بس ! بہت ہوچکا اب اور نہیں

24

گاؤں میں دو میراثی رہتے تھے جن کو چوہدراہٹ کا بہت شوق تھا۔
ایک بار ان کی لاٹری نکلی تو ان کے پاس اچھا خاصہ پیسہ آ گیا۔
دونوں میراثیوں نے چوہدری بننے کے لیے ایک اعلی ڈیرہ بنوایا لیکن ان کے پاس کوئی بھی اپنا مسئلہ لے کر نہ جاتا
صبح سویرے اٹھ کر حقّہ لیے، دونوں میراثی ڈیرے پر چلے جاتے۔
ایک میراثی حُقّے کا کش لگا کر حُقّہ دوسرے کی طرف کرتا اور کہتا،
“چِھک چوہدری”
اور پھر دوسرا میراثی کش لگا کر کہتا،
“ہُنڑ توں چِھک چوہدری”
سچ پوچھیں تو آج ملک عزیز اور قوم بھی نام نہاد چودھریوں کے ہاتھوں یرغمال بنی نظر آتی ہے ، اور سیاستدانوں کے روپ میں حقہ چِھک چوہدری بجائے ملک اور قوم کی بہتری سوچنے کے آپس میں باریاں تبدیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔
سیانے کہتے ہیں کہ انا محبت کی دشمن ہوتی ہے اور انا کی آگ محبت کو جلا کے راکھ کر دیتی ہے۔
آج کل وطن عزیز کے حالات دیکھ کر بعینہ یہی احساس ہوتا ہے کہ کسی کو اس وطن سے رتی بھر محبت نہیں ہے۔کسی کو اس وطن اور اسکے تار تار ہوتے مستقبل کو رفو کرنے کی چاہت نہیں ہے۔
ریاست کے وہ تمام ستون جن پہ کسی بھی ملک کی بنیادیں مضبوطی سے کھڑی ہوتی ہیں، جو وطن کو پھلنے پھولنے اور ترقی کرنے میں پانی،ہوا کا کردار ادا کرتی ہیں وہ سبھی انا کی آگ میں جل کے بھسم ہو چکی ہیں۔
اس وقت پاکستان کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
الیکشن الیکشن کی رٹ لگانے والی پی ٹی آئی کو جب اقتدار ملا تو اس نے بھی مایوس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ عوام نے تبدیلی کی آس میں جنہیں چنا تھا
انہوں نے بھی کم و بیش وہی کارکردگی دکھائی اور بعد میں 16ماہ انجوائے کرنے اور بادشاہی کے گُر سیکھنے والوں نے تبدیلی والوں کی جیل یاترا اور پھر نگرانوں نے جو نگرانی کے نام پر لمبی دیہاڑیاں لگا کر جی بھر کے دل کے ارمان پورے کئے
اور مزے کی بات کہ 2024 کے الیکشن کے بعد پی ڈی ایم ٹو جہاز کے کپتان میاں برادران، سنی اتحاد کے روپ میں کپتان کے کھلاڑی ، جئے بھٹو والے، مولانا صاحب ، سبھی آپس میں گتھم گتھا ہیں
اور بظاہر “سیاسی اکھاڑے” سے باہر بیٹھے ” بااثر “ سبھی اس سیاسی دنگل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
ٹانگ پہ ٹانگ رکھے اس سارے تماشے کو دیکھنے، دکھانے، کرنے اور کروانے والوں میں بالکل احساس نہیں کہ ان کا ہر ایک قدم پاکستان کو دس سال پیچھے دھکیل رہا ہے۔
ملکی معیشت کا بیڑا غرق ہو چکا ہے مہنگائی ساتویں آسمان سے بھی اوپر جا چکی ہے۔
دن بدن بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ٹیکسز نے عوام الناس کا قتل عام شروع کر رکھا ہے
لیکن مجال ہے کہ اس سیاسی دنگل سے کسی کو فرصت ہو۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آخر یہ سب لوگ چاہتے کیا ہیں؟
ان سب “سیاسی اور غیر سیاسی” جتھوں کے مقاصد کیا ہیں؟ کیا محض اقتدار کی کرسی؟
اور یہ کرسی اب انہیں مل بھی چکی ہے تو یہ کونسا چمتکار کر دیں گے
جس سے رات و رات پاکستان کے حالات سدھر جائیں گے اور یہ ترقی کی راہوں پر سر پٹ دوڑنے لگے گا؟؟
