قائد ایوان پنجاب کا انتخاب اور اپوزیشن رویہ

31

پنجاب اسمبلی کا اجلاس نئے سپیکر ملک محمد احمد خان کی زیر صدارت شروع ہوا
جس میں وزیراعلیٰ چناؤ ہونا تھا مگر اُس وقت انتہائی بدمزگی کا شکار ہوگیا،
جب سنی اتحاد کونسل کے امیدوار رانا آفتاب احمد خان نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنا چاہی تو سپیکر کا کہنا تھا کہ”آج کا اجلاس ایجنڈا صرف وزیراعلیٰ چناؤ،بات نہیں ہو سکتی“۔
رانا آفتاب خان ہر صورت بات کرنا چاہتے تھے،بات کی اجازت نہ ملنے پر اپنے ارکان کے ساتھ
ایوان سے واک آؤٹ کر کے لابی میں چلے گئے۔ملک محمداحمد خان ایک سینیئرقانون دان اور
منجھے ہوئے پارلیمنٹیرین ہیں۔
ایک انتہائی باوقار،ملنسار اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے انسان ہیں۔ہر بات کو اچھے انداز اور
قانونی پہلوؤں سے لیتے ہیں۔
اِنہوں نے ایک قانونی بات کی تھی، جو رانا آفتاب خان کی سمجھ میں نہیں آئی۔سپیکر کی جانب سے
اِنہیں منانے کے لیے فوری چار رکنی کمیٹی بنائی گئی،جو اِن کو منا کر لے آئی مگر معاملہ پھر وہی ہوا
اِنہوں نے آتے ہی پھر سے بات کرنے کی کوشش کی،جو نہ کرنے دی گئی تو دُوبارہ سے رُوٹھ کر چلے گئے۔
محترمہ مریم نواز کا اِس موقع پر یہی کہنا تھا کہ اپوزیشن کو منا کر لایا جائے،جیتیں یا ہاریں، مقابلہ کریں
یہ جمہوریت کا حسن ہے مگر تمام تر کوششوں کے باوجود وہ نہ آئے
جس پر سپیکر نے کچھ دیر مزید اور انتظار کیے ووٹنگ شروع کروا دی،یوں وزیراعلیٰ انتخاب مرحلہ شروع ہوا
اور مکمل ہونے پر محترمہ مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب منتخب ہو گئی۔
جمہوریت میں اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہوتا ہے مگر یوں ہی خوامخواہ میں اپوزیشن کا اجلاس
بائیکاٹ کرنا اچھی روش نہ ہے۔
وزیراعلیٰ انتخاب کے عین وقت محض صرف بات کی اجازت نہ ملنے پر رُوٹھ جانا،شور مچانا اور
پھر سب چھوڑ کر ووٹنگ کارروائی سے بھاگ جانا عدم برداشت اور ہار کا احساس ہی تو ہے
وگرنہ ووٹنگ مرحلے میں ایوان میں بیٹھنا اور اِس میں حصہ لینا ہی اصل جیت ہوتی،
یہ سب سنی اتحاد کونسل کی عددی شکست کے ساتھ ذہنی ہار ہے۔
کیا عجب تماشا ہے کہ قوم نے اِن کو ووٹ اِس لیے دیے ہیں کہ ایسے تماشے کرتے پھریں؟
کیا عجیب حرکتیں تھیں جو وزیراعلیٰ چناؤ وقت دیکھنے کو ملی۔
افسوس! ایسے تو کچھ نہ ملنے پر ایک ننھا منا معصوم سا بچہ بھی نہیں رُوٹھتا،
جیسے اپوزیشن ارکان کچھ نہ پانے پر ناراض نظر آتے تھے۔رانا آفتاب خان کا میڈیا بیان میں یہ کہنا کہ”
خفیہ رائے شماری ہوتی تو سرپرائز آ سکتا تھا“
جیسی بات بھی ایک دیوانے کا خواب یا بڑ زیادہ تھی کہ جو اپوزیشن سپیکر،ڈپٹی سپیکر انتخاب میں بُری طرح ہاری،وزیراعلی انتخاب میں خاک جیت پاتی۔
رانا آفتاب خان کی ایسی سیاسی باتوں اور بیانیوں میں سیاسی بصیرت کہاں؟؟؟
ہاں محترمہ مریم نواز کے بیانات میں ایک اعتدال اورتوازن تھا جو سیاست میں اُن کی
برتری اور معیار کو ظاہر کر رہا تھااور بہترین سیاسی تربیت کا عکاس تھا اور بتا رہا تھا کہ
انہوں نے اپنے پاپا میاں محمد نواز شریف اور اپنے چچا میاں محمد شہباز شریف سے
کیسی عمدہ اور بہترین سیاسی تربیت پائی ہے۔
مریم نواز کے لب و لہجہ میں ایک پختگی و وقار نظر آیا،خاص کر اُن کا اپنی کرسی سے اُٹھ کر اپوزیشن رہنما رانا آفتاب خان کے پاس جانا،اُن سے ملنا اور جذبہ خیرسگالی تحت یہ کہنا کہ
میں اُن کی ہی نہیں،آپ کی بھی وزیراعلیٰ ہوں،
میرے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں“سب کو بہت بھایا اور اِنہیں اپنوں اور بیگانوں میں مزید سربلند اور ممتاز بنا گیا،
جو ایک بہترین جمہور ی روایات ہیں مگر اپوزیشن رویہ وہی روتے دھوتے،شور مچاتے اور فضول باتیں کرتے ہجوم جیسا ہے جو مناسب بات نہ ہے۔

اے آر طارق 04/03/24
بے تکی باتیں

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-25-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.