سندھ کا بجٹ پیش کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک اضافہ

78

کراچی (کامرس رپورٹر)وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میں بارہویں دفعہ سندھ کا
بجٹ پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ میں آج سندھ کا 30 کھرب 56 ارب کا بیلنس بجٹ پیش کر رہا ہوں،
پاکستان پیپلز پارٹی کو چوتھی بار عوام نے منتخب کیا، ہمیں اس کی اہمیت کا اندازہ ہے، ہم مسلسل ڈیلیوری کر کے اس بھروسے پر پورا اتر رہے ہیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس الیکشن میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹس حاصل کیے،
بنظیر بھٹو نے اپنے والد کے مشن کو پورا کرنے میں اپنی زندگی صرف کردی، صدر زرداری اور
بلاول بھٹو نے بہتر کل کا وعدہ کیا ہے اور ہم اس راہ پر گامزن ہیں، اسی وجہ سے لوگوں نے ہمیں منتخب کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ میں اپنی لیڈرشپ کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کیا،
میری دعا ہے کہ اللہ مجھے ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی توفیق دے، میں شہباز شریف کا بھی شکرگزار ہوں
جن کے ساتھ ہم نے کام کیا اور امید ہے کہ وہ ہماری حمایت جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ 5 سال معاشی اعتبار سے کافی مشکل تھے، 2020 کے شروعات میں کووڈ آیا،
کراچی کو بھی بدترین بارشوں کا سامنا رہا، کافی علاقے بارشوں کے باعث زیر آب آئے،
پھر 2022 میں سیلاب نے سندھ کو شدید متاثر کیا لیکن اس کے ابوجود ہم نے کام کیا۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ اس بجت میں تنخواہوں میں 22 سے 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،
ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کے فوائد موجود اخراجات کا بقایا 14 فیصد ہیں،
بجٹ میں 959 ارب روپے کے نمایاں ترقیاتی اخراجات کی تجویز ہے، متوازن بجٹ سیلاب
متاثرین کی بحالی، غریبوں کے سماجی تحفظ پر مرکوز ہے۔

وزیر اعلی سندھ نے کہا کہ سندھ کی مجموعی متوقع آمدنی 30 کھرب روپے ہے،
وفاقی منتقلی 62 فیصد،صوبائی وصولیاں 22 فیصد ہیں، بجٹ میں پی ایس ڈی پی سے
ملنے والے 77 ارب روپے شامل ہیں،
غیرملکی گرانٹس 6 ارب،کیری اوور کیش بیلنس 55 ارب روپے شامل ہے،
تنخواہوں کا سب سے بڑا حصہ 38 فیصد ہے، تنخواہوں کے بعد گرانٹس 27 فیصد مختلف
پروگراموں کے لیے ہے، غیر تنخواہ اخراجات کے 21 فیصد میں آپریشنل، منتقلی، سود ادائیگی اور مرمت شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹ کے لیے 56 ارب روپے مختص کیے گئے، ورکس اینڈ سروسز کے لیے 86 ارب روپے
مختص کئے ہیں، ایس جی اینڈ سی ڈی کے لیے 153 ارب روپے رکھے گئے ہیں، داخلہ کے لیے 194 ارب روپے شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عوامی لائبریریز کی سہولیات بڑھانے کے لیے 21کروڑ روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں،
صحت کے لیے 334 ارب رکھے گئے ہیں جن میں 302 ارب موجودہ اخراجات کے لیے مختص ہیں۔

وزیر اعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے سندھ گیمز کے لیے 15 کروڑ روپے مختص کردیے ہیں،
گرانٹس کی مد میں یونیورسٹیز کے لیے 35 ارب مختص کیے گئے ہیں، فنڈنگ کا مقسد تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا ہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.