بشام چینی انجینئرز پر حملے کی دوسری رپورٹ وفاق کو ارسال، سنسنی خیز انکشافات

28
بشام میں چینی انجینئرز پر حملے سے متعلق خیبرپختونخوا پولیس نے دوسری رپورٹ وفاق کو ارسال کردی
بشام میں چینی انجینئرز پر حملے سے متعلق خیبرپختونخوا پولیس نے دوسری رپورٹ وفاق کو ارسال کردی۔ ابتدائی جانچ کی بنیاد پر بظاہر لگتا ہےکہ چینی باشندوں کو لے جانے والی گاڑی بلٹ پروف اور بم پروف نہیں تھی جبکہ ہلاک ہونے والے چینی باشندوں میں ایک خاتون انجینئر بھی شامل ہے۔

کے پی پولیس کی رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کی فضائی تصویر بھی حاصل کرلی گئی ہے اور تھانہ بشام تقریباً 6 کلومیٹر جبکہ داسو ڈیم 77 کلومیٹر جائے وقوعہ سے دور ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تباہ ہونے والی بس دوسری بس سے 15 فٹ کے فاصلے پر تھی اور خودکش دھماکے سے بس 300 فٹ گہرائی میں جاگری۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیبی قافلے میں شامل تمام بسوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، خودکش بمبار کے زیراستعمال گاڑی کے ٹکرے حاصل کر لیے گیے ہیں۔

یاد رہے کہ چند روز قبل بشام میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر ہونے والے خود کش حملے میں خاتون سمیت 6 چینی باشندے جاں بحق ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد صدر پاکستان، وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے چینی سفارتخانے کا دورہ کر کے اپنے سب سے قریبی دوست ملک کے باشندوں پر ہونے والے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور چینی باشندوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے۔

بعدازاں گزشتہ روز 6 اپریل کو وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا تھا کہ بشام واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے چند افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کا حکم دیا ہے۔

تبصرے بند ہیں.