محتسب پنجاب عام آدمی کے حصول انصاف کا ذریعہ

33


یہ 1999کی بات ہے جب میں نے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا
میری سیکنڈ ڈویزن تھی مگر نمبر بہت ہی کم تھے اس پر میں نے سوچا کہ دوبارہ امتحان دے کر اپنے نمبرز بڑھا لو ں تاکہ ایم ایس سی فزکس کے لیے اچھے کالج میں داخلہ مل جائے
ان دنوں ایم ایس سی کی کلاسز چند کالجز تک محدود تھی جن میں اسلامیہ کالج ریلوے روڈ،اسلامیہ کالج سول لائنز،ایم اے او کالج اور سائنس کالج وحدت روڈ شامل تھے ۔
چند دنوں تک رزلٹ کارڈ کا انتظار کیا مگر وہ گھر پر موصول نہ ہواان دنوں شعبہ امتحانات کا ایک حصہ پنجاب یونیورسٹی اولڈ کیمپس کی پہلی منزل پر تھا جہاں پر میں نے رابطہ کیا اور اپنی درخواست دی
مجھے چند دنوں کے انتظار کا کہا گیا اور جب دوبارہ میں وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ آپ کا رزلٹ کارڈ آپ کے گھر بھیج دیا گیا تھا وہاں سے کسی نے موصول کرلیا ہے۔
اس جواب کے بعد میرا اصل امتحان شروع ہوا جس میں ،میں نے اپنے نزدیکی ڈاک خانے موچی گیٹ سے لے کر ریلوے اسٹیشن کے ڈاک گھر تک ایک ہفتہ شٹل کاک کی طرح گزارا
اور آخر میں یہی بات سامنے آئی کہ میرا رزلٹ کارڈ ان دونوں جگہوں پر نہیں پہنچا
اس بات کے دستاویزی ثبوت لے کر میں نے دوبارہ یونیورسٹی کی متعلقہ برانچ سے رابطہ کیا
تو ان کا وہی جواب تھا کہ آپ کا رزلٹ کارڈ آپ کے گھر بھیج دیا گیا ہے
اور اب اگر آپ کو نیا رزلٹ کارڈ چاہیے1000روپیہ یونیورسٹی کے اکائونٹ میں جمع کروائیں
 تو آپ کو بائی ہینڈ رزلٹ کارڈ دے دیا جائے گا ان دنوں نمبر بڑھانے کے لیے دینے والے امتحان کا داخلہ 800روپے تھا
یعنی ایک دم 1800کا خرچہ آن پڑا جو ان دونوں کی مناسبت سے ایک خطیر رقم تھی
جس پر میں نے اپنے والد گرامی سے بات کی انھوں نے کہا کہ
این سی اے کالج کے پیچھے صوبائی محتسب کا دفتر ہے وہاں پر جاؤ اور جب اندر داخل ہو گے
تو دائیں ہاتھ آخری کمرے میں اس آدمی سے مل کر اپنی بات کرلینا چنانچہ میں والد صاحب کے بتائے ہوئے ایڈریس پر متعلقہ آدمی سے ملا
انھوں نے مجھے اپنے پاس بٹھایا چائے بھی پلائی اور میری تمام بات سن کر اپنے پی اے کو بلایا
اس کو کہا کہ بچے کو سفید کاغذ مہیا کریں اور کہنے لگے کہ
یہ درخواست لکھوجسے انھوں نے خود ہی بتایا ان کے کہنے پر میں نے درخواست تحریر کی
اور پی اے نے ڈائری نمبر لگا کر مجھے ایک چھوٹی چٹ دے دی اور مجھے 5روز بعد آنے کا کہا گیا
میں واپس گھر آگیا اور سارا معاملہ اپنے والد کو بیان کردیا۔ اور جب میں 5روز بعد دوبارہ وہاں پہنچا تو آپ یقین نہیں کریں گے کہ میرے سامنے وہی شخصیت موجود تھی
جو مجھے 1000 کا چالان فارم بھرنے کا کہہ رہی تھی ان کو دیکھ کر میں حیران ہوا اور جب معاملہ کنسلٹنٹ کے سامنے پیش ہوا تو میں نہیں بلکہ میری طرف سے کنسلٹنٹ بول رہے تھے
آخر کار فیصلہ ہوا کہ یونیورسٹی انتظامیہ مجھے رزلٹ کارڈ ایشو کرئے گی اور اس پر ڈپلیکیٹ تحریر ہوگا
مجھ سے پوچھا گیا کیا آپ کو فیصلہ منظور ہے تو میں نے اثبات میں سرہلایا اور کہا
کہ رزلٹ کارڈ اس آفس میں مجھے دیا جائے جس پر فریق دوئم رضامند ہوگے اور
مجھے ایک ہفتے کے اندر رزلٹ کارڈ مہیا کردیا گیا جس پر میں نے امتحان دیا
