سیاسی دھینگا مشتی اور معاشی حالات

34


جب سے الیکشن ہوئے ہیں سیاست دان اسٹیبلشمنٹ عام عوام اور قوم یوتھ عجیب کشمکش کا شکار ہیں
تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم دن رات حسب عادت گمراہی پھیلانے میں مصروف عمل ہے
ہو سکتا ہے کہ کچھ انتخابی حلقوں میں بے ضابتگیاں ہوئی ہوں لیکن گزشتہ دو دن سے جتنی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں
غیر تصدیق شدہ ذرائع سے یہ خبر الیکشن سے بہت پہلے موصول ہو گئی تھی کہ تحریک انصاف کے حامیوں نے الیکشن دھاندلی کی بہت سی ویڈیو الیکشن سے پہلے ہی تیار کر لی تھیں
تاکہ الیکشن کے بعد دھاندلی کا ڈھنڈورا پیٹنے کے لیے کام آ سکیں
اپنے پونے چار سالہ دور میں جتنی معاشی بربادی تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی اور کرونا کی وجہ سے ہوئی شاید اس کی مثال نہ ملے
اس وقت وطن عزیز ایک اور تبدیلی کا متحمل نہیں ہو سکتا
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف کے حامی نوجوانوں نے پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ
آزاد امیدواروں کو بہت ووٹ دیا ہے لیکن اس کی تعداد اتنی بھی نہیں کہ یہ لوگ اتنی بڑی تعداد میں سیٹیں نکال لیتے
اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جہاں سے تحریک انصاف جیت گئی وہ تو ٹھیک لیکن جہاں سے شکست ہوئی صرف انہی سیٹوں پر دھاندلی ہوئی ہے
لیکن اس میں تحریک انصاف کے حامیوں کا کوئی قصور نہیں درحقیقت ان کی سیاسی تربیت ہی ایسی ہوئی ہے جیسے کہ بانی پی ٹی آئی فرمایا کرتے تھے کہ
جو کرپٹ میرے ساتھ مل جائے وہ بے قصور اور جو بے قصور میرے مخالف ہو وہ کرپٹ کسی دوسری پارٹی کا امیدوار ان کے ساتھ مل جائے تو وکٹ گرا دی گئی
اور ان کا ساتھی کسی دوسرے کے ساتھ مل جائے تو لوٹا
میرے بہت سے کالم میں تحریک انصاف پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے
وہ قوم یوتھ کے لیے پیڈ کالم اور جن میں خدانخواستہ مجھ سے تحریک انصاف کے کسی کام کی تعریف ہو گئی تو وہ اچھا اور آ زاد کالم
خدارا بس کر دیں۔ پاکستان سے کس چیز کا بدلہ لے رہے ہیں
اس وقت وطن عزیز جن معاشی حالات سے گزر رہا ہے اس سے زیادہ تنگی کا وقت پہلے کبھی نہیں آیا
یہ بات تو طے ہے کہ جو پارٹی بھی حکومت بنائے گی وہ اپنی سیاسی ساکھ ، مقبولیت اور
شاید اپنا وجود بھی داؤ پر لگا دے
موجودہ حالات میں تمام جماعتوں کی معاشی پالیسیاں دیکھ لیں سوائے مسلم لیگ کے
کسی کے پاس کوئی قابل عمل حل یا فارمولا موجود نہیں ہے
اور نہ ہی ہمارے ملک میں انویسٹمنٹ کرنے کے خواہش مند ممالک مسلم لیگ کی حکومت کے بغیر کسی پر اعتماد کرتے ہیں
نئی حکومت بنتے ہی آٹھ اشاریہ دو ارب ڈالر کی آئی ایم ایف کی قسط سر پر کھڑی ہے اور خزانہ خالی ہے
کیا کسی سیاسی جماعت کے پاس کوئی ایسا حل ہے کہ ائندہ قرض کی قسط ادا کر کے
جون میں ایک بھاری بھرکم بجٹ پیش کر سکے میرے خیال میں نہیں
جس طرح سب جانتے ہیں کہ مرکز میں اس وقت تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر انحصار کیے ہوئے ہیں
کوئی پارٹی بھی اکیلے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے
اور اس سے بھی افسوس ناک خبر یہ کہ ہر پارٹی ان حالات میں بھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے
سر توڑ کوشش کر رہی ہے
