عوامی بہبود کےلیےحکومت کو اسٹیک ہولڈرز کا تعاون درکار

22

اداریہ

وفاقی حکومت مکمل ہوگئی ہے ۔نئی حکومت نے فوری طور پر عوام کی بہبود کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی ہدایت کردی ہے ۔
تیرہ ارکان قومی اسمبلی اور 2 سینیٹرز کو وفاقی کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے جبکہ 3 غیر منتخب افراد بھی کابینہ کا حصہ بنے ہیں ۔غیر منتخب ارکان میں محسن نقوی کو وزارت داخلہ کاقلمدان دیا گیا ہے ۔
غیر منتخب ارکان میں محمد اورنگزیب، محسن نقوی اور احد چیمہ شامل ہیں۔ادھر وزیراعظم شہباز شریف کہتے ہیں کہ غریب عوام کو پیسنے والی مہنگائی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ غریب آدمی مہنگائی کے بوجھ تلے پس گیا ہے، اشرافیہ کو سبسڈی دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
ہر چیلنج ایک موقع ہوتا ہے، چیلنج سے نمٹنے کے لئے محنت سے کامیابی ملے گی اور تاریخ میں سنہرے حروف میں ہمارا نام لکھا جائے گا
ان کا کہنا تھا کہ محدود وسائل میں ان کو بڑھانا ہے، انکم ٹیکس اور کسٹم کے ایماندار افسران قابل تعریف ہیں اور کالی بھیڑیں ناسور ہیں، برآمد کنندگان، نوجوانوں کو کاروبار کے لیے وسائل فراہم کریں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کے لیے جامع معاشی منصوبہ بندی کریں گے
ایس آئی ایف سی کا غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں راغب کرنے میں اہم کردار ہے
رکاوٹوں اور تاخیری حربوں سے قوم کا نقصان ہوتا ہے
میکنزم کو موثر اور فعال بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ایک دوست ملک کے سفیر سے آج ملاقات کے دوران کہا کہ میں آج قرض کی نہیں سرمایہ کاری کی بات کروں گا۔ ہم نے قابل عمل منصوبے بنانے ہیں
ہمیں اپنے ملک کے لیے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، ہم نے ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کرنا ہے
ـہم نے سابق دور حکومت میں فزیبلٹی بنائی تھی
نگران حکومت نے اس پر عمل کیا، 15 مارچ کو اس کی بولی ہوگی لیکن اس کے لیے مجبورا ایک مہینہ بڑھانا پڑا۔ پی آئی اے کا خسارہ 840 ارب روپے ہے
مئی تک اس کی نجکاری کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کڈنی لیور ہسپتال تقریباً 120 ارب روپے کا بنا تھا، 800 ارب روپے سے زراعت، تعلیم، صحت سمیت مختلف شعبوں میں انقلاب لانا ہوگا
ہمیں تاخیر نہیں کرنی چاہیے، آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا۔قبل ازیں وزیراعظم نے کابینہ شرکا سے گفتگو میں
نئی منتخب حکومت کا روڈ میپ واضح کیا۔
کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر کیلے اور پیاز کی برآمد پر 15 اپریل 2024 تک پابندی
عائد کرنے کی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے وزارت داخلہ کی سفارش پر نیدرلینڈز کے شہری
محمد اورنگزیب کی پاکستانی شہریت دوبارہ حاصل کرنے کی درخواست منظور کرنے کی اجازت دے دی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت انسداد منشیات کی سفارش پر میجر جنرل عبدالمعید ہلال
امتیاز ملٹری کی بطور ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس تعیناتی کی منظوری دےدی۔
وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں ہدایت جاری کہ ملک میں اشیائے خور و نوش
اور روز مرہ کی دیگر اشیا کی قیمتوں کے کنٹرول کے لیے فی الفور ایک کمیٹی قائم کی جائے
جو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کڑی نگرانی کرے گی۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف
سخت کارروائی کی جائے اس حوالے سے کسی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر کیلوں اور پیاز کی برآمد پر 15 اپریل 2024 تک پابندی عائد کرنے کی منظوری دے دی۔
یہ پابندی رمضان المبارک کے مہینے کے دوران کیلوں اور پیاز کی مارکیٹ میں
وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے عائد کی گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ
مٹھی بھر اشرافیہ 90 فیصد وسائل پر قابض ہے
اشرافیہ کیلئے سبسڈی کا کوئی جواز نہیں، ٹیکس اور بجلی چوری روکنا ہوگی، رمضان المبارک کے دوران اشیا کی مناسب قیمتوں میں فرا ہمی اور ان کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ نو منتخب وفاقی وزرا کو مبارکباد پیش کرتا ہوں
ہم سب کے لیے یہ عزت اور اعزاز کا لمحہ ہے، انہوں نے کہا کہ قوم کی خدمت کے لیے منتخب ہوئے ہیں
اللہ تعالیٰ ذمہ داری پوری کرنے کی طاقت عطا فرمائے، ہم سب مل کر
شبانہ روز محنت سے عوام کی خدمت کے لیے جائیں۔
سیاسی قیادت، سرکاری حکام، پارلیمنٹ، صوبے اور عوام متحد ہو کر نئے ولوے اورعزم سے کام کریں
تاریخ میں ہمارا یہ ذکر ہو کہ ہم نے حتی المقدور خدمت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ
گزشتہ 16 ماہ کے دوران پوری قوم نے ہماری کارکردگی دیکھی
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے قوم کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ہماری کارکردگی ہے
نگران حکومت کے دوران معاشی صورتحال مستحکم رہے، حالات کچھ بھی ہوں ہم اس ملک کی ذمہ داری اٹھائیں گے
حزب مخالف کو عام انتخابات کے بعد حکومت بنانے کی دعوت دی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے
پھر ہم نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب ہمیں تیزی سے آگے بڑھنا ہے جس کا عوام کو انتظار ہے۔
پہلا روزہ پوری قوم کو مبارکباد ہو، یہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے
ہم تراویح میں سربسجود ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں اور ملکی ترقی وخوشحالی کے لیے دعا کریں۔
شہباز شریف نے کہا کہ رمضان المبارک میں وفاقی حکومت نے سات ارب کے بجائے 12 ارب روپے کا پیکج دیا ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر اشیائے خوردو نوش ارزاں قیمتوں پر دستیاب ہوں گی
موبائل یوٹیلیٹی اسٹور گزشتہ سال کی طرح قائم کئے گئے، بی آئی ایس پی کے تحت
کروڑوں لوگوں کو اربوں روپے کی اضافی نقد رقم دی جا رہی ہے۔
یوٹیلیٹی اسٹورز کی مانیٹرنگ کی جائے اور حق داروں اور عام آدمی کو مقررہ قیمت پر اشیا ملنی چاہیں
اور ان کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ اس وقت قوم کو بڑے چیلنج مہنگائی کا سامنا ہے
تمام صوبائی حکومتیں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے مل کر اشیائے خور و نوش کی قیمتیں
کنٹرول کرنا ہمارا پہلا امتحان ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وفاق میں قیمتوں میں کسی قسم کی خرابی اور اشیا کی
عدم دستیابی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی
صوبوں میں صوبائی حکومتوں سے مل کر اشیا کی قیمتیں کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کریں گے
عام آدمی مہنگائی کے ہاتھوں پس رہا ہے، مٹھی بھر اشرافیہ 90 فیصد وسائل پر قابض ہے۔
یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی روح کے خلاف ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سالانہ بجلی کی چوری 400 سے 500 ارب روپے ہے اور بلوں کا بوجھ
غریب آدمی پر ڈالا جاتا ہے، اشرافیہ کو جو سبسڈی دی جا رہی ہے اس کا کوئی جواز نہیں، یہ بڑا تفاوت ہے
جتنی جلدی یہ ختم ہو قوم کا بھلا ہوگا، گیس، بجلی کا گردشی قرضہ تقریبا 5 ہزار ارب روپے ہے
ملک میں بجلی وافر مقدار میں موجود ہے، پی آئی اے سمیت سرکاری اداروں کو بھاری خسارے کا سامنا ہے، نقصانات ہو رہے ہیں، سرکاری تنخواہیں ادھار سے دے رہے ہیں
ایماندار اور رضا کارانہ ٹیکس دہندگان پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔ لیکن ٹیکس بیس نہیں بڑھائی جاتی ہے
ابھی نہیں تو کبھی نہیں ، کارکردگی دیکھنا ہوگی۔
یہ خون کے دریا اور قربانی کا سفر ہے، مشکلات کے سمندر سے گزرنا ہے، غربت ، مہنگائی، بے روزگاری کرپشن کے خلاف مل کر جنگ لڑنی ہے۔ٹیکس سلیب کم کرنا چاہیے، بیس کو توسیع دینا چاہیے۔
جمع شدہ محصولات کا تین گنا غائب کر دیا جاتا ہے، ان چیلنجز اور مشکلات کا ہم سب کو سامنا ہے
ان چیلنجز سے نمٹنا منتخب حکومت کی ذمہ داری ہے ، قوم نے ہمیں ووٹ دیا ہے
اور ہم اللہ تعالیٰ اور عوام کو جواب دہ ہیں، ایک لمحہ وقت کا ضیاع ناقابل قبول ہے
تجربہ اور جوان خون کابینہ میں شامل ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔
عزم و ہمت کے ساتھ آپ میرا ساتھ دیں، مل کر ملک کو عظیم بنائیں گے
وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جنہوں نے ہر صورت اپنی منزل پانے کا فیصلہ کیا، محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ریٹیلرز پر ٹیکس لگانے کی بات کی جاتی ہے ، ہول سیلر کی بات کوئی نہیں کرتا
محنت، مسلسل محنت اور ایثار و قربانی کے جذبے سے کشتی پار لگے گی
یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ان حالات میں اب حکومت سازی کے عمل کی تکمیل پر اس کے عوامی بہبود کے ایجنڈے کو آگے بڑھنے کے لئے تمام سٹیک ہولڈرز کا تعاون درکار ہے ۔
احتجاج سے حکومت گرانے کی کوششوں سے تو صرف عوام کا ہی نقصان ہوگا ۔

13/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-9-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.