انتظامی اصلاحات، چھوٹے صوبے…. پاکستان کی بقا اور ترقی کی کلید
رانا فہد صفدر خاں
پاکستان کی آبادی، جغرافیہ، معاشی ضروریات اور انتظامی مسائل جس تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ان کے پیش نظر یہ سوال اب محض سیاسی بحث کا موضوع نہیں رہا کہ ملک کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آنے والی دہائیوں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔ پاکستان کو اگر ایک ایسی ریاست بنانا ہے جہاں شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، انصاف، بنیادی سہولتوں اور ریاستی خدمات کے لیے اپنے انتظامی مرکز سے سینکڑوں میل دور نہ جانا پڑے تو انتظامی اصلاحات پر سنجیدہ، غیر جذباتی اور قومی سطح پر غور ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں چھوٹے اور مو¿ثر صوبوں یا انتظامی اکائیوں کا تصور ایک قابلِ غور قومی آپشن کے طور پر سامنے آتا ہے۔
پاکستان کا موجودہ صوبائی نظام ایک تاریخی پس منظر رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا، بڑے شہر میگا سٹیز میں تبدیل ہوئے، نئے معاشی مراکز وجود میں آئے، مواصلات اور ٹیکنالوجی نے معاشرے کی ساخت بدل دی، مگر انتظامی تقسیم بنیادی طور پر اسی وسیع جغرافیائی ڈھانچے کے گرد گھومتی رہی۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بعض صوبے رقبے، آبادی اور انتظامی پیچیدگی کے اعتبار سے اس قدر وسیع ہیں کہ ان کے دور دراز علاقوں تک حکومت کی مو¿ثر رسائی ایک مستقل مسئلہ بن چکی ہے۔ نتیجتاً ریاستی وسائل کا بڑا حصہ بڑے شہری مراکز میں مرتکز ہو جاتا ہے، جبکہ دور افتادہ اور پسماندہ علاقوں کے شہری خود کو ترقی کے مرکزی دھارے سے الگ محسوس کرتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف پنجاب تک محدود نہیں۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے بھی ایسے وسیع علاقے موجود ہیں جہاں جغرافیائی فاصلے، کمزور انفراسٹرکچر، محدود انتظامی موجودگی اور وسائل کی کمی عوامی خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ بنتی ہے۔ بلوچستان میں فاصلے اور جغرافیہ اپنی جگہ ایک بڑا انتظامی چیلنج ہیں، سندھ میں شہری اور دیہی ضروریات کا فرق نمایاں ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں پہاڑی اور سرحدی علاقوں تک ریاستی خدمات کی رسائی ایک الگ نوعیت کا مسئلہ ہے۔ اس لیے چھوٹے صوبوں کی بحث کو کسی ایک علاقے یا ایک صوبے کے تناظر میں دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ یہ پورے پاکستان کے انتظامی مستقبل کا سوال ہے۔
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی نے اس مسئلے کی سنگینی میں مزید اضافہ کیا ہے۔ کروڑوں شہریوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی، نکاسی آب، روزگار، سڑکوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کرنا ایک ایسے انتظامی نظام کا تقاضا کرتا ہے جو عوام کے قریب ہو، فیصلے تیزی سے کر سکے اور مقامی ضروریات کو براہ راست سمجھ سکے۔ ایک بہت بڑے صوبائی سیکریٹریٹ سے ایک دور افتادہ ضلع، تحصیل یا یونین کونسل کے مسئلے کو اسی رفتار اور حساسیت سے حل کرنا مشکل ہوتا ہے جس رفتار سے مقامی سطح پر موجود حکومت اسے سمجھ سکتی ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ چھوٹے صوبوں کا مطلب صرف صوبائی نقشے پر نئی لکیریں کھینچ دینا نہیں۔ اگر نئے صوبے بن بھی جائیں لیکن اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی بدستور چند بڑے مراکز تک محدود رہیں تو محض نام اور حدود کی تبدیلی سے عوام کی زندگی میں کوئی بنیادی فرق نہیں آئے گا۔ اصل اصلاح اس وقت ہوگی جب انتظامی تقسیم کے ساتھ مالی وسائل، سیاسی اختیار، انتظامی استعداد اور فیصلہ سازی بھی نچلی سطح تک منتقل ہو۔ مضبوط مقامی حکومتیں اس پورے عمل کا لازمی حصہ ہونی چاہئیں۔
