کیا ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہم صرف کنوئیں کے مینڈک کی طرح ایک مخصوص دائرے میں رہ رہے ہیں ؟ ہماری سوچ تیزی سے بڑھتی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ کیوں نہیں چل رہی ہے ؟ گو یہ ایک دلچسپ سوال ہے اور اس پر غور کرنا وقت کی اہم ضرورت بھی ہے کہ کیا جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں اس وسیع دنیا سے جوڑ دیا ہے ؟ یا پھر ہم آج بھی سوچ کے ایک خاص دائرے میں محدود زندگی گزار رہے ہیں اور اسے ہی اپنی کل کائنات تصور کرتے ہیں ؟ جبکہ آج کا انسان معلومات ،علم اور دنیا بھر کے لوگوں تک با آ سانی رسائی رکھتا ہے ،انٹرنیٹ ،سوشل میڈیا ،مصنوعی ذہانت اورجدید تحقیق نے ہماری دنیا کی سوچ کے دائروں کو وسیع کردیا ہے اگر کسی کو کسی موضوع پر جاننا ہو تو چند سیکنڈ میں وہ دنیا کے بہترین دماغوں کی تحقیق پڑھ اور سن سکتا ہے ۔فوری مختلف آراء جان سکتا ہے اور خود کو بہتر بنا کر اپنی محدود سوچ کے دائروں کو وسیع کرسکتا ہے ۔لیکن ٹیکنالوجی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم ایک مخصوص “ایکو چیمبر ” میں قید ہو سکتے ہیں ۔سوشل میڈیا ہمیں وہ چیزیں دکھاتا ہےجو ہم پہلے سے ہی پسند کرتے ہیں اس لیے ہماری سوچ محدود ہی رہ جاتی ہے ۔ہم صرف اپنی پسند کی خبریں پڑھتے ہیں ، اپنے پسندیدہ پروگرام اور ڈرامے دیکھنا پسند کرتے ہیں ،اپنے ہم خیال لوگوں سے بات کرتے ہیں اور ایک مخصوص دائرے میں قید ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم نئی سوچ ،مختلف نظریات اور تنقیدی تجزیے سے محروم ہو سکتے ہیں ۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ٹیکنالوجی کا استعمال کھلی ذہنیت اور سوچ کے ساتھ کر رہے ہیں یا خود کو محدود کر رہے ہیں؟ اگر ہم مختلف ذرائع سے مختلف معلومات حاصل کریں ،مخالف آرأ کو سنیں اور خود کو مسلسل سیکھنے کے عمل میں مصروف رکھیں تو ہم کنوئیں کے مینڈک نہیں بنیں گے ۔لیکن اگر ہم ہم صرف ایک مخصوص روائتی تعلیم کے دائرے اور ایک مخصوص سوچ کی قید میں رہیں گے تو ہم ٹیکنالوجی کے باوجود محدود سوچ اور طرز زندگی کا شکار ہو سکتے ہیں ۔ٹیکنالوجی نے ہمیں اس کنوئیں سے نکالنے کا موقع تو فراہم کردیا ہے لیکن کیا ہم واقعی اس سے باہر آنا بھی چاہتے ہیں ؟ یہ فیصلہ ہم پر ہی منحصر ہے ۔ہمیں اپنی سوچ کے دائروں کی اس دقیانوسی قید سے آزاد ہونا پڑے گا ۔ اپنے نظام تعلیم اور طریقہ تدریس کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہوگا ۔ رٹا کلچر ،ڈگریوں اور زیادہ نمبرز کے حصول کی گیم سےباہر نکل کر ہنر اور مہارت پر توجہ دینی ہوگی ۔ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی کمی ہر گز نہیں ہے ۔البتہ ہمارے بہترین دماغ بہترین رہنمائی کے منتظر ہیں ۔ہمیں صنعت اور تعلیمی اداروں میں ہم آہنگی کی ضرورت ہے ۔دوسری جانب ہماری سوسائٹی میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو عام زندگی میں اہمیت اتنی نہیں دی جاتی جو ترقی یافتہ معاشروں میں دی جاتی ہے ۔مقامی زبان میں سائنسی مواد کی کمی اور جدید انفراسٹریکچر اور وسائل کی کمی بھی ہمارے جیسے ترقی پذیر ملک میں ایک بڑی روکاٹ ہے ۔آگے بڑھنے کے لیے اس روکاوٹ کو دور کرنا ہماری ترجیح ہونی چاہیے ۔کیونکہ بہت سے لوگ انگریزی یا دوسری زبانوں پر مہارت نہ رکھنے کی وجہ سے بھی جدید سائنسی تحقیق سے مستفید نہیں ہو پاتے ۔
گذشتہ روز یہ انوکھی خبر نظر سے گزری تو بڑی حیرت ہوئی کہ دنیا کہاں جا پہنچی ہے اور ہم کہاں کھڑے ہیں ۔جیسا کہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں روزانہ نئی اور جدید ایجادات سامنے آ رہی ہیں، اور حال ہی میں “روبوٹ کچھوا “بیٹ بوٹ نامی ایک چینی کمپنی نے تیار کیا ہے جسے ماحولیاتی نگرانی، ماحولیاتی تحقیق، اور آفات سے نمٹنے جیسے اہم مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آبی روبو ٹ کچھوا جدید ترین خصوصیات کا حامل ہے جو اسے پانی میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی اجازت دیتی ہے ۔اس کی پشت پر لگے سولر پینل اسے تیرتے وقت خود کو ری چارج کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں ۔جس سے یہ طویل عرصے تک پانی میں کام کرسکتاہے ۔