اسٹیٹ بینک کا شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان

28

کراچی (کامرس رپورٹر) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ (شرح سود) کو مسلسل چھٹی بار 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک سے جاری بیان کے مطابق اپنے آج کے اجلاس میں اس فیصلے تک پہنچنے کے حوالے سے کمیٹی نے
نوٹ کیا کہ گزشتہ توقعات کے مطابق مہنگائی
مالی سال 2024 کی دوسری ششماہی میں واضح طور پر کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔

تاہم کمیٹی نے نوٹ کیا کہ فروری میں تیزی سے کمی کے باوجود مہنگائی کی سطح بلند ہے اور اس کا منظرنامہ مہنگائی کی بلند توقعات کی بنا پر خطرات کی زد میں ہے۔
اس بنا پر محتاط طرز عمل درکار ہے اور ستمبر 2025 تک مہنگائی کو 5 سے7 فیصد کی
حدود میں لانے کے لیے موجودہ زری پالیسی مؤقف قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔

کمیٹی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ تجزیہ
بھی بدستور ہدفی مالیاتی یکجائی (fiscal consolidation) اور منصوبے کے مطابق بیرونی رقوم کی بروقت آمد سے مشروط ہے۔

زری پالیسی کمیٹی نے یہ بات نوٹ کی کہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے ہونے والی کچھ اہم پیش رفتوں کے میکرواکنامک منظرنامے کے لیے مضمرات ہیں۔

اوّل، تازہ ترین اعداد و شمار زرعی پیداوار کی بحالی کی بدولت معاشی سرگرمی میں
مسلسل معتدل اضافے کے عکاس ہیں۔ دوم، بیرونی جاری کھاتے کا توازن توقع سے زیادہ بہتر ثابت ہو رہا ہے،
جس سے مالی رقوم کی کمزور آمد کے باوجود زرمبادلہ کے بفرز کو برقرار رکھنے میں مدد ملی ہے۔
سوم، دسمبر سے کاروباری اداروں کی مہنگائی کی توقعات نے بتدریج اضافے کو ظاہر کیا ہے،
جبکہ مارچ میں صارفین کی توقعات بھی بڑھی ہیں۔ آخر میں، عالمی محاذ پر اگرچہ اجناس کی قیمتوں کا وسیع تر رجحان خوش آئند رہا ہے، تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے
جس کا ایک جزوی سبب بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی ہے۔

مزید برآں مہنگائی کے امکانات کے متعلق بےیقینی کے حالات میں ترقی یافتہ
اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے اہم مرکزی بینکوں نے حالیہ اجلاسوں کے دوران محتاط زری پالیسی موقف کو برقرار رکھا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ موصول شدہ ڈیٹا سے مالی سال 2024 میں معاشی سرگرمی
میں معتدل بحالی کی زری پالیسی کمیٹی کی ان توقعات کو تقویت ملتی ہے کہ حقیقی جی ڈی پی کی نمو 2 تا 3 فیصد کی حد میں رہے گی۔ زرعی شعبہ اہم محرک رہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جنوری 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 26 کروڑ 90 لاکھ ڈالر رہا۔ اس طرح جولائی تا جنوری مالی سال 2024 کے دوران مجموعی خسارہ 1.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو سال بہ سال تقریباً 71 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔

زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اس بہتری کی بڑی وجہ تجارتی خسارے میں کمی ہے
جس کا سبب برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی دونوں ہیں۔ برآمدات بڑھنے کی وجہ خوراک کی زائد برآمد ہے
جبکہ درآمدی ادائیگیاں اس بنا پر کم رہیں کہ ملکی زرعی پیداوار بہتر ہوئی، ملکی طلب معتدل رہی، اور اجناس کی عالمی قیمتیں معاون ثابت ہوئیں۔

مزید برآں، ترسیلات زر اکتوبر 2023 سے سال بہ سال مسلسل بڑھ رہی ہیں
جس میں باضابطہ ذرائع سے رقوم کی آمد آسان بنانے کے لیے ضوابطی اصلاحات اور ترغیبات کا کردار ہے۔

زری پالیسی کمیٹی کا تجزیہ ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مالی سال 2024 کے لیے پیش گوئی یعنی جی ڈی پی کے 0.5 سے 1.5 فیصد کی نچلی سطح کے قریب قریب رہنے کا امکان ہے،
جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر کی پوزیشن کو مدد ملے گی۔

مالیاتی کھاتوں کے تازہ ترین ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالیاتی یکجائی جاری رہے گی۔ مالی سال 24 کی پہلی ششماہی کے دوران بنیادی فاضل رقم (primary surplus) بہتر ہو کر جی ڈی پی کا 1.7 فیصد ہوگئی
جو گزشتہ سال اسی مدت میں 1.1 فیصد تھی، جبکہ
مجموعی مالیاتی خسارہ مزید بڑھ کر جی ڈی پی کا 2.3 فیصد ہوگیا جو
مالی سال 23 کی پہلی ششماہی میں 2.0 فیصد تھا۔

زری پالیسی کمیٹی نے زور دیا کہ بحیثیت مجموعی میکرو اکنامک مضبوطی
اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مالیاتی یکجائی جاری رکھنا لازمی ہے۔

زری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے حسبِ توقع، زرِ وسیع (ایم 2) کی نمو
سال بہ سال بنیادوں پر فروری میں کم ہوکر 16.1 فیصد ہوگئی جو دسمبر میں 17.8 فیصد تھی۔

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ عمومی مہنگائی میں وسیع البنیاد اور خاصی حد تک
سال بہ سال نمایاں کمی درج کی گئی، جو جنوری میں 28.3 فیصد سے کم ہو کر فروری کے دوران 23.1 فیصد ہوگئی۔

اگرچہ غذائی مہنگائی میں
کمی کا رجحان جاری رہا تاہم قوزی مہنگائی ، جو برقرار رہی تھی
گھٹ کر فروری میں 18.1 فیصد رہ گئی جبکہ جنوری میں یہ 20.5 فیصد تھی۔

مہنگائی میں بہتری بڑی حد تک تخفیفی زری پالیسی، مالیاتی یکجائی،
خوراک کی بہتر رسد، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اعتدال اور سازگار
اساسی اثر کے مشترکہ اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔

زری پالیسی کمیٹی نے نوٹ کیا کہ اگرچہ فروری میں توانائی کی مہنگائی
میں بھی سال بہ سال بنیاد پر کمی واقع ہوئی ہے، تاہم توانائی کی
سرکاری قیمتوں میں ردّوبدل براہ راست اور بالواسطہ طور پر مہنگائی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔
اس کے صارفین اور کاروباری اداروں دونوں کی مہنگائی کی توقعات میں
مطلوبہ مستقل کمی کے لیے مضمرات ہیں۔

آگے چل کر سرکاری قیمتوں میں مزید ردوبدل یا مالیاتی اقدامات جو قیمتوں
میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں، قریب مدتی اور وسط مدتی مہنگائی کے
منظرنامے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ 29 جنوری کو اسٹیٹ بینک نے اگلے دو ماہ کے لیے نئی مانٹیری پالیسی کا اعلان کردیا جس میں شرح سود کو مسلسل پانچویں بار 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.