پاکستان کی خارجہ پالیسی

33


ملک کسی بھی ملک کے سیاسی نظام کے ایک پہلو کا تعلق . اس ملک کے اندرونی معاملات سے اور دوسرا اس کا پہلو اس ملک کے خارجہ امور سے ہوتا ہے
اور یہ بتاتا ہے کہ دوسری قوموں اور ممالک کے ساتھ اس کے گونا گوں تعلقات کی کیا بہترین شکل ہو سکتی ہے جہاں تک پاکستان کی خارجہ پالیسی کا تعلق ہے اس کا اثر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے
پاکستان کی خارجہ پالیسی اسلامی تعلیمات کے مطابق مرتب ہونی چاہیے اسلام مسلم مملکت کے اندرونی امور کے لیے باہمی محبت بھائی چارے پر زور دیتا ہے
بلکہ اپنے عالمی تعلقات کو خوشگوار اور پرامن بنانے کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ بہترین دوستانہ تعلقات استوار کرنے کا بھی حکم دیتا ہے
اسلامی مملکت کی اپنے ہمسایہ ممالک کے کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بہت اہمیت دی گئی ہے
دنیا میں انسانی برادری کی سطح پر اسلامی فکر کی حامل خارجہ پالیسی یقینا عالمی امن کے فروغ میں قابل ستائش کردار ادا کر سکتی ہے
اسلام کی تعلیمات کے مطابق ساری مخلوق اللہ کا کنبہ ہے اس لیے دنیا کے ممالک کے ساتھ پرامن خوشگوار دوستانہ مراسم رکھنے چاہیے
بالخصوص اسلامی ممالک کے ساتھ پرامن خوشگوار اور دوستانہ برادرانہ مضبوط تعلقات رکھنے چاہیے
جیسا کہ قرآن پاک میں ایا ہے
بے شک اہل ایمان اپس میں بھائی بھائی ہیں یہ مثالی اور افاقی تصور اخوت رنگ نسل قبیلے
زبان اور جگرافیائی حدود اور امتیازات سے بالاتر ہیں
خدا کرے ہم زمانہ حاضر کے نازک حالات کا احساس کرتے ہوئے اسلامی اخوت میں منسلک ہو جائیں
اسلامی مملکت کی خارجہ پالیسی میں عالمی امن کے قیام کی بہت اہمیت ہے کیونکہ
اسلام سلامتی امن کا دین ہے یہ دنیا میں کسی قسم کے فساد میں شریک نہیں ہوتا
یہ نہ صرف اپنے ماننے والوں کو باطنی اور خارجی امن دیتا ہے بلکہ یہ تمام انسانیت کی ہدایت فلاح اور سلامتی کا بی حامی ہے
اللہ تعالی کی بنائی ہوئی اس کائنات میں کسی انسان یا قوم کو یہ حق نہیں بنتا کہ وہ فتنہ فساد کی فضا پیدا کرے عالمی امن اور سکون کو غارت کرے
قرآن نے فتنہ فساد بدامنی ظلم نفر انگیز اعمال اور انسانیت پر ظلم کی متعدد ایات میں
پرزور مذمت کر کے دنیا کو یہ بتایا ہے کہ اسلام دنیا میں امن کا علمبردار ہے
یہ دنیا سے ہر قسم کی دشمنی دہشت گردی فتنہ پروری کو ختم کر کے انسانی عظمت اتحاد
اخوت باہمی رواداری اور نیکی کو فروغ دینے کا درس دیتا ہے
بین الاقوامی معاملات اور تنازعات میں مسلمانوں کو حق کا ساتھ دینے اور باطل کی مدد نہ کرنے کا حکم ہے
امن پسندی اور انسانی اخوت و اتحاد کے اصول پر سختی سے عمل کیا جانا چاہیے
اسلام عالم امن کو برباد کرنے والی ہر قوت اور ہر پالیسی کی نہ صرف زبانی طور پر شدید مذمت کرتا ہے
بلکہ یہ اس بدی کو قوت کے ذریعے روکنے اور ختم کرنے کا بھی حکم دیتا ہے
کمزور اور نہتے لوگوں کو حدف ستم بنانے والوں کی ہوس ملکیری اور لوٹ کسوٹ بھی
فسادی عالم کا ذریعہ بنتی ہے اس کو نہ روکنا
اور بے بس اور مظلوم انسانوں کی مدد نہ کرنا اسلامی نظریہ امن عالم سے انحراف کرنے کے مترادف ہے
عالمی امن کے قیام کی خاطر اسلامی مملکت کے دفا ع ملکی اور ملی مفادات کے تحفظ
اور قومی خودداری کی پاسبانی کو کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کرنا چاہیے