جبکہ موجودہ حالات میں مرکز میں ایک مضبوط مستحکم اور خود مختار حکومت کی ضرورت تھی
جو پاکستان کے لیے بڑے فیصلے پر اعتماد طریقے سے کر سکے
میاں نواز شریف کی تقریر پر بہت سے لوگوں نے اپنی رائے پیش کر رہے ہیں کہ
میاں صاحب کو چاہیے تھا کہ زیادہ نشستیں لینے والی پارٹی کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں
میں بھی اسی کا حامی ہوں کہ جس سیاسی جماعت نے عوام سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہوں
اور زیادہ نشستیں جیتی ہوں وہی حکومت بنائے لیکن میاں صاحب حالات کی نزاکت کو زیادہ سمجھتے ہیں
اگر وہ زیادہ سیٹیں جیتنے والوں کو دعوت دے دیتے
تو پاکستان کے علاوہ ان کی کہیں بھی قبولیت نہ ہوتی کیونکہ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں جو کانٹے بوئے تھے
ریاست آج تک انہیں اکٹھا کرنے میں مصروف عمل ہے
ان حالات میں میں بھی دو لوگوں کو بہترین سیاسی سفر کے آغاز کا موقع ملا ہے
ان میں محترمہ مریم نواز اور جناب بلاول زرداری شامل ہیں انہیں چاہیے کہ مرکز کو
ایک طرف کر کے پنجاب میں مریم بی بی اور سندھ میں بلاول وزیراعلی کے طور پر سامنے آ ئیں
جن مقابلوں اور موازنوں کا ذکر الیکشن کمپین میں کیا کرتے تھے اسے عملی طور پر
اپنے اپنے صوبوں میں کام کر کے ثابت کریں ان دونوں حضرات کے پاس گھر میں ہی
وسیع تجربہ کے حامل افراد موجود ہیں
انہیں چاہیے کہ وزارت اعلی کے عہدے پر فائز ہو کر اپنے اپنے صوبوں کے لیے سر توڑ کوشش کریں
اور انہیں دنیا کے سامنے ترقی، انفراسٹرکچر، صحت تعلیم اور ہر میدان میں ایک ماڈل بنا کر پیش کر دیں
تاکہ اگلے الیکشن میں عوام کارکردگی کی بنیاد پر انہیں ووٹ دے کر اپنا وزیراعظم منتخب کر سکیں
آ ج سے ہی محنت کرنا شروع کر دیں
اپنے اپنے صوبوں کی تعمیر و ترقی خوشحالی ڈویلپمنٹ اور آمدن اخراجات پر توجہ دیں
فیصلہ پانچ سال بعد عوام پر چھوڑ دیں پھر پتہ چلے گا کہ کون جیتا اور کون ہار گیا
اس وقت پاکستان کو معاشی میدان میں 2017 والی پوزیشن پر لانے کے لیے
مرکزی حکومت کو کم از کم تین سال لگیں گے اور انہیں دن رات ایک کرنا ہوگا
میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ ملک کو معاشی میدان میں پٹڑی پر چڑھانے کے لیے
حکومت اور اپوزیشن کے مثبت کردار کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے
اور موجودہ حالات میں یہ قابلیت صرف ن لیگ کے پاس ہے
اگر پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ کا ساتھ دے دیا اور اپنی ذاتی خواہشات کو قابو میں رکھا
تو پاکستان پھر سے خوشحالی کی طرف چل نکلے گا
اس الیکشن میں جو میں اخذ کر سکا ہوں کہ پاکستانی نوجوانوں کو ترقی سے زیادہ
بڑھکوں ناچ گانوں نک دا کوکا قیدی نمبر 804 اور جذباتی بیانات پر زیادہ یقین ہے جو کہ بہت خطرناک عمل ہے
بہرحال اللہ سے دعا گوہ رہیں اور یقین بھی رکھیں کہ اب پاکستان نے تنگی برداشت کرنے کی انتہا کر دی ہے
حبس اور جمود کے موسم کا اختتام ہونے کو ہے
اور انشاءاللہ رحمت کی بارش کے بادلوں کا سلسلہ چین سعودی عرب اور قطر کی طرف سے
بہت جلد پاکستان میں داخل ہوگا اور پاکستان کو ہمیشہ کے لیے اپنا مسکن بنا لے گا
انشااللہ

ڈیرے دار
سہیل بشیر منج

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/02/p3-17-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.