جسٹس عالیہ نیلم تعیناتی پر بے جا اعتراضات

39

جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی طرح جسٹس عالیہ نیلم کی بطور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نامزدگی پر نئی بحث چھڑ گئی۔
اس نامزدگی پر بھی وکلاء منقسم نظر آرہے ہیں۔ کچھ کے نزدیک جسٹس عالیہ نیلم کی پروموشن انکی اہلیت و قابلیت کی بدولت ہے مگر کچھ کے نزدیک انکی تعیناتی ججز سنیارٹی کے اُصولوں کے خلاف ہے۔
سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان کا کہنا ہے کہ سینئر ترین جج کو چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ تعینات ہونا چاہیے۔ ججز سینیارٹی کے معاملے پر سپریم کورٹ کا الجہاد ٹرسٹ کیس کا فیصلہ بڑا واضح ہے۔
جوڈیشل کمیشن کی کارروائی چیلنج کی جائے گی۔ وکلا سنیارٹی کا اصول بحال کرانے کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔
اسی طرح صدر لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اسد منظور بٹ نےسوال اٹھا دیا کہ نظر انداز شدہ دونوں جج اگرقابل نہیں ہیں تو انہیں جج ہی مقرر نہیں ہونا چاہیے تھا اور اگر وہ قابل ہیں تو انہیں نظر انداز کرنیکی ٹھوس وجہ سامنے آنی چاہیے۔
یاد رہے جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ تعیناتی کےوقت جوڈیشل کمیشن کے پانچ اراکین نے حمایت کی جبکہ دیگر چار اراکین بشمول جسٹس قاضی فائز عیسی اور پاکستان بار کونسل کے نمائندہ نے مخالفت کی تھی، جوڈیشل کمیشن میں شامل ججز، بار کونسل ممبر اور وکلاء تنظیموں کے احتجاج و عدالتی بائیکاٹ کےباوجود جسٹس عائشہ ملک نے بالآخر پارلیمانی کمیٹی کی سفارشارت ، وزیراعظم کی ایڈوائس اور صدرمملکت کی منظوری کے بعد پاکستان کی سپریم کورٹ میں پہلی خاتون جج بننے کا اعزاز حاصل کر لیا تھا۔
بندہ ناچیز نے اُس وقت بھی اپنے کالم ” جسٹس عائشہ ملک سپریم کورٹ تعیناتی پراعتراض کیوں؟” میں جسٹس عائشہ ملک تعیناتی کو آئین کے عین مطابق قرار دیا تھا۔ آیئے اس اختلاف کو آئین پاکستان کی روشنی میں پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں کسی بھی جج کی تعیناتی آئین پاکستان کے175A، آرٹیکل 177اور آرٹیکل 193کے تحت عمل میں آتی ہے۔ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان آرٹیکل 175Aکے تحت وجود میں آنے والا ایسا ادارہ ہے جسکا کام ہی سپریم کورٹ، ہائیکورٹس اور وفاقی شرعی عدالت میں ججز کی تعیناتی کے لئےسفارشات مرتب کرنا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججز کی تعیناتی کے حوالہ سے اس کمیشن کی تشکیل کی بات کی جائے تو اسکے ممبران کی کل تعداد 9 افراد پر مشتمل ہوتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اس کمیشن کے چیئرمین، سپریم کورٹ کے چار سینئر ترین ججز اور سپریم کورٹ کے سابقہ چیف جسٹس یا پھر سپریم کورٹ کے ہی ایک سابقہ جج، اسکے علاوہ وفاقی وزیر قانون، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور پاکستان بار کونس کی جانب سے نامزد ایک سینئر ترین وکیل شامل ہوتے ہیں۔ جبکہ ہائیکورٹ کے جج یا چیف جسٹس کی تعیناتی کے لئے اس کمیشن میں ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج، صوبائی وزیر قانون، اور صوبائی بار کونسل کے نامزد وکیل کو شامل کیا جاتا ہے۔ یہ کمیشن اکثریتی فیصلہ کی بناء پر اپنی سفارشات مرتب کرتا ہے۔ آئین پاکستان میں آرٹیکل175A(3)کے تحت صدر سپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج کو چیف جسٹس آف پاکستان مقرر کریں گے۔ اسکےعلاوہ آئین پاکستان کے کسی آرٹیکل میں ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ، سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی کی بابت سنیارٹی کے اُصولوں کا ذکر نہیں ہے۔ نہ جانے آئین و قانون سے آشنا افراد یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اگر چیف جسٹس ہائیکورٹ کی تعیناتی چیف جسٹس آف پاکستان کی طرز پر سنیارٹی کے اُصول پر ہی ہونی ہوتی تواسکا تذکرہ آئین پاکستان میں ضرور ملتا ۔ لہذا جوڈیشل کمیشن ہائیکورٹ کے جج، چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی کی سفارش کے لئے سنیارٹی کے کسی اُصول کی پیروی کرنے کا پابند نہیں ہے۔ یہ کمیشن ججز کی تعیناتی کی سفارش سے پہلے منتخب ججز کی عدالتی کارکردگی، ججز ضابطہ اخلاق کی پیروری کو پرکھتا ہے۔ حیران کن طو رپر ہمارے قانون دان، سیاستدان، ٹی وی ااینکرز، یوٹیوبرز بار بار الجہاد ٹرسٹ مقدمہ کا ذکر کرتے ہیں۔ یاد رہے یہ مقدمہ سال 1996 کا ہے جبکہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے حوالہ سے مشہور زمانہ 18ویں اور 19 ویں آئینی ترامیم جو سال 2010 میں منظور ہوئیں ان میں ججز کی تعیناتی کے حوالہ سے آئین پاکستان میں پائے جانے والے ہر قسم کے ابہام کو دُورکردیا گیا تھا، ان ترامیم میں جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے قیام ، مقاصد اورافعال کا تفصیلی تذکرہ کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر آئین میں چیف جسٹس ہائیکورٹ کی تعیناتی کاطریقہ کار سنیارٹی بنیادوں پر درج ہوتا تو معترض حلقوں کو بار بار سال 1996 کے الجہاد ٹرسٹ مقدمہ کا ریفرنس دینے کی ضرورت ہی نہ پڑتی بلکہ آئین میں درج کسی آرٹیکل کا حوالہ ضرور دیتے۔ سادہ سی بات ہے آئین پاکستان کے آرٹیکلز کسی ممبربار کونسلز ، ججز، وکلاء ، سیاستدانوں، یوٹیوبرز، ٹی وی اینکرز کی رائے سے زیادہ مقدم ہیں۔ آئین پاکستان میں واضح درج ہے کہ سنیارٹی کا اُصول صرف اور صرف چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے وقت لاگو ہوتا ہے۔ اسکے باوجود بھی معترض حلقوں کی جانب سے احتجاج کرنا صرف اور صرف پوائنٹ سکورنگ اور میڈیا میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ قانون کے ادنیٰ سے طالب علم کی حیثیت سے یہ بات جاننے سے قاصر ہوں کہ آئین پاکستان میں ہائیکورٹ ججز، چیف جسٹس ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ ججز اور چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے لئے واضح ہدایات موجود ہیں توپھر پاکستان کے معزز وکلا ء بار بارججز تعیناتی پر احتجاج کیوں کرنا شروع کردیتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.