ٹیکس نیٹ بڑھانے کیلئے حکومت کی نئی سکیم اور تاجروں کا ممکنہ ردعمل

21

اداریہ

ملک میں معاشی بہتری کے لئے حکومتیں نئی سکیمیں متعارف کرواتی رہتی ہیں۔
نئی حکومت نے بھی ٹیکس نیٹ بڑھانے کے حوالے سے کئی اقدامات کئے ہیں ۔
کچھ نئے منصوبے سامنے آئے ہیں۔
ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی خاطر تاجروں کی کثیر تعداد کو بھی اب اس میں شامل کرنے کے لئے ایک سکیم متعارف کروائی گئی ہے ۔
ابتدائی طور پرچھوٹے تاجروں اور دکانداروں کی رجسٹریشن کے فیصلے پر عملدرآمد کیا جارہا ہے ۔
اس تناظر میں ایف بی آر نے تاجروں کیلئے لازمی رجسٹریشن سے متعلق مسودہ اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے، جس کے تحت ابتدائی طور پرٹیکس کے لئے چھ شہروں میں دکانوں کی رجسٹریشن کی جائے گی۔
تاجروں کی لازمی رجسٹریشن سے متعلق مسودہ اسکیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا
ری ٹیلرز، ہول سیلر، کی رجسٹریشن اسکیم کا اطلاق ابتدائی طور پر 6 بڑے شہروں میں ہو گا۔
ان شہروں میں کراچی، لاہور ، اسلام آباد ، راولپنڈی، کوئٹہ اور پشاور شامل ہیں۔
اسپیشل پروسیجرز فار اسمال ٹریڈرزاینڈ شاپ کیپرز کے نام سے اسکیم پر اسٹیک ہولڈرز سے رائے طلب کی گئی ہے۔تاجروں سے ٹیکس دکان کی سالانہ رینٹل ویلیو کے حساب سے وصول کیا جائے گا
ہر دکاندار کو سالانہ کم ازکم 1200 روپے انکم ٹیکس دینا ہو گا۔
سال 2023کا انکم ٹیکس گوشوارہ جمع کرانے والے تاجروں کو بھی رعائت ملے گی۔
دکانداروں کی رجسٹریشن آئندہ ماہ اپریل سے شروع ہوگی، دکانداروں سے پہلی ٹیکس وصولی 15جولائی سے ہو گی۔
ملک بھر میں ڈیلرز ، ری ٹیلرز،مینوفیکچررز، امپورٹر کم ری ٹیلرز کے لئے ہے
اسٹور دکانیں اورویئرہاؤسزکاروباری دفاترز رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گے۔
ری ٹیلرز اور ہول سیلرزکی رجسٹریشن کرکے ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا
ہر ماہ کی مقررہ 15تاریخ سے پہلے ٹیکس دینے کی صورت میں تاجروں کو 25فیصد رعایت ملے گی۔
قانون پر عمل نہ کرنے کی صورت میں نیشنل بزنس رجسٹری میں زبردستی رجسٹریشن کی جائے گی۔
تاجر دوست ایپ کے ذریعے تاجروں اور دکانداروں کا سنٹرل ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا۔
دوسری جانب وفاقی حکومت نے ملک بھر میں درجنوں کاروباروں کے لئے پوائنٹ آف سیل سسٹم لازمی قرار دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے یکم جولائی 2024 سے نجی سکولوں، اسپتالوں، بڑے پرچون فروشوں، ہوٹلوں، فٹنس سینٹرز سمیت درجنوں کاروباروں کے لیے پوائنٹ آف سیل سسٹم لازمی قرار دے دیا ہے
اس حوالے سے ایف بی ار نے ایس ار او 428 (I)/2024 جاری کر دیا، جس کے تحت پوائنٹ اف سیل سسٹم کیلئے کاروباری اداروں کو ایف بی آر کے منظور کردہ سافٹ ویئر اور ہارڈویئر نصب کرنا ہوں گے
ایف بی آر نے ایسی ڈیوائسز فروخت کرنے والے وینڈرز سے کہا ہے کہ وہ لائسنس کے حصول کے لیے درخواستیں دیں۔
بتایا گیا ہے کہ درجنوں پروفیشنل سروس پرووائڈرز، ہیلتھ کیئر پرووائڈرز ریٹیلرز بشمول مینوفیکچرر کم ریٹیلرز، ہول سیل، ریٹیلرز، امپورٹ کم ریٹیلرز کو ان کاروباروں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے
جہاں پوائنٹ اف سیل لازمی ہے، ایف بی ار نے فارن ایکسچینج کمپنیوں، کلبز، نجی تعلیمی اداروں نجی ہسپتالوں، ریسٹورنٹس، ہوٹلز، گیسٹ ہاؤسز، شادی ہالوں، کوریئر سروسز، بیوٹی پارلرز، ہیلتھ کلبز، میڈیکل سروسز لیبارٹریوں، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور پرچون سروشوں کو اپنی تنصیبات پر پوائنٹ اف سیل نصب کرنے کی ہدایت کر
دی جو ایف بی ار کے نظام سے منسلک ہوگا۔اس طرح ملک میں ٹیکس نیٹ کو وسعت مل سکے گی ۔
مالیاتی نظم ونسق کو بہتر کرنے کے حوالے سے بھی ایک اہم پیش رفت ہے
صاحب استطاعت اور ٹیکس دینے کے اہل افراد کو نظر انداز نہ کرنا ہی ملکی معیشت کو استحکام دینے کا سبب ہو گا ۔
بلاشبہ ٹیکس سے بچنے کی روایت نے ملکی معیشت کو تںباہی کے راستے پر چلنے دیا
اسے نئی حکومت نے روکنے کی سنجیدہ کوشش کر ڈالی ہے
تاجروں سے مناسب اور قابل عمل ٹیکس کی وصولی کا دائرہ بڑھائے جانے سے ملکی معیشت کو سہارا مل سکے گا ۔
اس تجربے کی کامیابی کے بعد مزید شہروں میں بھی ٹیکس نیٹ کے دائرہ کو پھیلانے کی ضرورت ہوگی ۔
اس سکیم کے آغاز پر کسی قسم کی مزاحمت کا مطلب ملکی وسائل اور سہولیات حاصل کرنے والے اپنے حقوق تو لینے کی خاطر سڑکوں پر آجاتے ہیں
لیکن وطن کے مفاد میں فرض کی ادائیگی میں لیت ولعل سے نکام لیتے ہیں۔
حکومت کی ہر نئی سکیم پر تاجروں کی جانب سے ہمیشہ منفی ردعمل آتا رہا ہے
کئی طرح کے ٹیکس ختم کرکے تاجروں کے لئے موزوں ٹکیسشن کا نظام بہتر بنانے کی بھی ہمیشہ ضرورت رہی ہے ۔
تاجروں کے ممکنہ ردعمل کے سبب حکومتیں پائیدار ٹیکس اصلاحات کے نفاذ سے پیچھے ہٹتی رہی ہیں ۔
اب پھر ایک نئی سکیم کے آنے پر تاجروں کی جانب سے اسی طرح کے منفی ردعمل کی توقع ہے
تاہم اب ایسا نہیں ہونا چاہئے
یہی ملک کے مفاد میں ہے ۔تاجروں سمیت تمام شہریوں پر لازم ہے کی ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے اپنے فرض کی ادائیگی سے پیچھے نہ ہٹیں ۔
کسی بھی نئی سکیم کی بلاجواز مخالفت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔

25/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-4-scaled.webp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.