چھوٹے صوبوں کے حق میں سب سے مضبوط دلیل بہتر حکمرانی کی ہے۔ نسبتاً چھوٹی انتظامی اکائی اپنے علاقے کی ضروریات، معاشی امکانات اور سماجی مسائل کو زیادہ قریب سے سمجھ سکتی ہے۔ اس کے لیے ترقیاتی ترجیحات طے کرنا، سرکاری اداروں کی نگرانی کرنا، تعلیم اور صحت کے نظام کو بہتر بنانا اور بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔ لیکن اس فائدے کو یقینی بنانے کے لیے نئی اکائیوں کو مالی اور انتظامی طور پر قابلِ عمل بنانا ہوگا۔ ورنہ ایک بڑا غیر مو¿ثر صوبہ کئی چھوٹی غیر مو¿ثر اکائیوں میں تقسیم ہو کر بھی مسئلہ حل نہیں کرے گا۔
چھوٹے صوبوں کا ایک اہم فائدہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ترقی کے مواقع زیادہ متوازن ہوں۔ پاکستان میں یہ شکایت عام ہے کہ بڑے شہروں اور نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں کو ریاستی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ ملتا ہے جبکہ دور دراز علاقے بنیادی سہولتوں کے لیے بھی طویل عرصے تک انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اگر انتظامی مراکز عوام کے قریب ہوں تو مقامی مسائل سیاسی اور انتظامی ترجیحات میں زیادہ نمایاں ہو سکتے ہیں۔ یوں ترقی کا عمل چند بڑے شہروں کے گرد گھومنے کے بجائے مختلف علاقائی مراکز تک پھیل سکتا ہے۔
تاہم اس بحث کا سب سے حساس پہلو قومی وحدت ہے۔ پاکستان میں صوبائی شناختیں مضبوط ہیں اور کسی بھی انتظامی تبدیلی کو لسانی یا نسلی عینک سے دیکھنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ اس لیے نئے صوبوں کا مقدمہ کسی قوم، زبان یا علاقے کے خلاف نہیں بلکہ بہتر انتظام، مساوی ترقی اور عوامی سہولت کے حق میں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو چھوٹے صوبوں کی ضرورت اس لیے نہیں کہ بڑے صوبے کمزور کیے جائیں بلکہ اس لیے کہ ہر خطے کو مو¿ثر انتظام، مناسب وسائل اور ترقی کا منصفانہ موقع دیا جا سکے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں وقت کے ساتھ انتظامی اکائیوں کی تعداد اور حدود تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ بھارت نے بھی اپنی ریاستوں کی تشکیل اور حدود میں متعدد بار تبدیلیاں کیں، جبکہ نائجیریا اور ایتھوپیا سمیت کئی ممالک نے انتظامی اکائیوں کو نسبتاً چھوٹا کیا۔ ان تجربات سے ایک بنیادی سبق ضرور ملتا ہے کہ انتظامی نقشہ کوئی جامد چیز نہیں ہوتا۔ ریاستیں اپنی آبادی، جغرافیہ، معیشت اور انتظامی ضروریات کے مطابق اپنے ڈھانچے میں تبدیلی کرتی رہتی ہیں۔ تاہم ہر ملک کا آئینی، سیاسی اور سماجی پس منظر مختلف ہوتا ہے، اس لیے کسی دوسرے ملک کا ماڈل جوں کا توں پاکستان میں نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام آئینی تقاضوں سے مشروط ہے۔ اس لیے اس معاملے کو جذباتی نعروں یا فوری سیاسی فیصلوں کے بجائے پارلیمانی عمل، آئینی طریقہ کار، عوامی مشاورت، معاشی جائزے اور انتظامی منصوبہ بندی کے ذریعے آگے بڑھانا ہوگا۔ ہر مجوزہ صوبے کے بارے میں یہ دیکھا جانا چاہیے کہ اس کی مالی استعداد کیا ہوگی، اس کے وسائل کیا ہوں گے، دارالحکومت کہاں ہوگا، انتظامی اخراجات کیسے پورے ہوں گے، سرکاری ادارے کس طرح منتقل ہوں گے اور شہریوں کو اس تبدیلی سے عملی طور پر کیا فائدہ پہنچے گا۔
اس حوالے سے ایک قومی کمیشن یا غیر جانب دار ماہرین کا کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے جو آبادی، رقبے، جغرافیہ، وسائل، آمدنی، غربت، انفراسٹرکچر، تعلیمی و طبی سہولتوں اور انتظامی رسائی کی بنیاد پر پاکستان کی نئی انتظامی تقسیم کا جامع جائزہ لے۔ اس کمیشن کی سفارشات عوام کے سامنے رکھی جائیں تاکہ یہ فیصلہ سیاسی مفادات کے بجائے شواہد، اعداد و شمار اور قومی ضرورت کی بنیاد پر ہو۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ نئے صوبے کوئی جادوئی حل نہیں۔ غربت صرف صوبائی حدود تبدیل کرنے سے ختم نہیں ہوگی، بے روزگاری صرف نئے سیکریٹریٹ بنانے سے ختم نہیں ہوگی اور تعلیم و صحت کے مسائل صرف نئے صوبائی دارالحکومت قائم کرنے سے حل نہیں ہوں گے۔ ان کے لیے اچھی حکمرانی، میرٹ، احتساب، مضبوط ادارے، بہتر تعلیم، پیداواری معیشت اور مقامی حکومتوں کی مو¿ثر شمولیت ضروری ہے۔ نئے صوبے اس وسیع اصلاحاتی عمل کا ایک اہم حصہ ہو سکتے ہیں، مکمل حل نہیں۔
پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا ہم ایک ایسے انتظامی ڈھانچے کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں کی آبادی اور معاشی تبدیلیوں کے باوجود بڑی حد تک وہی ہے، یا ہمیں مستقبل کے پاکستان کے لیے ایک نیا انتظامی تصور اختیار کرنا ہوگا۔ یہ تصور صوبوں کی تعداد بڑھانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ریاست کو شہری کے قریب لانے کا تصور ہونا چاہیے۔
وقت آ گیا ہے کہ "چھوٹے صوبے” کی بحث کو تقسیم کی سیاست سے نکال کر "بہتر حکمرانی” کی قومی بحث بنایا جائے۔ اگر چھوٹی انتظامی اکائیاں عوام تک ریاست کی رسائی بہتر کرتی ہیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم میں مدد دیتی ہیں، پسماندہ علاقوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہیں اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیار دیتی ہیں تو اس تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ یہ عمل آئین، قانون، قومی اتفاقِ رائے اور عوامی رضامندی کے دائرے میں ہونا چاہیے۔
پاکستان کی بقا صرف اس بات میں نہیں کہ اس کے نقشے پر موجود سرحدیں برقرار رہیں؛ پاکستان کی اصل بقا اس میں ہے کہ اس کا ہر شہری ریاست کو اپنے قریب محسوس کرے، اسے انصاف ملے، اسے تعلیم اور صحت میسر ہو، اسے روزگار کے مواقع ملیں اور اسے یہ یقین ہو کہ قومی وسائل میں اس کا بھی برابر حصہ ہے۔
اسی لیے انتظامی اصلاحات محض حکومتی فائلوں کا موضوع نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل کا سوال ہیں۔ چھوٹے صوبے اگر مضبوط مقامی حکومت، منصفانہ وسائل، مو¿ثر اداروں اور بہتر سروس ڈلیوری کے ساتھ قائم کیے جائیں تو یہ پاکستان کو تقسیم نہیں بلکہ انتظامی طور پر زیادہ مربوط، معاشی طور پر زیادہ متوازن اور سیاسی طور پر زیادہ مستحکم بنا سکتے ہیں۔
اصل نعرہ اس لیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "صوبے توڑو”، بلکہ یہ ہونا چاہیے:”انتظامی اکائیاں چھوٹی، اختیار عوام کے قریب، وفاق مضبوط اور پاکستان خوشحال۔”






