#اداریہ

ایران میں مظاہرین مشتعل’ قیام امن کیلیے واحدراستہ مذاکرات

Fahad 01

اداریہ

ایران میں مہنگائی اور مقامی کرنسی کی گراوٹ کو لیکر مظاہروں جو سلسلہ گزشتہ برس کے اخری ہفتے شروع ہواتھا تسرے ھفتے میں داخل ہورہے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ان میں کمی کی بجائے شدت أتی چلی جارہی ھے۔ ایران میں احتجاج یا مظاہرے کوئی نئی بات نہیں ہے، ماضی میں بھی مختلف مواقع پر شہری سڑکوں پر نکلتے رہے ہیں۔ لیکن موجودہ صورتحال کو ماہرین کئی عوامل کی وجہ سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنگین قرار دے رہے ہیں۔
اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایرانی حکومت کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی عوام کے خلاف ’پرتشدد کارروائیوں‘ کا سلسلہ جاری رہا تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی وینزویلا میں ایک ڈرامائی فوجی کارروائی کے دوران صدر نکولس مادورو اور اُن کی اہلیہ کو تحویل میں لینے سے ایک روز پہلے دی گئی تھی۔
ایک امریکی صدر کی طرف سے ایران میں جاری احتجاج کے دوران دی جانے والی دھمکی کو ایران میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے جسکا ایرانی حکام نے سخت ردعمل دیا ہے۔
پرامن طریقے سے شروع ہونے والے احتجاج کی جڑیں ابتدائی طور پر مہنگائی اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی پر عوامی غصے سے جڑی تھیں۔ گذشتہ برس کے دوران ایران میں ڈالر کی قدر میں تقریباً 80 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ایران کی معیشت انتہائی نازک حالت میں ہے، جس میں ترقی کے کوئی واضح امکانات بھی نہیں ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں مہنگائی کی سالانہ شرح 42 فیصد کے لگ بھگ ہے اور اشیائے خورو نوش کی قیمتیں 70 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ بعض بنیادی اشیا کی قیمتوں میں 110 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا ہے۔
معاشی بگاڑ کی بنیادی وجہ عالمی پابندیوں کوقراردیاجارہاہی لیکن یہ واحد وجہ نہیں ہے
عدالتوں میں بڑے سرکاری افسران اور اُن کے اہلخانہ کے خلاف چلنے والے بدعنوانی کے مقدمات نے بھی عوامی غصے اور اِس یقین کو ہوا دی ہے کہ حکمران طبقے کے کچھ حصے برسوں سے جاری بحران سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
مظاہرین کا خیال ہے کہ بعض ایرانی حکام اور اُن کے رشتے دار ایران پر عائد امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں سے براہ راست فائدہ اُٹھاتے ہیں، جس میں درآمدات اور برآمدات کا کنٹرول حاصل کرنا بھی شامل ہے۔
تیل کی آمدنی بیرون ملک منتقل کرنا، منی لانڈرنگ نیٹ ورکس سے منافع کمانا اور مختلف خصوصی مراعات حاصل کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
یہاں تک کہ کچھ سرکاری اہلکار بھی ایسے ایرانی حکام کو ’پابندیوں کے سوداگر‘ قرار دے رہے ہیں۔ کچھ ماہرین بین الاقوامی پابندیاں سے زیادہ اِن ایرانی شخصیات کو ہی ایران کی صورتحال کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
احتجاج کی اس حالیہ لہر کا آغاز سب سے پہلے تہران کے بازاروں سے ہوا۔ دکانداروں نے کرنسی میں روزانہ کے اُتار چڑھاؤ کے ردِعمل میں اپنی دکانیں بند کر دیں اور سڑکوں پر نکل آئے۔
احتجاج تیزی سے بازار سے نکل کر معاشرے کے دیگر طبقات تک پھیل گیا۔ اِس وقت اقتصادی نعروں نے جلد ہی سیاسی رُخ اختیار کر لیا اور مظاہرین نے حکومت کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔
بعدازاں طلبہ بھی اس احتجاج میں شامل ہو گئے اور دیگر جگہوں پر بھی چھوٹے کاروبار اور اگلے دنوں میں دیگر شہروں میں بھی رہبر اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف بھی نعرے لگنے لگے۔
چار سال پہلے مہسا امینی کی پولیس تحویل میں ہلاکت نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کے بعد سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر حکومت مخالف مظاہروں کی بنیاد رکھی تھی۔
یہ مظاہرے بعد میں ’مہسا تحریک‘ یا ’عورت، زندگی، آزادی‘ کے نام سے مشہور ہوئے تھے۔ اور اس صورتحال نے ایرانی ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ لیکن آخر کار اُنھیں طاقت اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کے ذریعے دبا دیا گیا۔
اگر حالیہ دنوں میں مظاہرے تیزی سے پھیلے ہیں اور گذشتہ کئی روز سے جاری ہیں۔ لیکن ابھی بھی وہ سنہ 2022 کے مظاہروں کی سطح تک نہیں پہنچے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکومت حالیہ کئی دہائیوں کے اپنے سب سے نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف اسے مقامی سطح پر دباؤ کا سامنا ہے اور دوسری جانب خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال بھی اس دباؤ میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے۔
گذشتہ برس امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کی دفاعی صلاحیت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ اس کے جوہری، صنعتی اور ملٹری ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
اسی اثنا میں سرحدوں پر بھی صورتحال ایران کے لیے موافق نہیں ہے۔ شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد تہران نے خطے میں اپنا اہم اتحادی کھو دیا ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کی کارروائیوں نے تنظیم کی سینیئر قیادت کو ختم کر دیا ہے
پڑوسی ملک افغانستان سے بھی ایران میں دراندازی اور تخریبی کارروائیوں کی شکایات سامنے أتی رہی ہیں۔ بھارت اور ایران کے درمیان تعلقات بھی اسرائیلی حملے کے بعد سردمہری کاشکار ھیں ۔ایسے اندرونی عدم استحکام ملک کیلیے کسی بڑے خطرے کی علامت ہے۔
ایرانی حکام کے پاس اب پرامن مذاکرات کے سوا کوئی دوسراراستہ نہیں ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب مظاھرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے عمل درأمد ہو اور مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔

ایران میں مظاہرین مشتعل’ قیام امن کیلیے واحدراستہ مذاکرات

شاہراہِ عرفان صدیقی … !!!

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے