#کالم

پاکستانی ادب کے معمار: ڈاکٹر شیخ محمد اقبال شخصیت اور فن قسط:36

Untitled 13

(شاہد بخاری)
1انشائیہ نگاری
انشائیہ بھی ایک صنف نثر ہے۔ اس کا آغاز تو فرانس کے انشائیہ نگار Montaigne سے ہوا تھا اور انگلستان میں اس کا آغاز فرانسز بیکن نے کیا۔ زندگی کی بعض تلخ حقیقتوں کا لطیف پیرائے میں اظہار پڑھنے والوں پر گراں نہیں گزرتا بلکہ کبھی کبھی ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے اور خوشی سے چہرہ دمک اٹھتا ہے۔ چاہے تحریر کے بطون میں جتنی بھی تلخی ہو، طنز ہو اور تیکھا پن ہو لیکن اظہار کی لطافت اور بیان کی شگفتگی اس تلخی کو شیرینی میں معجزاتی طور پر تبدیل کر دیتی ہے اور یہ معجزہ انشائیہ نگار کا رہینِ منت ہے۔ اس کے مزاج میں قدرے شوخی اور بے ساختہ پن آ جاتا ہے۔ ویسے انشائیہ مزاح کی کوئی قسم نہیں ہے۔ ہاں مزاح ا س میں در آتا ہے لیکن اصل مقصد کسی ایک موضوع کی گوناں گوں اور بوقلمونی جہتوں کو آشکار کرنا ہوتا ہے۔ انشائیہ نگار بنیادی نقطے سے جڑا رہتا ہے حالانکہ اس کے خیالات کی ترنگ جانے اسے کہاں کہاں لے جاتی ہے۔
باوجودیکہ یہ ایک مشکل صنف ہے لیکن ہمارے ھاں بہت سے انشائیہ نگار موجود ہیں جن میں ڈاکٹر وزیر آغا، مشکور حسین یاد ڈاکٹر خالد اقبال اور اس طرح بہت سے نام لئے جا سکتے ہیں جنہوں نے اس صنف کو پروان چڑھایا۔
ڈاکٹر اقبال سے بھی جانے کس ترنگ میں کچھ ایسی تحریریں ہو گئیں جنہیں احباب نے انشائیے کا نام دیا ہے۔ بہر حال ان کا یہ اسلوبِ نگارش ان کی گزشتہ تحریروں سے مختلف ضرور نظر آتا ہے۔ انہوں نے اپنی ان تحریروں کو ”اُوٹ پٹانگ“ کے نام سے شائع کروایا ہے۔نام ہی پر ہنستی آتی ہے ویسے سوچیئے تو ہماری زندگی میں ”اُوٹ پٹانگ“ کی کوئی کمی نہیں۔
٭٭٭
”اُوٹ پٹانگ“
صفحات:78 انشائیے: 14
اشاعت:2020 ثنائی پریس سرگودہا
انتساب:ان شکستوں اور ہزیمتوں کے نام جنہوں نے مجھے ہنسنا اور قہقہے لگانا سکھا دیا۔
عنوانات ملاحظہ ہوں:
بلا عنوان
اٹکل پچو
اُوٹ پٹانگ
ایک آسیب
حماقتیں
پیار ویار۔ عشق وشق
شیخیاں۔شوخیاں
میں
بکواس
جوانی
حسن،ظالم،مظلوم
بھوک
ذہنی خرافات
اگر مگر

ڈاکٹر اقبال ”اوٹ پٹانگ“ کے ذیل میں جسے پیش لفظ بھی کہا جا سکتا ہے، لکھتے ہیں:
”زیرِ نظر تحریریں بس ہو گئیں جیسے شعر ہوتے ہیں، غزلیں ہو جاتی ہیں کوئی مصرع ہو جاتا ہے،شاخ پر کوئی پھول چٹخ جاتا ہے، کوئی بلبل نغمہ سرا ہونے لگتی ہے، کوئی دل نغمہ بار ہو جاتا ہے، قلم اپنی جو لانیاں دکھانے لگتا ہے اور ہمارا شعور بس بے بس ہو جاتا ہے۔آپ ان تحریروں پر جو بھی تبصرہ فرمائیں اچھا لگے گا۔ زندگی کے ساتھ ساتھ ہمیں بہت کچھ اچھا لگنے لگتا ہے، ویسے بھی میں اپنی تحریروں پر فتویٰ صادر کرنے والا کون ہوتا ہوں یہ تو قارئین کا استحقاق ہے، ناقدین کا خوشگوار فریضہ ہے (آپ چاہیں تو تلخ کہہ لیں) کہ وہ ان تحریروں پر کیا خیال آرائی کرتے ہیں ویسے یہ تحریریں مجھے لگتا ہے اس رنگ اور ڈھنگ میں نہیں جس میں اس سے قبل کی تحریریں رہی ہیں ۔چلیے چھوڑیئے یہ میرا دردِ سر نہیں“
ان تحریروں کے بارے میں دنیائے ادب کے ممتاز اور قد آور مزاح نگار انور مسعود کچھ یوں رقم طراز ہیں:
”شیخ صاحب ماشا ء اللہ دو درجن سے زیادہ کتابیں سنجیدہ موضوعات پر لکھ چکے ہیں۔ اب انہوں نے سوچا ہے کہ کیوں نہ کچھ احمقانہ، بے ڈھنگی، بے تکی اور ظرافت آمیز باتیں کی جائیں۔ ”اُوٹ پٹانگ“ کے نام سے انہوں نے ایسی ہی باتوں کی جمع آوری کی ہے۔ لیکن خیال رہے کہ ان کی ان لایعنی باتوں میں بڑی با معنی باتیں بھی پوشیدہ ہیں۔ انہوں نے ذہنی خرافات، اٹکل پچو، حماقتیں، بھوک اور عشق وشق وغیرہ کے موضوعات پر لکھتے ہوئے دانش کے کئی خوشنما اور نظر افروز موتی بھی بکھیر دیئے ہیں۔ مجھے ”اوٹ پٹانگ“ کے دیباچے کی تائید میں کچھ شعر بے ساختہ یاد آئے ہیں پہلا شعر دورِ حاضر کے ایک بڑے شاعر ڈاکٹر خورشید رضوی کا ہے۔

