے…”!!!  اب اصل سوال  تو  یہ ہے  ؟ کہ   کیا  ایک شخص 65 ہزار  

اس نے یہ کارنامہ کیسے انجام دیا  اور اپنی زندگی کو کیسے ان لوگوں کے لیے وقف کر دیا  ؟یہ یقینا” ایک طویل داستان ہوگی ۔ مشہور فلاسفر سقراط نے کہا تھا کہ ” انسانیت کوئی مذہب نہیں ہے، بلکہ ایک درجہ ہے جس تک کچھ لوگ پہنچتے ہیں” بےشک یہ انسانیت کی بہت بڑی خدمت تھی ۔ سوشل میڈیا پر اس خبر کے آنے کے بعد ایک دھوم سی مچ گئی ۔اوپرا ونفری کی تصویر کے ساتھ ہر جگہ اسے شیئر کیا جارہا ہے ۔پوری دنیا کے لوگوں نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ٹاک شو ز کی اس ملکہ نے سماجی بہبود کا بےمثال کارنامہ کرکے تاریخ میں اپنے آپ کو امر کر لیا ہے ۔کہتے ہیں کہ ٹاک شوز کی بےتاج ملکہ اوپرا ونفری نے ۱۹۵۴ء میں ایک نہایت غریب اور مفلس سیاہ فام  گھرانے میں آنکھ کھولی  اور زندگی کی تلخیوں کے باوجود اپنی محنت کا سفر جاری رکھا ۔۲۰۱۱ء میں اپنی سماجی خدمات کے اعتراف میں اعزازی اسکر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ۔انہوں نے ٹاک شوز  کی ملکہ رہنے کےساتھ ساتھ فلم سازی اور ادکاری کے جوہر بھی دکھاے ٔ ۔اب وہ ایک کیبل ٹی وی چینل چلا رہی ہیں ۔کہتے ہیں کہ جب اوپرا ونفری نے اپنے ٹی وی ہوسٹنگ کے کیریر کا آغاز کرنا چاہا  تو اس کے کے ڈائریکٹر نے اسے صاف کہہ دیا تھا کہ وہ ٹی وی پر نہیں آسکتی کیونکہ وہ بہت جذباتی عورت تھی اور بات بات پر اس کے آنسو نکل پڑتے تھے ۔لیکن اس نے ہمت نہ ہاری  اور جب اوپرا ونفری نے ٹی وی شو شروع کیا تو وہ دنیا کے تمام ٹی وی شوز میں مقبول ہو چکا تھا ۔آج وہ دنیا کی امیر ترین سیاہ فام امریکی خاتون ہے ۔اوپراونفری کی وہی جذباتیت اور حساسیت  اس کی خصوصیت بن کر اسے شہرت کی بلندیوں پر لے گئی ۔جہاں اسکی شخصیت کی کمزوریاں ہی اسکی خوبیاں بن گئیں ۔اس بات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ” نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی “لوگوں کی باتوں پر دھیان نہ دو اور اپنی کسی کمزوری یا خوبی کو نہ چھپاو بلکہ اس پر شکر ادا  کرو کہ قدرت نے تمہیں کیسا بنایا ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی جن چیزوں کو ہم اپنی کمی یا کمزوری سمجھتے ہیں وہی ہمیں باقیوں سے منفرد کرتی ہے اسی لیے اوپراونفری کی حساس طبیعت اور فطرت ہی اسکی کامیابی ضمانت بن گئی ۔ دنیا کی بڑی بڑی شخصیات سے  اوپرا ونفری کے کئے گئے  دلیرانہ انٹرویو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کرچکے ہیں  وہ  بھوری آنکھوں ،سیاہ بالوں ،اور بایاں ہاتھ استعمال کرنے والی ایسی سیاہ فام امریکی ہیں جو دنیا میں گلیمر ،خوبصورتی اور بےساختہ پن کے حوالوں سے خوب شہرت رکھتی ہیں ان کے بے تکلفانہ سوالات کے سامنے بڑے بڑے لوگ بےبس نظر آے ٔ ہیں  اور بڑے بڑے راز افشاکرنے پر مجبور ہو گئے ۔۔ٹاک شوز کی کامیابی کی ضمانت اوپرا ونفری کی جد وجہد اور کامیابی کی کہانی بڑی طویل  اور دلچسپ ہے جسے کسی ایک مضمون میں سمونا  یا بیان کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔وہ بیک وقت ٹی وی میزبان ،پروڈیوسر ،فلم ساز ،ادکار ،لکھاری ،آپ بیتی نگار ،صوتی ادکار ،صحافی ،تشویقی خطیب ،پوڈ کاسٹر اور کاروباری شخصیت کے ساتھ  ساتھ ایک   ستر سالہ منفرد سماجی ورکر  اور رہنما بھی ہیں اور امریکی ا کادمی براے سائنس و فنون کی رکنیت بھی رکھتی ہیں  ۔ان ہر شعبہ زندگی میں مثالی کارکردگی ایک بڑھ کر ایک  ثابت ہوئی ہے۔اور ہر انہیں شعبہ میں مختلف ایوارڈز اور اعزازت سے نوازا گیا ہے ۔جو  آج پوری دنیا کی خواتین کے لیے ایک رول ماڈل   بن چکی ہیں ۔

