اداریہ

22

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی فضائی حادثے میں جاں بحق ،عالمی رہنمائوں کا اظہارِ تعزیت

دنیا میں پائیدار امن کے لئے سرگرم رہنے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی فضائی حادثے میں جاں بحق ہوگئے ،مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کی آواز اٹھانے والے ظلم وجبر کے خلاف ڈٹ جانے کا استعارہ بن کر عالمی سیاسی افق پر جگمگانے والے ایرانی صدر کے انتقال کی خبر غم پوری امت مسلمہ کے لئے درد ناک بنی ۔سعودی عرب اور پاکستان سمیت عالمی برادری نے انکے انتقال پر غم کا اظہار کیا ہے ۔فضائی حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی اور وزیرخارجہ حسین امیر عبداللہیان دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔گزشتہ صبح حادثے کا شکار ہیلی کاپٹر کا ملبہ ملا تھا جس کے بعد ایرانی صدر اور ہیلی کاپٹر میں سوار افراد کے بچ جانے کی امیدیں دم توڑ گئی تھیں۔ایرانی وزیرخارجہ ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے ہیں۔سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ’صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ اور ہیلی کاپٹر میں سوار تمام مسافر حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔‘بعدازاں ایرانی حکام نے بھی ابراہیم رئیسی اور ساتھیوں کی موت کی تصدیق کردی ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق ہیلی کاپٹر میں صدر ابراہیم رئیسی، وزیر خارجہ امیر عبداللہیان، مشرقی آذربائیجان کے گورنر مالک رحمتی، تبریز کے امام سید محمد الہاشم،صدر کے سکیورٹی یونٹ کے کمانڈر سردار سید مہدی موسوی، باڈی گارڈ اور ہیلی کاپٹر کا عملہ موجود تھے۔فضائی حادثے میں جاں بحق ایرانی صدر63 سالہ ابراہیم رئیسی 2021 سے ایرانی صدر کے منصب پر فائز ہیں۔ابراہیم رئیسی 1960 میں شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے اور صرف صرف 20 سال کی عمر میں انہیں تہران بالمقابل واقع شہر کرج کا پراسیکیوٹر جنرل نامزد کیا گیا تھا۔انہوں نے 1989 سے 1994 تک تہران کے پراسیکیوٹر جنرل کی خدمات انجام دیں جس کے بعد 2004 سے 2014 تک عدالتی اتھارٹی کے ڈپٹی چیف اور پھر 2014 میں نیشنل پراسیکیوٹر جنرل رہے۔63سالہ ابراہیم رئیسی 2021 سے ایرانی صدر کے منصب پر فائز ہیں۔ابراہیم رئیسی 1960 میں شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے اور صرف صرف 20 سال کی عمر میں انہیں تہران بالمقابل واقع شہر کرج کا پراسیکیوٹر جنرل نامزد کیا گیا تھا۔انہوں نے 1989 سے 1994 تک تہران کے پراسیکیوٹر جنرل کی خدمات انجام دیں جس کے بعد 2004 سے 2014 تک عدالتی اتھارٹی کے ڈپٹی چیف اور پھر 2014 میں نیشنل پراسیکیوٹر جنرل رہے۔ ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہونے کے بعد ملک کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے محمد مخبرکو حکومت کا نیا سربراہ مقرر کردیا۔ایرانی آئین کے مطابق اب نائب صدر محمد مخبر صدارتی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ایران کے آئین کے آرٹیکل 131 کے مطابق اگر کوئی صدر اپنے دورِ اقتدار کے دوران نا اہل قرار دے دیا جاتا ہے یا پھر انتقال کر جاتا ہے تو سپریم لیڈر کی جانب سے تمام تر صورتحال کی تصدیق ہونے کے بعد نائب صدر اقتدار سنبھالتا ہے۔68سالہ محمد مخبر ابراہیم رئیسی کی طرح سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔1955 میں پیدا ہونے والے محمد مخبر ایرانی مصالحت کونسل کے رکن بھی ہیں۔ابراہیم رئیسی نے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد اگست 2021 میں محمد مخبر کو اپنا پہلا نائب صدر مقرر کیا تھا۔محمد مخبر ایرانی حکام کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے اکتوبر2023 میں ماسکو کا دورہ کیا تھا اور روس کی فوج کو میزائل اور مزید ڈرون فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔نائب ایرانی صدر کے پاس دو ڈاکٹریٹ ڈگریاں ہیں جن میں بین الاقوامی حقوق میں ڈاکٹریٹ کا تعلیمی مقالہ بھی شامل ہے، انہوں نے مینجمنٹ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ان حالات میں ایرانی صدر کی فضائی حادثے میں شہادت پرمسلم ممالک کی قیادت سمیت عالمی رہنمائوں کی جانب سے تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے ،پاکستان اور سعودی عرب نے کہا ہے کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایرانی قوم کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔عالمی رہنمائوں نے ایران کے نگران سربراہ کی کامیابی اور انکے لئے نیک تمنائوں کا اظہار کیا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.