عالمی امن اور نمائندگی کا بحران
محمد محسن اقبال
1945ء میں اقوامِ متحدہ کا قیام اس وقت عمل میں آیا جب لیگ آف نیشنز دنیا میں امن کے قیام اور اس کے تحفظ میں ناکام ہو چکی تھی۔ سلامتی کونسل کی تشکیل بھی دوسری جنگِ عظیم کے بعد وجود میں آنے والی عالمی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے کی گئی، جس میں پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار دیا گیا اور چند نشستیں غیر مستقل ارکان کے لیے مختص کی گئیں۔ اس بنیادی ڈھانچے میں 1965ء کے بعد سے کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی، سوائے اس کے کہ غیر مستقل ارکان کی تعداد چھ سے بڑھا کر دس کر دی گئی۔ ویٹو کا مقصد یہ تھا کہ بڑی طاقتوں کو عالمی نظام کے اندر رکھا جائے اور ان کے درمیان براہِ راست تصادم کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔ لیکن آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود یہ عالمی ادارہ آج بھی بڑی حد تک 1945ء کے نقشے کی چھاپ لیے ہوئے ہے، حالاں کہ اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک کی تعداد اب 193 ہو چکی ہے اور دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ چنانچہ سلامتی کونسل کی موجودہ ساخت اب اس عالمی برادری کی حقیقی عکاسی نہیں کرتی جس کی خدمت کا اسے فریضہ سونپا گیا ہے۔2008ءمیں جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں اصلاحات کے جائزے کے لیے بین الحکومتی مذاکرات کا آغاز کیا۔ ان مذاکرات میں بنیادی طور پر پانچ باہم مربوط امور زیرِ بحث رہے ہیں جن میں رکنیت کی اقسام، ویٹو کا اختیار، علاقائی نمائندگی، کونسل کا حجم اور اس کے طریق? کار شامل ہیں۔ آج بھی افریقہ مستقل نشست سے محروم ہے۔ لاطینی امریکا، جنوبی ایشیا اور مسلم دنیا کے وسیع حصے کو بھی مناسب نمائندگی حاصل نہیں۔ موجودہ بندوبست کو بڑی حد تک نوآبادیاتی نظام کی باقیات سمجھا جاتا ہے، جس میں فیصلہ سازی کی قوت چند ریاستوں کے ہاتھوں میں مرتکز ہے۔ بہت سے حلقوں کا خیال ہے کہ اگر سلامتی کونسل کو اپنی ساکھ اور مو¿ثریت دوبارہ حاصل کرنی ہے تو ابھرتی ہوئی طاقتوں اور اہم علاقائی ممالک—جن میں پاکستان، برازیل، مصر، جنوبی افریقہ، نائیجیریا، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، میکسیکو اور بھارت شامل ہیں—کو عالمی فیصلہ سازی میں زیادہ مو¿ثر کردار ملنا چاہیے۔تاہم اصلاحات کا یہ معاملہ ایک ایسی گرہ بن چکا ہے جسے کھولنا آسان دکھائی نہیں دیتا۔ گروپ آف فور اپنے لیے مستقل نشستیں اور افریقہ کے لیے دو مستقل نشستوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ افریقی گروپ مکمل ویٹو اختیارات کے ساتھ دو مستقل نشستوں کا خواہاں ہے۔ فرانس اور میکسیکو کی جانب سے یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ مستقل ارکان اجتماعی مظالم اور انسانیت کے خلاف بڑے پیمانے پر ہونے والے جرائم کے معاملات میں رضاکارانہ طور پر ویٹو کے استعمال سے گریز کریں۔ دوسری جانب یونائٹنگ فار کنسنسس گروپ، جس کی قیادت پاکستان کر رہا ہے اور جسے اٹلی، میکسیکو، ارجنٹینا، کینیڈا اور جنوبی کوریا سمیت متعدد ممالک کی حمایت حاصل ہے، مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے کی مخالفت کرتا ہے۔ اس کے بجائے یہ گروپ منتخب ارکان کی تعداد بڑھانے، ان کی مدتِ رکنیت طویل کرنے اور دوبارہ انتخاب کا راستہ کھولنے کی تجویز دیتا ہے۔ یوں مختلف گروہوں کے باہمی اختلافات ایک دوسرے کی اکثریت کو زائل کر دیتے ہیں اور اصلاحات کا عمل جمود کا شکار ہے۔مستقل ارکان کی تعداد بڑھانا شاید سلامتی کونسل میں حقیقی اصلاح کے بجائے مراعات کے ایک نئے نظام کو مستحکم کرنے کے مترادف ہوگا۔ مزید ممالک کو ویٹو کا اختیار دینے سے ایسے مواقع بڑھ جائیں گے جب قومی مفادات عالمی اقدام کی راہ میں دیوار بن جائیں۔ غزہ کی تباہی کے دوران بارہا امریکی ویٹو اس امر کی واضح مثال بن چکے ہیں کہ ایک مستقل رکن کس طرح باقی دنیا کی اجتماعی خواہش کو مفلوج کر سکتا ہے۔ مزید مستقل ارکان کا اضافہ باہم متصادم قومی مفادات کو بڑھائے گا اور ادارہ جاتی مفلوجیت کے خطرے میں اضافہ کرے گا۔ مستقل رکنیت ایک مرتبہ مل جائے تو اسے واپس لینا عملاً نہایت دشوار ہو جاتا ہے؛ چنانچہ نئے مستقل ارکان مستقبل میں کسی بھی اصلاحی کوشش کو روکنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔بھارت کا مستقل نشست کا دعویٰ بھی خصوصی توجہ اور سنجیدہ غور کا متقاضی ہے۔ مستقل رکنیت کے لیے کسی ریاست کے اقوامِ متحدہ کے منشور سے مسلسل وفاداری اور عالمی اصولوں کے احترام پر اعتماد بنیادی تقاضا ہونا چاہیے۔ جموں و کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں پر عمل درآمد سے بھارت کا انکار، اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کی مخالفت اور مقبوضہ علاقے کی آئینی حیثیت میں یک طرفہ تبدیلیاں اس معیار کے ساتھ ہم آہنگ دکھائی نہیں دیتیں۔ متنازع خطے اور دیگر مقامات پر انسانی حقوق کی صورتِ حال، سندھ طاس معاہدے کی معطلی، سرحدوں سے باہر مبینہ جبر، شہریت ترمیمی قانون، روہنگیا پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک اور ایسی خارجہ پالیسی جو اسرائیل کے لیے تزویراتی سہولت کا باعث بنی ہے، سب جائز سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ مزید برآں جوہری عدم پھیلاو¿ کے معاہدے اور جامع ایٹمی تجربات پر پابندی کے معاہدے سے بھارت کا باہر رہنا بھی عالمی برادری کے لیے تشویش کی ایک اضافی وجہ ہے۔جرمنی کی مستقل رکنیت کی خواہش کو بھی مختلف نوعیت کے اعتراضات کا سامنا ہے۔ یورپ پہلے ہی دو مستقل نشستوں کا حامل ہے؛ تیسری نشست کا اضافہ علاقائی عدم توازن کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔ غزہ کے معاملے پر جرمنی کے حالیہ مو¿قف کو بھی بعض حلقوں نے ان انسانی اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے جن کی پاسداری کی توقع مستقل ارکان سے کی جاتی ہے۔ مزید برآں، حالیہ انتخاب میں جرمنی کا غیر مستقل نشست بھی حاصل نہ کر پانا اس امر کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اس کی خواہشات کو مطلوبہ وسیع عالمی حمایت حاصل نہیں۔یونائٹنگ فار کنسنسس کی تجویز اس پیچیدہ مسئلے کا نسبتاً متوازن اور محتاط راستہ پیش کرتی ہے۔ منتخب ارکان کی تعداد دس سے بڑھا کر بیس کرنے سے افریقہ، ایشیا بحرالکاہل، لاطینی امریکا اور کیریبین کے ممالک کے لیے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے، لیکن اقتدار کے نئے مستقل مراکز وجود میں نہیں آئیں گے۔ باقاعدہ انتخابات ارکان کو وسیع تر عالمی برادری کے سامنے جواب دہ رکھیں گے۔ علاقائی گردش کے ذریعے مزید ممالک کو عالمی امن و سلامتی کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ وسیع تر شرکت فلسطین، یوکرین اور دیگر دیرینہ تنازعات جیسے پیچیدہ مسائل پر غور و فکر کے معیار کو بہتر بنا سکتی ہے، جبکہ ایسے مزید ویٹو اختیارات پیدا کرنے سے بھی بچا جا سکے گا جو ماضی میں بارہا فیصلہ سازی کو تعطل کا شکار بنا چکے ہیں۔سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مقصد اس کی ساکھ اور نمائندگی کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اس کی عملی صلاحیت کو قربان کرنا۔ مستقل ارکان کی تعداد بڑھانے سے مراعات یافتہ نشستوں میں اضافہ ہوگا، ادارہ جاتی جمود کا خطرہ بڑھے گا اور مستقبل میں اصلاحات کا راستہ مزید دشوار ہو جائے گا۔ وسیع تر جغرافیائی نمائندگی کا زیادہ مو¿ثر راستہ منتخب ارکان کی تعداد میں اضافہ ہے۔ یونائٹنگ فار کنسنسس کا تصور موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچے کو برقرار رکھتے ہوئے شمولیت کو وسعت دیتا، باقاعدہ انتخابات کے ذریعے جواب دہی کو فروغ دیتا اور پوری عالمی برادری کے اجتماعی مفادات کی بہتر عکاسی کرتا ہے۔ لہٰذا پائیدار اصلاحات کا راستہ مراعاتِ مستقلہ اور ویٹو کے دائرے کو وسیع کرنے میں نہیں، بلکہ شرکت کے دروازے کھولنے، علاقائی توازن مضبوط کرنے اور عالمی نمائندگی کو حقیقی معنوں میں وسیع کرنے میں پوشیدہ ہے۔






