مثلٰ سائباں ہستی!!پیر سیدمنظورحیدر گیلانی اعلی اللہ مقامہ
تحریر۔۔۔ الیاس علی چوہدری
جنابِ میر تقی میر نے ہم جیسےمجروح لوگوں کی کیاخوبصورت انداز میں ترجمانی فرمائی ہے۔
روتے پھرتے ہیں ساری ساری رات
اب یہی روز گار ہے اپنا
سایئں منظور حیدر گیلانی جیسی ہستی پردہ نشین ہو جائے-
تو پھر !
زندگی سے زندہ دلی کا اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔
اُن کی جدائی سے آج دل بوجھل ہے۔
لفظ تھک گئے ہیں۔
اور خاموشی بول رہی ہے۔
وہ چلے گئے۔
مگر!
اُن کےبچھڑنے کا دکھ
لفظوں میں نہیں سماتا۔
یہ درد دل کے کسی کونے میں خاموشی سے بیٹھا اندر ہی اندر سےگھن کی طرح کھاتا رہتاہے۔
اور!
جب کبھی یہ درد کرب میں تبدیل ہو کر انگڑائی لیتا ہے تو پھر جسم و دل کے ساتھ روح کو بھی تارتار کر دیتا ہے😭
ہم نے ایک ایسی ہستی کو کھو دیا۔
جو ہمارے لیے !
سایہ کی مانندتھے۔
دعاوں کا خزینہ تھے۔
حوصلہ و ہمت کا استعارہ تھے۔
اُن کی مسکراہٹ یاد آتی ہے۔
اُن کی خاموش دعایئں یاد آتی ہیں ۔
محبت کا وہ انداز!
جس میں دکھ بھی ہلکا ہو جاتا تھا۔
اُن کی یاد کے لمحات اب بھی آنکھ نم کر جاتےہیں۔
سایئں جی ایسی مہرباں ہستی تھے کہ!
وقت گزرنے۔
دنوں کےبدلنے کے باوجود۔
اُن کے جانے سے دل کے موسم نہیں تبدیل ہو رہے۔
یہ الگ بات ہے !
گو کہ اب وہ سامنے موجود نہیں ہیں!
مگر ہر مشکل میں اُن کی آواز اب بھی سنائی دیتی ہے۔
سایئں جی بڑے انسان تھے مگر!
کبھی بلندی پر خود کو کھڑا نہیں کرتے تھے۔
ہمیشہ مجھ جیسے سیاہ چہرہ و سیاہ دل والوں کے برابر،
ہمیشہ کمزور لوگوں کے درمیان فرش نشیں،
آپ کی آنکھوں میں شفقت اور خاموشی میں حوصلہ کی نعمت پوشیدہ تھی۔
وہ ٹوٹے دلوں کو جوڑنے اور سنبھالنے کا ہنر رکھتے تھے۔
وہ معاشرے کے پِسے ہوئے طبقات کے لیے سائباں کی مانند تھے۔
آپ صبر و حوصلہ کا وہ کوہِ گراں کہ!
وقت کے تھپیڑوں کو خاموشی سے سہہ جانے والے،
مشکلات آئیں یا طوفان آئے مسکرا کر ٹھہر جانے والے۔
کیونکہ اُنہیں شہنشاہِ مسجودِ وفا مولا عباس علمدار صلواتہ اللہ کی پاک ذات سے خاص مودت و عقیدت تھی جس کا اظہار اُن کے ایک شعر میں بھی ملتا ہے۔
آسماں بھی ٹوٹ کرسر پرگرےتوغم نہ کر
واسطہ شبیر کا دے کر بتا عباس کو
آپ کا خمیر ایسی مٹی سے ااُٹھایا گیا تھا کہ !
نا انصافی ہوئی دعا دے دی،
کسی نے اذیت دی تو بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ!
طاقت ہاتھ میں نہیں،
برداشت دل میں ہوتی ہے۔
مجھ جیسا بے بصیرت انسان آج بھی!