کوئی تیشہ تو چلا، کوئی شرارہ تو نکال
مدتیں بیت گئیں سوچ کو پتھرائے ہوئے
غالباً دوسرا شعر فارسی کے عظیم شاعر انوریؔ کا ہے
دل از تمکیں شود بے ذوق ز نہار
گہے کودک شوو طفلانہ می رقص
(یعنی ہر وقت کی سنجیدگی سے دل بالکل بے ذوق ہو جاتا ہے کبھی بچہ بن کر اچھلا کودا کر) اس ضمن میں بیدلؔ کا توایک شعر ہی کافی ہے۔
با ہر کمال اندکے آشفتگی خوش است
ہر چند عقلِ کل شدہ ای بے جنوں مباش
یعنی خرد کی گھتیاں سلجھا لینے کے ساتھ ساتھ کچھ دیوانگی بھی درکارہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پروفیسر ڈاکٹر شیخ اقبال نے ”اُوٹ پٹانگ“ کے حوالے سے اردو ادب میں ایک بڑی دلکشا، دانش افروز اور ظرافت مند صنف نثر متعارف کرائی ہے۔“
ممتاز دانشور اور مزاح نگار ڈاکٹر انعام الحق جاوید اپنی رائے کا کچھ یوں اظہار کرتے ہیں:
”ربِ ذوالجلال کی اس متنوع رنگ کی کائنات میں پاکستان (سرگودھا) سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر شیخ محمد اقبال یونان کے معروف اور نامور شاعر ہومرؔ کے چراغِ فکر اور عزم واستقلال کی روشن قندیلوں کا ایک تسلسل ہیں۔ وہ سرسیّد احمد خاں کی جدید تعلیم اور لمحہء موجود کے تناظر میں علم کی شمعیں جلانے والے کارواں کا بھی ایک روشن نمونہ ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔ اُن کی تازہ کتاب ”اُوٹ پٹانگ“ ان کے انشائیوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی چُنیدہ تحریریں اور مضامین پڑھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حالات نے ڈاکٹر محمد اقبال سے بصارت تو چھینی مگر اُن کی جھولی میں بصیرت کی نعمت ڈال دی جس نے اُن پر زندگی اور زندگی گزارنے کے سارے راستے آسان کر دیئے۔ اُن کی شاعری میں جس طرح تجربہ اور مشاہدہ محسوس کیا جا سکتا ہے، اُسی طرح شیخ محمد اقبال صاحب کے انشائیوں میں بھی بھرپور زندگی کے رنگ اور مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اُن کی ہمتوں اور فکری قوتوں کا اس بات سے اندازہ لگائیے کہ وہ ایک انشائیے ”بلاعنوان“ میں لکھتے ہیں کہ نثری مضامین میں بہت کچھ لکھنے کے باوجود جانے کیوں کبھی کبھی ایسے لگنے لگتا ہے کہ کہنے کے لیے ابھی بہت کچھ ہے۔ اُن کے انشائیے نامور نقاد ڈاکٹر وزیرآغا کی انشائیہ نگاری کی، کی گئی تعریف پر پورا اُترتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے انشائیوں میں زندگی کو دیکھنے کا ایک دلچسپ مشاہدہ دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر شیخ محمد اقبال کے انشائیوں میں حقیقتِ حیات کے سارے رنگ ہیں مگر انھوں نے زندہ دلی کو اپنی تحریروں اور سطروں میں رنگوں کی طرح بھرا ہے اور کسی طلسماتی قالین پر بیٹھنے اور چراغ رگڑنے کے نتیجے میں حکم کی تعمیل کرنے والے جِن کو حاضر پا کر فکر و فسوں کے کامیاب تجربے کیے ہیں۔“
ممتا زشاعر اور نقاد نسیمِ سحر ”اوٹ پٹانگ“ کے حوالے سے اپنے خیالات کا کچھ یوں اظہار کرتے ہیں:
”ڈاکٹر شیخ اقبال۔۔۔۔۔نے اپنی تازہ ریزہ خیالی پر مبنی کتاب کا عنوان ”اُوٹ پٹانگ“ رکھا بھی ہے تو کوئی قاری یا رائٹر اسے ہر گز ”اوٹ پٹانگ“ نہیں مان سکتا۔وہ بجا طور پراسے ڈاکٹر شیخ اقبال کی طویل اور پُرمغزادبی تحریروں کا تسلسل اور پھیلاؤ ہی سمجھیں گے۔ان کا ایک شعر ان کے تخلیقی پھیلاؤ کا اظہار یوں کرتا ہے
ابھی باقی ہے خُوئے دل نوازی
جوانی ہے ابھی بوڑھے شجر میں
چنانچہ اس کتاب کو بھی اگران کی”خوئے دل نوازی“ ہی کی ایک نئی اور انوکھی جہت سمجھ لیا جائے تو غلط نہ ہو گا“
("یہ کتاب اکادمی ادبیات پاکستان کے کتابی سلسلے پاکستانی ادب کے معمار سیریز کے تحت 2022 میں شائع ہوئی تھی”جس کی تلخیص بہ اجازت چٹھی AOL بتاریخ27مئی 2025 قسط وارشائع کر رھے ہیں)

  1. ↩︎

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے