اداریہ

19

پیٹرول پھر مہنگا ،عوام کو ریلیف دینے کے خواب چکناچور

پاکستان میں ہوشربا مہنگائی کا سبب پیٹرول ،گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ قرار دیا جارہا ہے اس تناظر میں حکومت ملک میں گیس ،بجلی اور پیٹرول کے نرخوں میں مسلسل اضافہ کررہی ہے ،حکومت کے ان اقدامات سے ملک میں ہرشے مہنگی ہونے پر عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔قوم کو فوری ریلیف دینے کی سردست کوئی صورت دکھائی نہیں ،عوام کو سستا پیٹرول دینے کے سارے دعوے ٹھس ہوگئے ہیں۔حکومت نے ایک بار پھر شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 4 روپے 53پیسے کا اضافہ کردیاہے ۔اسکے علاوہ حکومت نے ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی فی لیٹر 8 روپے 14 پیسے مہنگا کردیا۔حکومت کی جانب سے اضافے کے نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 293روپے 94پیسے فی لیٹر ہوگئی جب کہ ڈیزل کی نئی قیمت290روپے 38پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا ) نے عالمی مارکیٹ میں ہونے والے قیمتوں کے رد و بدل کی بنیاد پر مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتون میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے۔واضح رہے کہ 31 مارچ کو بھی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 9 روپے 66 پیسے کا اضافہ کیا تھا۔یاد رہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر عالمی منڈی میں بُلند قیمتوں کے سبب ملک میں 16 اپریل سے اگلے 15 روز کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں بالترتیب تقریباً ڈھائی روپے اور ساڑھے 8 روپے فی لیٹر اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا حالانکہ امپورٹ پریمیم میں کمی اور شرح تبادلہ میں معمولی بہتری ہوئی تھی۔بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 4 ڈالر اور 4.50 ڈالر فی بیرل کا اضافہ ہوا ہے۔ان اعداد و شمار کے مطابق ملک میں پیٹرول کی قیمت میں 2.50 سے 2.80 روپے فی لیٹر اضافہ ہو سکتا تھا، جبکہ ڈیزل کی قیمت 8 سے 8.50 روپے فی لیٹر تک بڑھ سکتی تھی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پیٹرول کی درآمد پر پریمیم مارچ کے آخری چند دنوں میں 13.50 ڈالر کے مقابلے میں پچھلے دو ہفتوں کے دوران تقریباً 21 فیصد کم ہو کر 10.7 ڈالر فی بیرل رہ گیا ہے اور روپیہ ایک ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 40 پیسے مضبوط ہو کر 278.20 روپے تک پہنچ گیا ہے۔پیٹرول کی موجودہ قیمت 289.41 روپے میں تقریباً 2.80 روپے فی لیٹر اضافہ ہوسکتا تھا، دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں ڈیزل کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے اور پاکستان اسٹیٹ آئل کی جانب سے ادا کردہ درآمدی پریمیم 6.50 ڈالر فی بیرل پر برقرار رہا۔حکام نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت گزشتہ ہفتے تقریباً 4 ڈالر فی بیرل بڑھ کر 98.5 ڈالر ہو گئی تھی، جب کہ ڈیزل کی قیمت 4.50 ڈالر فی بیرل بڑھ کر 102.9 ڈالر ہو گئی تھی۔تقریباً دو ہفتے قبل حکومت نے 15 اپریل کو پیٹرول کی قیمت میں 9.66 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا اور ڈیزل کی قیمت میں 3.32 روپے فی لیٹر کمی کی تھی۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر پہلے ہی 60 روپے فی لیٹر ڈیولپمنٹ لیوی وصول کر رہی ہے، یہ قانون کے تحت زیادہ سے زیادہ حد ہے۔لیوی کی وصولی کی وجہ یہ ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے وعدے کے تحت رواں مالی سال میں حکومت کا پیٹرولیم لیوی کی مد میں 869 ارب روپے وصول کرنے ہیں۔حکومت رواں مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) کے دوران 475 ارب روپے حاصل کر چکی ہے، حکومت کو مالی سال کے آخر تک تقریباً 970 ارب روپے جمع ہونے کی توقع ہے حالانکہ نظرثانی شدہ ہدف اب جون کے آخر تک 920 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، حکومت پیٹرول اور ڈیزل دونوں پر تقریباً 82 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی تھی۔ان حالات میں عوام کو مہنگائی سے چھٹکارا دلانے کے لئے اب تک کسی نے بھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔عوام کو ریلیف ملنے کے سارے خواب چکناچور ہوگئے ہیں۔عوام کو تیز رفتار ترقی کے نام پر گمراہ کیا جاتا رہا ہے ۔قوم کو اب مہنگائی سے نجات دلانا وقت کا تقاضا ہے ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.