عدل اور کی حمایت کرتے ہوئے اسلام نے تمام معاملات اور تنازعات کے لیے منصفانہ اور مصاحلانہ فیصلے
کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ انسانی معاشرے میں ناچاکی نا انصافی فتنہ و فساد اور جنگ و جدل
کی کیفیت پیدا ہو کر
امن و امان کو غارت نہ کرے حالیہ دنوں میں پاکستان اور اسلامی برادر ملک ایران کے درمیان
حالات کشیدہ ہوئے اور نوبت ہتھیاروں کے استعمال تک پہنچ گئی
اور اس موقع پر اس افسوسناک تنازع میں کئی ہلاکتیں بھی ہوئی اسی طرح اج کل
پاکستان اور برادر اسلامی ہمسایہ ملک افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کشیدہ ہیں
اور اس موقع پر ہتھیاروں کا بھی استعمال ہو رہا ہے اور اس موقع پر کئی شہادتیں بھی ہو چکی ہیں
یہ افسوس ناک واقعات ہماری ناکام ناقص خارجہ پالیسی کا ثبوت دیتے ہیں .
اس وقت ایک تجربہ کار وزیر خارجہ کی ضرورت ہے جو کہ مذاکرات کے ذریعے
معاملات کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے
نہ تجربہ کار شخص کو وزیر خارجہ لگایا جائے گا تو حالات ایسے ہی ہوں گے
اس وقت ایک ازاد خارجہ پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے ملک اور قوم کے مفاد میں ہو نہ
کہ عالمی قوتوں کے مفادات پر مبنی خارجہ پالیسی اگر یورپی ممالک اپس میں
جنگوں کے بعد اپنے اقتصادی سیاسی اور دفاعی مفادات کے لیے اکٹھے ہو سکتے ہیں
تو ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کیوں امن اور دوستی کے ساتھ نہیں رہ سکتے
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات استوار کریں
اس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں
ایک دوسرے کی شکایات دور کی جائیں ہمیں اپنی خارجہ پالیسی صرف اور صرف
اپنے ملک اور قوم کے مفاد میں بنانی چاہیے
ہمیں اپنے برادر اسلامی ملک ایران اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے لیے وفود کا تبادلہ کرنا چاہیے
تاکہ اپس میں جو غلط فہمیاں ہیں وہ دور ہو سکیں اسی طرح چائنہ کے ساتھ
جو کہ ہمارا بہت پرانا اور ایک بہت سچا دوست ملک ہے اس کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے
چائنہ کے ساتھ ہمیں اپنے تعلقات کے حوالے سے کسی بیرونی قوت کے دباؤ میں نہیں انا چاہیے
مختلف حکومتوں میں خارجہ پالیسی تبدیل ہوتی رہی پاکستان کو نقصان بھی ہوا
موجودہ حکومت تمام ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات رکھنے کی متمنی ہے اور چین کے ساتھ رکے ہوئے
منصوبوں کو بھی جلد مکمل کرنا چاہتی ہے
پاکستان کو خصوصی طور پر مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح بنیادوں پر اگے لے کر چلنا چاہیے
تاکہ مسلم دنیا کے مسائل حل ہو سکیں
اور مسلمانوں پر جو مشکلات اور مصائب ہیں وہ بھی دور ہو سکیں خارجہ پالیسی کسی ملک کی ریڈ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے
حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں خارجہ پالیسی بناتے وقت
ضروری تقاضے پورے کیے جاتے تھے
ماہرین خارجہ امور کی ایک ٹیم تھی جس کی وجہ سے اسلام دور دور تک پھیلا
اب بھی ہمیں اسلامی خارجہ پالیسی تشکیل دینا ہوگی تاکہ مشکلات سے نجات پا سکیں

افتخار الحق ملک

26/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-5-scaled.webp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.