پچھلے 76 سالوں سے اقتدار کی کرسی کے گرد جاری رہنے والی میوزیکل چیئر گیم نے ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں بری طرح تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ کوئی ایک بھی ایسا شعبہ نہیں جس میں ہم سر اٹھا کر فخر سے دنیا والوں کو بتا سکیں کہ لو دیکھو یہ ہے ہماری کامیابی ! دیکھو یہ ہے ہماری پچھلے پچھتر سالہ محنت کا نتیجہ۔ سیاسی،معاشی، معاشرتی، مذہبی، تعلیمی، ادبی و علمی ، سائنسی اور تکنیکی ہر ایک اعتبار سے ہم بدترین تنزلی کا شکار ہیں۔ ہمارے ہمسایہ ممالک ہمارے سیاسی تماشے کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ ہم سے پیچھے رہ جانے والے ممالک ہم سے کہیں آگے بڑھ چکے ہیں۔ لیکن ہمارا وطن ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے بھی اتنا متزلزل اور کمزور ہو چکا ہے کہ حالات سنبھالے نہیں سنبھلتے۔ اور ان دگرگوں حالات کی صرف ایک ہی وجہ ہے کہ جو بھی اقتدار میں آیا اس نے پاکستان کو اپنی انا کی بھینٹ ہی چڑھایا۔ ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے الیکشن کے ذریعے منتخب ہو کر آئے ہوں یا مارشل لاء کے نفاذ کا نتیجہ ہوں سبھی نے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس وقت اشد ضرورت ہے کہ پاکستان کو مضبوط کیا جائے۔ اس کے سبھی ستونوں کی تعمیر و مرمت کی جائے۔ جیسے بستر مرگ پر پڑے بیمار کو خون کی بوتل طاقت و توانائی فراہم کرتی ہے اسی طرح پاکستان کو مضبوط بنانے اور معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے از سر نو ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ ترقی پسند قومیں آگے کا سوچتی ہیں نا کہ ماضی کی غلطیوں پہ سر پیٹتی رہیں۔ اس وقت پاکستان کی بقا اور سالمیت کے لیے از حد ضروری ہے کہ مستقبل کی پلاننگ کی جائے۔ چند دن پہلے میری ایک دوست سے بات ہوئی جو امریکہ میں بسلسلہ روزگار مقیم ہے انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ جس پروجیکٹ پہ کام اور تحقیق کر رہے ہیں اسکا ہدف اگلے تیس سال کی بجلی و پانی کی پلاننگ ہے کہ آ ئندہ تیس سے چالیس سالوں میں یہاں کے باسیوں کو کتنی بجلی اور کتنے پانی کی ضرورت ہو گی اور اس پہ تحقیق اور منصوبہ بندی ابھی سے شروع کر دی گئی ہے۔ دنیا میں ترقی یافتہ قومیں اگلے سو سال کا سوچتی ہیں۔ اگلے سو سال کی پلاننگ کر کے اس حساب سے اپنے اہداف مقرر کرتی ہیں۔ اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کومحفوظ بنانے کیلیے دن رات ایک کر دیتی ہیں۔ ذہنی پختگی اور سیاسی شعور رکھنے والی قومیں اس بات کی پرواہ نہیں کرتیں کہ حکومت کس جماعت کے ہاتھوں سے نکل کر کس جماعت کو متنقل ہو رہی ہے۔ وہ صرف اسے ووٹ دیتے ہیں جو ان کا انکے مستقل کا محافظ ہو گا۔ ترقی یافتہ قومیں اقتدار صرف اس کے حوالے کرتی ہیں جو ذاتی مفاد و عناد اور ذاتی انا سے بالا تر ہو کر ملک و قوم کے حق میں فیصلہ کرے۔ جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے۔ سیاسی جماعتوں کی آپس کی لڑائی، عناد و نفرت کو ہوا دینے میں جہاں حکمران جماعتیں عوام کو ڈھال بناتی ہیں تو وہیں سیاسی شعور سے نابلد اور جاہل مطلق عوام ان کا پورا پورا ساتھ دیتے ہیں۔ ہمیں ایسے رہنماؤں کی اشد اور فی الفور ضرورت ہے جو ان تمام گھٹیا سیاسی ہھتکنڈوں اور سیاسی انا و عناد سے بالاتر ہو کر صرف ملک و قوم کے حق میں دلیرانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ جو ہماری آئندہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے پر محنت کرئے اور کرپشن کے دلدل میں پھنسے ہوئے اس وطن عزیز کو عدل کے آہنی ہاتھوں سے پکڑ کر نکالنا جانتا ہو۔ جو اناؤں کی بھینٹ چڑھتے پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے اقبال اور قائد کی صفات کا حامل ہو۔ اور ایسا صرف تبھی ممکن ہے جب عوام اس پٹے ہوئے نظام کو اپنے شعور کا استعمال کرتے ہوئے شکست دیں گے ۔ خود کو بدلیں گے تاکہ پاکستان بدل سکے اور ہم پاکستان کے لفظ کی حقیقی روح سے روشناس ہو سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.