اور ماضی کے مقابلے میں 80نمبر زیادہ حاصل کیے
جس پر مجھے سائنس کالج وحدت روڈ میں ایم ایس سی فزکس میں داخلہ ملا
اس طرح کا ایک واقعہ 2010میں بھی پیش آیا جب میرے دوست کے اصل کاغذات گم ہوگے
مگر ان کی فوٹو کاپی اس کے پاس موجود تھی اور معاملہ بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے حوالے سے تھا
جس پر میں اس کے ساتھ متعلقہ برانچ میں حاضر ہوا
مگر انھوں نے روایتی گفتگو کے بعد اس کام کے پورا نہ ہونے کا عندیہ دیا
جس پر میں اس دوست کو لے کر صوبائی محتسب کے دفتر پہنچا اور ہم نے درخواست جمع کرادی
کچھ دنوں بعد اس دوست کو بورڈ آفس کی طرف سے کال موصول ہوئی کہ ہم آپ کا مئلہ حل کردیتے ہیں
 آپ محتسب کے دفتر سے شکایت واپس لے لیں
 اس نے مجھے کہا تو میں نے کہا کہ درخواست واپس نہیں لینی جس پر کچھ دنوں ہی میں بورڈ نے
اس کا مسئلہ حل کردیا اور دستاویزات ان کو موصول کروادیں اور ان کا مسئلہ حل ہوگیا ۔
صوبائی محتسب کا دفتر ان لوگوں کو بلامعاوضہ انصاف فراہم کرتا ہے
جو اپنے حق کی خاطر دفتروں میںشٹل کاک بن جاتے ہیں ان کا مسئلہ تو حقیقی نوعیت کا ہوتا ہے
مگر دفتروں کی انتظامیہ ان کو انساف فراہم نہیں کرتیں اور یہ لوگ حصول انصاف کی خاطر در بدر ہوتے ہیں
 اور اگر ان کو کوئی ہمدرد انسان صوبائی محتسب کے دفتر تک پہنچا دے
تو پھر اس کی آواز حکومت بن جاتی ہے اور اس کا مسئلہ دنوں میں حل ہوتا ہے ،
گزشتہ دنوں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ
عوام کو سرکاری اداروں سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے صوبائی محتسب کا کردار قابل تحسین ہے اور یہ بات اطمینان بخش ہے کہ محتسب پنجاب کا ادارہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا احسن طریقے سے استعمال کر رہا ہے
۔یہ تقریب محتسب پنجاب کی سالانہ کارکردگی کے حوالے سے تھی جس میں گورنر پنجاب کا مزید کہنا تھا کہ
محتسب پنجاب کے دفاتر کا دائرہ کار مختلف اضلاع تک بڑھانا اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ
ریلیف فراہم کرنا قابل تعریف ہےاور صوبائی محتسب کے فیصلے اردو میں لکھے جاتے ہیں
جسے سمجھنے کے لئے لوگوں کو آسانی ہوتی ہے اور اس کے لیے انہیں کسی وکیل کی ضرورت نہیں پڑتی
جبکہ محتسب آفس نے اپنے فیصلہ جات کے ذر یعے
لوگوں کو اربوں روپے کا ریلیف دینے میں اہم کردار اداکیا ہے۔
گورنر پنجاب کے خطاب سے قبل محتسب پنجاب میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے بتایا کہ سال 2023 میں کل 35139 شکایات موصول ہوئیں جبکہ نمٹائی گئی شکایات کی تعداد 35202ہے
یوں موصول ہونے والی تمام شکایات کو نمٹادیا گیا ۔
محتسب پنجاب نے بتایا کہ عوامی شکایات پر موثرکارروائی کےنتیجے میں شکایت کنندگان
اور حکومت کو مجموعی طور پر 22.504 بلین روپے کا ریلیف ملا
جس میں سے 15.834 بلین روپے مالیت کی 26229کنال سرکاری اور نجی اراضی کو واگزار کروایا گیا
جبکہ شکایت کنندگان کو حاصل ہونے والے مالی ریلیف کی کل مالیت 6.669 بلین روپیہ ہے۔
محتسب پنجاب کا کہنا تھا کہ سال 2023 میں موصولہ اور نمٹائی جانے والی شکایات کی تعداد
گزشتہ کسی بھی سال کی شکایات کی تعداد سے زیادہ ہے جو دفتر محتسب پنجاب پر