اُن کی باتوں کو یاد کر کے اپنے زخم سی لیتا ہے،
اپنا حوصلہ جوڑ لیتا ہے۔
آپ وہ درویش منش ہستی تھے کہ!
سب کا خیال رکھتے۔
نام پوچھے بغیر۔
ذات و مرتبہ دیکھے جانے بغیر۔
آپ کے لہجہ میں سختی کا گذر نہیں تھا۔
نگاہ میں تحقیر نہ تھی۔
آپ کی بارگاہ ایسی تھی کہ!
کوئی خالی نہیں لوٹتا تھا۔
کسی کا دستِ سوال رد نہیں ہوتا تھا۔
ہر کسی کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھتے تھے۔
ہر کسی کے آنسو پونچھنے والے۔
حق بات تو یہ کہ آپ وہ ہستی تھے جنہوں نے اپنے قول و فعل سے اپنی نسبت کا ہمیشہ پاس رکھا۔
معاشرے میں سیادت کے وقار کی حقیقی ترجمانی اپنے عمل و کردار سے فرمائی ۔
سایئں جی آپ تو یقیناً سجدہِ دائمی کی خاطر اپنے کریم و رحیم مولا پاک صلواتہ اللہ علیہ کی بارگاہ میں پیش ہو چکے ہیں۔
جس کا ادراک و شعور!
مجھ جیسا گمراہیوں کی وادیوں میں سرگرداں شخص نہیں رکھتا ۔
مگر!
آپ کی جدائی کے دُکھ کے ساتھ۔
آپ کے بے وقت چلے جانے کے ارمان کے ساتھ-
آپ کے پردہ فرمانے کے اُن دکھوں کے ساتھ جن کا میں شعور نہیں رکھتا۔
دُکھ و افسوس کے غلاف میں لپٹا ایک درد یہ بھی ہے ۔
کہ !
احقر اپنے گناہوں کی وجہ سے آپ کو پہچان نہ پایا۔
آپ کی بارگاہ سے عرفان کی خیرات سے اپنی جھولی نہ بھر سکا۔
فیض کے سمندر سے ایک قطرہ بھی حاصل نہیں کر پایا۔
آپ کے مقصدِ حیات کو نہیں پہچان پایا۔
اور سب سے بڑا دُکھ کہ آپ کو اپنے جیسا انسان سمجھا۔
حالانکہ۔
اعلٰی کو ادنٰی سے کیا نسبت۔
بلندی کا پستی سےکیا موازنہ۔
مگر حق یہ ہے کہ!
میرے پاس وہ ظرف ہی کہاں تھا جو اس ایقان و عرفان کی نعمت کو سمیٹ پاتا جو آپ تقسیم فرما رہے تھے۔
سایئں جی! ہم نے آپ کی بارگاہ کو نشستن گفتن برخاستن تک محدود رکھا۔
میں اور ایسی سوچ رکھنے والے مجھ جیسے سب مجرم ہیں ۔
یقیناً ہمارا یہ جرم ناقابلِ معافی ہے۔
مگر !
آپ کی ذات ذی وقار کی نسبت کریم خانوادہ صلواتہ اللہ علیہ سے ہے۔
اب بھی میں مایوس نہیں ہوں ۔
آپ اب بھی اُس راہ پر چلنے کی رہنمائی اور توفیق عطا فرما سکتے ہیں۔
اُس رستہ کی رہنمائی!
جو رستہ آپ کا تھا جو یقیناً راہِ مستقیم تھا۔
اس راہِ حق پر چلنے اور ثابت قدم رہنے کی توفیق بھی آپ کے وسیلہ سے ہی ممکن ہیں ۔
جناب عشرت قادری کے شعر سے اپنے بے ربط و ٹوٹے پھوٹے الفاظ کو سمیٹتا ہوں
وہ تیرے بچھڑنے کا سماں یاد جب آیا
بیتے ہوئے لمحوں کو سسکتے ہوئے دیکھا






