مذہبی ٹچ،غربت کارڈ اور بدمعاشی نہیں حکومتی رٹ بحال کریں۔

ملک سلمان maliksalman2008@gmail.com

0

این ایم سی، ایس ایم سی اور ایم سی ایم سی پرموشن ٹریننگ کورس پر لاہور آئے آفیسر مجھ سے ملنے گھر آئے تو وزیراعلیٰ پنجاب کے درجنوں کاموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ایکشن سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکے صوبوں کے وزراء اعلیٰ تجاوزات کے خلاف اس لیے جرات نہیں کر رہے کہ ان کے قریبی عزیز و اقارب کروڑوں اور اربوں روپے کی تجاوزات کے بینیفشریز ہیں دوسرا ووٹ بینک خراب ہونے کا خدشہ۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ تجاوزات اور ریڑی والوں کا ووٹ کبھی بھی کسی کو میرٹ پر نہیں ملا، ریڑی والوں نے ہر دفعہ پیسوں کے عوض شناختی کارڈ ہی بیچا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی تجاوزات اور لاقانونیت کے خلاف زیروٹالریشن کی وجہ سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور پڑھے لکھے طبقے کا اچھا خاصا ووٹ بینک ان کی طرف آیا ہے۔ سنئیر افسران کا کہنا تھا کہ انکی خواہش ہے کہ وہ ٹریننگ کے بعد ویژنری وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت میں کام کرنے کیلئے پنجاب آجائیں۔
سوشل میڈیا پر تجاوزات کی صورت ہٹائے گئے ایک بورڈ کی تصویر کے ساتھ کیپشن تھا کہ ختم نبوت کا بورڈ زمین پر گرانے والے ڈپٹی کمشنر اور انتظامی افسران توہین مذہب کررہے ہیں،ان پر اللہ کا عذاب ہو۔
میں نے متعلقہ ڈپٹی کمشنر کو وہ پوسٹ شئیر کرتے ہوئے کال کی کہ بھائی ان سب کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کروا کر انکا سارا مذہبی ٹچ نکالا جائے کہ ذاتی فائدے کیلئے جس پر مرضی توہین مذہب کا الزام لگادیتے ہیں۔ علماء اکرام سے گزارش ہے کہ جذباتی اور جنونی مذہبی ٹچ کی بجائے اصل دین سیکھایا جائے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ راستے سے پتھر ہٹانا بھی نیکی ہے۔ جب پتھر ہٹانا نیکی ہے تو راستوں میں پتھر لگانا اور تجاوزات قائم کرنا گناہ نہیں تو اور کیا ہے؟سرکاری سڑک اور زمین پر ختم نبوت کا بورڈ لگا کر قائم کی گئی تجاوزات کو ہٹانا توہین مذہب نہیں بلکہ تجاوزات قائم کرنا اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی ہے۔ بیچ سڑک مسافروں کو تنگ کرکے دکانداری کرنا حرام عمل نہیں؟
سب سے زیادہ ٹریفک حادثات رمضان کے مہینے اور افطاری کے وقت ہوتے ہیں، افطاری سے گھنٹہ پہلے ٹریفک پولیس سڑکوں سے غائب ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے فل سپیڈ سے گرم گرم سموسے پکوڑے لیکر گھر پہنچ جائے لیکن راستے میں موجود تجاوزات سے ٹکرا کر گھر کی بجائے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔رمضان کے مبارک مہینے میں تجاوزات قائم کرکے آپ شیطان کے چیلے والا کام کرتے ہو۔
درجنوں نہیں سینکڑوں کی تعداد میں دربار اور مسجدیں سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے قائم کی گئی ہیں۔ علماء کو چاہئے کہ انتظامیہ اور حکومت کو خود سے آفر کریں کے وہ درباروں اور مسجدوں کا غیرقانونی حصہ مسمار کرکے باقیوں کیلیے بھی مثال قائم کریں کہ عبادت بھی تب قبول ہوگی جب غیرقانونی قبضہ کی گئی جگہ چھوڑ کر قانون کی پاسداری کریں گے۔ ایسا کرنا کوئی احسان نہیں علماء کا فرض ہے اگر وہ یہ فرض ادا نہیں کریں گے تو اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے اور اپنے سارے نیک اعمال ضائع کروا لیں گے۔
راجہ مارکیٹ گارڈن ٹاؤن جہاں سپیکر پنجاب اسمبلی میرے ہمسائے ہیں اب تک آٹھ دفعہ ریڑی والوں کو ہٹایا گیا ہے پھر واپس آجاتے ہیں جب ان کی ریڑی کو زبردستی سرکاری تحویل میں لیا جائے گا تو سوشل میڈیا پر غربت کارڈ شروع ہوجائے گا غریب پر ظلم ہے اس کو وارننگ دے دیتے۔ آٹھ دفعہ ہٹایا گیا، کیا وہ وارننگ نہیں؟
سرکاری زمینوں پر قبضے اور شاہرائیں بند کرنا غربت کا علاج نہیں۔ باعزت روزگار کیلئے حکومت پنجاب نے بہترین ریڑی بازار قائم کیے ہیں ان کے علاوہ تمام ریڑیاں اور رکشے قبضے میں لے لینے چاہئے۔ ریڑی بازار میں بھی سختی کی ضرورت ہے کوئی بھی ریڑی سے باہر سڑک پر نا تو سامان رکھے اور نہ ہی ریڈ لائن سے باہر نکلے۔
مذہبی راہنماؤں کو چاہئے کہ درس قران اور جمعہ کے خطبات بھی ناحق زمین پر قبضے کرنے اور راستوں کی بندش کے حوالے سے اسلامی تعلیمات پر روشنی ڈالیں۔
حقیقی بات یہی ہے کہ ہمارا معاشرہ اس قدر بے حس اور بے شرم ہوچکا ہے کہ اپنے مفاد کے خلاف احکامات الہی اور فرمان نبوی کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں۔ اس لیے اس قوم کا ایک ہی علاج ہے وہ ہے بھاری جرمانے اور سخت سزائیں۔ اگر تجاوزات قائم کرنے والوں کو پتا ہوگا کہ انتظامی افسران ہر بار انکی منتیں نہیں کریں گے بلکہ تجاوزات کے جرم میں انکو جرمانہ ہوگا یا جیل جانا پڑسکتا ہے تو تین دن میں سارے ٹھیک ہوجائیں گے۔ سب سے ضروری بات تجاوزات قائم کرنے والوں کیلئے تو سزا ہے لیکن تجاوزات کو ہٹانے میں ناکام ہونے والے انتظامی افسران کیلئے بھی عہدوں سے معطلیاں اور نوکری سے برخاستگی کی کاروائی کیے بن یہ مشن ادھورا ہی رہ جائے گا۔
میرے ابائی ضلع قصور میں سابق ڈپٹی کمشنر قصور نے تجاوزات کے خلاف اچھا آپریشن شروع کیا تھا لیکن جیسے ہی وہ گئے ہیں ایک دفعہ پھر سے ضلع قصور تجاوزستان بن گیا ہے۔ فیصل آباد اور ڈی جی خان کے اضلاع میں تجاوزات کے خلاف مثالی کاروائی کی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.