عوام کے بڑھتے اعتماد کا ثبوت ہے۔ سال 2023 میں پولیس کے خلاف7212،لوکل گورنمنٹ 5980،ریونیو 5678، پرائمری و سیکنڈری
ہیلتھ کیئر 2531، سکول ایجوکیشن1961 اورڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کے خلاف 1563 شکایات موصول ہوئیں
اورپر 2023 میں 119 سائلین کو
پنجاب سول سرونٹس رولز مجریہ 1974 کے قاعدہ 17 اے کے تحت سرکاری محکموں میں
ملازمتیں بھی فراہم کی گئی ہیںجبکہ محتسب پنجاب کے بر قرار رہنے والے
فیصلوں کی مجموعی شرح 99.95 فیصد ہے۔
میجراعظم سلیمان خان نے محکمانہ کارکردگی بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سال 1996 سے سال2023 تک 27 سال میں موصولہ کل 415,345شکایات میں سے 541،412کو حل کیا گیا ہے
جس سے عوامی مسائل کے حل کا مجموعی ڈسپوزل ریٹ 99.32 فیصد رہا۔
ابتدا میں محتسب پنجاب کا صرف ایک دفتر لاہور میں تھامگراب صوبہ کے تمام اضلاع میں دفاتر قائم ہو چکے ہیں۔
اسی طرح محکمہ کے علاقائی دفاتر کیلئے اپنی عمارتیں بنانے کا عمل بھی شروع کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدعنوانی اور ناانصافی کی بنیادی وجوہات کا پتہ لگانے اور حکومت پنجاب کو
اصلاحی اقدامات کی سفارش کرنے کے لیے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ ونگ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے
۔میجر (ر) اعظم سلیمان خان نے مزید آگاہ کیا کہ محتسب پنجاب کے دفتر کو
مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کردیا گیا ہے اورعوامی رہنمائی اور شکایات
کے ٹیلیفونک اندراج کے لئے 7/24 ڈیجیٹل ہیلپ لائن 1050 کو متعارف کروایا گیا ہے
اور عوامی سہولت کیلئے اردو اور انگریزی زبان میں موبائل ایپ لانچ کی گئی ہے
جس سے عوام کو ان کی درخواست پر تمام کارروائی سے باخبر رکھاجاتا ہےجبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی حکومت پنجاب کے محکموں سے متعلق مسائل کے حل کے لئے
دفتر محتسب پنجاب کو اپنی شکایت
موبائل ایپ یا ویب سائٹ www.ombudsmanpunjab.gov.pk پر درج کروا سکتے ہیں۔ محتسب پنجاب کی 2023کی سالانہ کارکردگی رپورٹ سے اس امر کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے
کہ اس ادارے کی وجہ سے ان لوگوں کو انصاف ملتا ہے جن کے پاس
انصاف کے حصول کے لیے نہ تو کسی کی سفارش ہوتی ہے اور نہ ہی اتنے پیسے کہ
وہ عدالتوں میں اپنی رٹ کرسیکیں
اور ان حالات میں صوبائی محتسب ادارہ ہی ان کی آواز ہوتا ہے جس کے ذریعے ان کی جائز درخواستوں پر
عمل در آمد کرکے ان کو انصاف فراہم کیا جاتا ہے۔
اس ادارے میں عام آدمی کی بات سن کر اس کا مسئلہ حل کیا جاتا ہے
مگر عام آدمی کا دائرہ کار وسیع ہے اور اسے پنجاب کے دور دراز اضلاع اور
ان کی تحصیلوں سے حصول انصاف کی خاطر اس ادارے کے بڑے شہروں میں موجود دفتروں کا رخ کرنا پڑتا ہے
اور میں امید کرتا ہوں کہ آنے والے دنوں میںاس ادارے کے دفاتر کو بڑھاکر
پنجاب کے تمام اضلاع اوران کی تحصیلوں تک پہنچایا جائے گا تاکہ
عام آدمی کو انصاف گھر کی دہلیز پر ملتا نظر آئے۔

ن و القم ۔۔۔مدثر قدیر

04/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-25-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.