آج دنیا میں اوپرا ونفری کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں رہا ہے ۔وہ گولڈن گلوبلائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کا اعزاز حاصل کرنے والی ہالی وڈ کی پہلی سیاہ فام خاتون ٹاک شوز کی ملکہ ،ٹی وی پروڈیوسر،اور خواتین کے لیے رول ماڈل اوپراونفری ہالیود کی ایک جانی مانی شخصیت بن کر ابھری ہیں ۔وہ صرف ایک میڈیا پرسن ہی نہیں بلکہ سماجی شخصیت کی حیثیت سے بھی اپنی منفرد پہچان رکھتی ہیں ۔وہ اب تک تین بلین ڈالر سے زائد رقم سماجی بہبود کے سلسلے میں تعلیمی اداروں پر خرچ کرچکی ہیں ۔تقریبا” تین ارب ڈالر کی جائداد کی مالک اوپراونفری دیگر  ہالی وڈ ستاروں کی طرح ایک بہت ہی   عالیشان گھر میں رہتی ہے جس کی مالیت آٹھ ملین ڈالر سے زیادہ ہے ۔قدرت کے خوبصورت نظاروں میں گھرا  ہوا اوپرا ونفری کا نیا گھر جدید طرز تعمیر کا شاہکارہے ۔جبکہ اس کے کاروبار  ا  ور آمدنی  کا شمار نہیں ہے ۔

اوپراونفری نے اپنی جدوجہد اور کامیابیوں سے دنیا بھر کی خواتین کو یہ پیغام دیا ہے کہ انسان کی شخصیت میں موجود  ذ اتی کمزوریاں  جدوجہد کے راستے میں روکاوٹ نہیں بنتیں  بلکہ وہی کمزوریاں دراصل خوبیوں میں بدلی جاسکتی ہیں  بلکہ وہ کمزوریاں دراصل ان کی  وہ  خوبیاں ہی ہوتی ہیں جو منظر عام پر آنے کی منتظر ہوتی ہیں ۔آپ کو وہ ہی نظر آنا چاہیے جو آپ ہوتے ہیں ۔اپنی اچھائی ،خوبی یا کمزوری کو مت چھپاؤ کیونکہ وہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں جو رب کی جانب سے ودیعت ہوتی ہیں ۔اور جب اللہ توفیق دے تو سماجی خدمت کو اپنا شعار بناؤ  کیونکہ یہی بھلائی اور فلاح کا راستہ ہے ۔انسانیت کی خدمت  اور دکھی انسانیت کے لیے کام کرنے والے لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔زندگی صرف ایک مرتبہ ہی ملتی ہے ۔اسے کسی احساس کمتری یا برتری کی وجہ سے ضائع نہ کریں ۔ دنیا کے کامیاب  ترین لوگوں  میں شمار کی وجہ یہی ہے کہ آپ جو بھی ہیں دنیا کے سب سے خوبصورت اور باصلاحیت انسان ہیں ۔اوپراونفری  نے اپنی تاریخی کامیابیوں  اور ترقی سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ صلاحیت ،ہمت ،محنت،طاقت اور جدوجہد کا راستہ کبھی نہیں روکا جاسکتا ۔انہوں نے ثابت کیا کہ جن میں ہمت نہیں ہوتی وہ ہمیشہ وضاحت کے لیے کوئی نہ کوئی فلسفہ اور بہانہ تلاش کر لیتے ہیں اور جن میں ہمت ہوتی ہے وہ کر گزرتے ہیں ۔جیت کے لیے تو بس جیت ہی ضروری ہوتی ہے ۔ انہوں نے جو بھی سوچا وہ کربھی دکھایا ۔ جس کے لیے وہ یقینا” قابل تحسین  ہیں  ۔ایسے ہی لوگ ہیں جو  صرف تاریخ کے اوراق  ہی میں ہی نہیں بلکہ لوگوں کے دلوں میں بھی زندہ رہتے ہیں۔  

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.