رمضان، عید اور ہمارے رویے

34

آمد رمضان ہونے کو ہے، چند دن رہ گئے ہیں۔ کچھ دنوں بعد رؤیت ہلال کمیٹی کا اجلاس پوری آب و تاب سے بیٹھے گا
اور چاند کی رؤیت کا اندازہ کرے گا۔
اگرچہ ساری ناتواں بدن قوم چاند کی رؤیت ظاہر نہ ہونے کی دعائیں مانگ رہی ہوگی۔
پھر اگر چاند کی صورت ظاہر ہوگئی تو سب کی شکلیں مرجھا جائیں گی۔
کیوں کہ سب کا بہترین رفیق ایک ماہ کےلیے ان سے کنارہ کش ہو جائے گا۔
اس لیے سب اپنے بہترین ساتھی سے محروم ہوکر بھی پورا ماہ شیطانی کاموں سے باز نہ آئیں گے۔
اس کے اچانک منظر عام سے غائب ہونے کے بعد گویا سب اس کے ساتھی بن کر
ماہ مقدس میں بھی مہنگائی، ملاوٹ اور روزہ داروں پر ظلم و ستم کرکے اپنے حقیقی دوست کی کمی پوری کریں گے۔
اگرچہ بعد میں ان کا حقیقی یار تروتازہ ہوکر عید کی رات سب پہ مسلط ہوکر خوشی خوشی سے پٹاخے پھوڑے گا۔ بچوں کو ورغلائے گا، عید کے دن گلے ملنے اور آپس میں ازسرنو تعلقات استوار کرنے سے روکے گا۔
مگر ہم نے کون سا پہلے کسی کو خوش دلی سے معاف کیا جو اب معاف کر دیں گے۔ ہم نے کب اپنی غلطی تسلیم کرکے دوسروں کی آبرو کی حفاظت کی ہے۔
لہذا یہ تہوار رسم ہی سہی؛ بہرحال میٹھی میٹھی سانولی عید تو ہوگی ناں۔ جس میں بچے رنگ بہ رنگے کپڑوں سے دل لبھائیں گے اور کچھ تو باقاعدہ نمائشی ایکٹر بن کر نقلی پستول سے ارد گرد ہوائی فائرنگ کریں گے۔
اگرچہ پڑوس میں تنگ دست بچے اور بچیاں پچھلے سال کے استری کیے کپڑے پہن کر خوشیاں منا رہے ہوں گے۔
بات چل پڑی معاف کرنے کی تو ہم نے خود سے تہیہ کر رکھا ہے کہ زندگی میں کسی اچھے بھلے بندے کو چنگا نہیں کہنا ہے۔
البتہ بعد از مرگ سب کی اچھائیاں بیان کرنے کی سعی کرنی ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مرنے کے بعد اس لیے ان کی تعریف و توصیف بیان کرتے ہیں کہ اندر ہی اندر سے خوش ہو رہے ہوتے ہیں کہ شکر ہے؛ مرا ہماری جان چھوٹی اس سے۔
سچی بات تو یہ ہے کہ آج ہمیں اچھا بندہ کہلانے کےلیے مرنا ہی پڑتا ہے۔ ورنہ جیتے جی کون کسی کی بغیر مطلب کے تعریف کرے؟
آپسی خلفشار کی وجہ سے ہم ایک دوسرے پہ حسد و نفرت کی وجہ سے جادو و تعویز کرواتے بھی نہیں شرماتے۔ ہمارے اردگرد اکثر عاملوں و جادو گروں کے ڈیرے بنے ہوتے ہیں۔
یہ دراصل شریر جنات کے گڑھ ہوتے ہیں۔ اچھا بھلا بندہ ٹھیک ٹھاک حالت میں
ان عاملوں کے پاس جاتا ہے اور واپسی پہ ان سے شریر ترین جنات لے آتا ہے۔
پھر یہ جنات کبھی بیوی کو، کبھی بچوں کو تو کبھی شوہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ کرتے کرتے آخر کار یہ سب گھر والوں کے جسم میں حلول کر جاتے ہیں۔
اچھا بھلا خوش باش گھرانہ پہلے دھینگا مشتی بنا پھرتا ہے؛ پھر خانہ خراب بن جاتا ہے۔
گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر بات چل رہی تھی۔
عورتوں کے بعد تیسری جنس کے حقوق کی، ہمارا سماج وہ ہے جس کو جیسے جس کے ساتھ باندھ دیا جائے تاحیات وہ اس کی قید سے چھٹکارا نہیں حاصل کر پاتا۔
یہ شرارت جسے بھی سوچی کہ عورتوں اور بچوں کے بعد اب تیسری جنس کو بھی سب کے برابرحقوق دلائے جائیں؛ یہ بات احمقانہ لگتی ہے۔
کیوں ہمارے سماج میں آج تک بیوی کو شوہر سے اور شوہر کو بیوی سے مکمل حقوق نہ مل سکے۔
اس لیے آج بھی اکثر رکشوں پہ لکھا ہوتا ہے: “آ تیرے جن کڈاں” عموما شادیوں کے بعد جو جن نکالے جاتے ہیں،
ان میں سے ایک جنس ہمارے ہاں تیسری جنس بھی کہلاتی ہے۔
کچھ لوگ اس جنس کے حقوق کے درپے ہیں تو حیرت کیسی؟
اس جنس کے جنات تو پہلے ہی نکال دیے جاتے ہیں اب کیا جان نکالنے کا پروگرام ہے؟

تحریر: خالد غورغشتی

08/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-5-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.