افغانستان میں اقبال شناسی
محمد نوید مرزا
ڈاکٹر عبدالرو¿ف رفیقی نامور ادیب،نقاد،محقق ،شاعر اور ماہر اقبالیات ہیں۔ان کا علمی و ادبی کام اردو اور پشتو دونوں زبانوں میں ہمارے سامنے ہے۔یوں آپ نے شعر و نثر دونوں میدانوں میں اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رکھے ہیں۔رفیقی صاحب شاعر مشرق کے مداح ہیں ،اسی لئے قدرت نے آج کل انھیں شاعر مشرق کی فکر،فن،نظریات اور شاعری کو دنیائے ادب کے سامنے لانے والے عظیم الشان ادارے اقبال اکادمی کا ناظم اعلیٰ بنایا ہے،جہاں وہ پورے خلوص اور محنت سے علامہ اقبال کی شخصیت کے مختلف پہلوو¿ں اور ان کی شاعری کی ترویج کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔آپ کی کاوشوں سے پچھلے دو برس میں میری کتاب سمیت اقبالیات کے ضمن میں 50 سے زائد نئی پرانی کتب شائع ہو چکی ہیں۔شاعر مشرق کے 150 ویں یوم ولادت کی مناسبت سے 2026/2027 خاص طور پر سال اقبال کے طور پر منایا جارہا ہے۔اس سارے سال میں کتب کی اشاعت ،سیمینارز اور کانفرنسوں کا اہتمام کیا جائے گا۔ڈاکٹر صاحب اقبال اکادمی کے پلیٹ فارم کے ذریعے اسے حضرت اقبال کے شایان شان منانے کے لئے بھرپور انداز میں کوشاں ہیں۔ڈاکٹر صاحب کو اس برس حکومت کی طرف سے ان کی علمی و ادبی کاوشوں پر ستارہئ امتیاز ملا ہے۔سرکار کی جانب سے یہ اعزاز ان کی بے پناہ علمی و ادبی اور قائدانہ صلاحیتوں کےاعتراف کے طور پر دیا گیا ہے۔ڈاکٹر عبد الرو¿ف رفیقی صاحب کا تعلق بلوچستان سے ہے لیکن ان کی شہرت پاکستان میں ہی نہیں ،پورے دنیائے ادب میں ہے اقبالیات کے ضمن میں ان کی شناخت اور کام ہم سب کے سامنے ہے۔وہ افغانستان میں رہے ہیں اور افغانستان کے موضوع پر پی ایچ ڈی بھی کر چکے ہیں۔رفیقی صاحب کی مختلف موضوعات پر درجنوں تصانیف ہیں ،لیکن اس وقت میرے سامنے ان کی کتاب،،افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت،، ہے۔یہ کتاب افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت اور شاعر مشرق علامہ اقبال کی افغانستان اور افغانیوں سے قلبی تعلق کے حوالے سے ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔کتاب کے ابتدائیہ میں رفیقی صاحب لکھتے ہیں،،افغانستان کے متعلق حضرت علامہ کے گراں قدر منظوم افکار حصہ تاریخ بن چکے ہیں۔یہ والہانہ اور عقیدت مندانہ افکار افغانستان اور افغانوں سے علامہ کی محبت اور توقع کے مظہر ہیں۔انہی افکار اور خیالات کے جائزے سے متعلق افغانستان اور اقبال کے حوالے سے ارباب علم و دانش کی متعدد تحریریں موجود ہیں،،انھوں نے اس ابتدائیے میں ان تحریروں کے حوالے بھی پیش کئے ہیں اور کتاب کے تمام ابواب کا ذکر بھی کیا ہے اور آخر میں اس عظیم تحقیقی کام کو پایہءتکمیل تک پہنچانے میں مختلف اقبال شناسوں ،دیگر متعلقہ احباب اور اپنی رفیقہئ حیات کا شکریہ ادا کیا ہے۔اس قابل قدر کتاب کے سات ابواب ہیں،جن کا یہاں مختصر جائزہ لیا جائے گا۔کتاب کا پہلا باب۔۔۔اقبال کی افغان دوستی،،پر مشتمل ہے،جس میں اس اقبال کی افغان دوستی اور افغانستان کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے۔اس باب میں کلام اقبال میں افغانستان مشاہیر کا تذکرہ اور ان کے نام حروف تہجی کے اعتبار سے شامل کئے گئے ہیں۔ان مشاہیر کے نام ،ولدیت اور تاریخ و مقام پیدائش کے علاو¿ہ ان شخصیات کے بارے میں کہے گئے اقبال کے اشعار بھی درج ہیں،نیز معاصر افغان شخصیات کا ذکر بھی ہے۔اس کے علاو¿ہ اقبال کی افغانوں سے وابستہ توقعات کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ افغانوں کی سخت کوشی اور دین سے وابستگی کو پسند کرتے تھے۔دوسرا باب۔۔۔۔افغانوں کی اقبال دوستی،،کے نام سے لکھا گیا ہے،جس کے مزید پانچ حصے ہیں،جن میں اقبال سے افغانوں کے مراسم،علامہ اقبال کا سفر افغانستان،کابل میں اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹی کے قیام کی ضرورت،ڈاکٹر اقبال کی روانگی قابل اور افغانوں کی پذیرائی پر تحریر شامل ہے،یوں اس باب میں اقبال کی افغان دوستی پر نہایت عمدگی سے سیر حاصل گفتگو کی گئی ہے۔تیسرا باب۔۔۔افغانستان میں اقبال شناسی کی روایت کا آغاز،،کے عنوان سے ہے۔اس باب میں افغانستان کے اولین اور بعد ازاں آنے والے اقبال اقبال شناسوں اور افغانی ماہر اقبالیات کی شخصیت اور فکر و فن پر موئ ثر انداز میں بحث کی گئی ہے۔کتاب کے چوتھے باب میں۔۔۔افغانستان میں اقبال شناسی کا ارتقائ ،،کو مختلف ادوار کے آئینے میں بڑی عمدگی سے دیکھا گیا ہے۔پانچواں باب بعنوان۔۔۔افغانستان کے پشتون اقبال شناس،،کے تحت ہے،رفیقی صاحب نے یہاں اقبال معروف اقبال شناسوں کی اقبالیات کے ضمن میں تحقیقی کام کرنے والوں کی فہرست دی گئی ہے اور ان میں سے ہر ایک کا تعارف بھی کر لیا گیا ہے۔کتاب کا چھٹا باب بعنوان۔۔۔افغانستان کے فارسی اقبال شناسوں کی خدمات اور اعتراف فن کے طور پر لکھا گیا ہے۔کتاب کا ساتواں اور آخری باب۔۔۔۔افغانستان میں مقالات اقبال کے مشمولات،،کے عنوان سے ہے،جس میں حضرت علامہ محمد اقبال کے مشمولات پر تحقیق کو ورطہء تحریر میں لایا گیا ہے۔ہر باب میں مآخذات اور آخر میں کتابیات اور جدولات کا ہونا اس کتاب کی اہمیت اور افادیت میں مزید اضافہ کرتا ہے۔یوں ڈاکٹر عبد الرو¿ف رفیقی صاحب کی یہ کتاب اقبال اور افغانستان میں ایک مستند دستاویز کی اختیار کر گئی ہے اور میرا ذاتی خیال ہے کہ اس وقت اقبالیات اور افغانستان کے ضمن میں اس سے بہتر،مرصع اور مکمل کتاب کوئی اور نہیں۔میں اس عظیم کام کی اشاعت پر ڈاکٹر عبدالرو¿ف رفیقی کو ڈھیروں مبارکباد پیش کرتا ہوں،ویل ڈن