اس کے مصنوعی ذہانت سے چلنے والے کیمرۓ ماحولیاتی تبدیلیوں کا تجزیہ کرنے اور سمندر ی جانورون کا سراغ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بائیونک ٹانگیں اسے پانی میں خاموشی اور درستگی سے حرکت کرنے کی اجازت دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں پانی کا نمونہ لینے کا نظام بھی موجود ہے ۔ جو آبی ماحولیاتی نظاموں سے ڈیٹا اکٹھا کر سکتا ہے۔ سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے ذریعے یہ روبوٹ ڈیٹا منتقل کرنے اور نئی کمانڈز حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایسی ہی بےشمار جدید ایجادات دنیا بھر میں سائنسی انقلاب لا رہی ہیں ۔دنیا ٹیکنالوجی کے ذریعے مہارت کی بلند منزلوں تک پہنچنے کی تگ ودو میں کہیں سے کہیں جا پہنچی ہے ۔لیکن ہم ابھی تک ایسی باتوں میں الجھے ہیں جن سے سواۓ وقت کے ضیاع کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ایک طویل عرصے سے ہمارۓ تعلیمی نظام نے ڈگریاں حاصل کرنے اور زیادہ نمبروں کے حصول کی دوڑکے ایک ایسے دائرۓ میں ڈال رکھا ہے جہاں مہارت دور دور تک دکھائی نہیں دیتی ۔سوچنا یہ ہے کہ کیا ہم ٹیکنالوجی کی اس تیز دوڑ میں شامل ہو کر اپنے آپ کو تسلیم کرانے کی خواہش رکھتے ہیں ؟تو یہ جان لیں کہ ہنر اور مہارت کے بغیرجدید ٹیکنالوجی سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ۔کچھ غیر معمولی کرنے کے لیے ان دقیانوسی دائروں کے حصار کو توڑ کر وقت کے ساتھ ساتھ غیر معمولی دوڑنا پڑتا ہے ۔صرف پاس یا فیل ہونا ، ڈگریاںاور ڈپلومے حاصل کرنا یا اچھے اچھے نمبرز لینا ہی کافی نہیں ہمیں جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے انفرادی اور اجتماعی مہارتوں کی بھی ضرورت ہے ۔مہارت اور ہنر کا حصول ریسرچ ،جدوجہد ، تدریس اور مواقع سے جڑا ہوتا ہے ۔آج مصنوعی ذہانت دنیا بھر کے تعلیمی نظام میں کسی انقلاب سے کم نہیں ہے جو جدید ٹیکنالوجی سے فوری فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کرتا ہے ۔سائنسی ایجادات میں برق رفتاری سے پیش رفت ہونے کے امکانات بڑھتے چلے جارہے ہیں ۔دنیا ایک ایسے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں سوچنے سے بھی زیادہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت کو فوقیت حاصل ہو چکی ہے ۔آج کچھ پڑھنے کے لیے بھی ٹیکنالوجی کو سیکھنے کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے ۔
جی ہاں ہمارا ملک پاکستان بھی ایسی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے کیونکہ خوش قسمتی سے پاکستان کی کل آبادی کا ستر فیصد حصہ ان نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کی عمر اٹھارہ سے پینتس سال کے درمیان ہے ۔ جو اس وقت ہنر سیکھنے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی مہارت حاصل کرنےکی آئیڈیل عمر ہوتی ہے ۔ لیکن اس کے لیے کچھ بنیادی ضرورتوں اور چیلنجز کو سمجھنا اور ان پر قابو پانا ضروری ہے ۔ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پورے ملک میں تیز رفتار انٹرنیٹ ،جدید ڈیجیٹل انفراسڑکچر اور قابل اعتمادتوانائی کا نظام ہونا چاہیے ۔پاکستان میں فائیو جی اور فائبر ٓاپٹک نیٹ ورک کے پھیلاو پر کام کرکے اسے مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے ۔ٹیکنالوجی اپنانے کے لیے عوام کو ڈیجیٹل تعلیم دینا بہت ضروری ہے ۔اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے کورسز متعارف کرانے ہوں گے تاکہ نوجوان نسل مصنوعی ذہانت ،کلاوڈ کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کرسکے ۔ٹیکنالوجی تب کامیاب ہوتی ہے جب عوام اسے بروقت اپنائیں ۔ گو پاکستان میں ای کامرس ،آن لائن بینکنگ اور ڈیجیٹل پے منٹ سسٹم کا رجحان بڑھ رہا ہے لیکن اب بھی عدم تحفظ کے خوف سے بڑی تعداد میں لوگ نقد لین دین کو ترجیح دیتے ہیں ۔عوام کو آگاہی دینے اور ڈیجیٹل اور سا ئبر سیکورٹی کو یقینی بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی کو اپنا سکیں ۔ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی کے لیے حکومتی سطح پر ایسی پالیسیاں بنانا ضروری ہیں جو آئی ٹی ایکسپورٹ ،ڈیجیٹل پے منٹ سسٹم اور اسٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دے سکیں ۔پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ اور مواقع موجود ہیں اور اگر انفراسٹرکچر ، قومی تعلیمی پالیسیوں میں بہتری لائی جاۓ ،ان تعلیمی اصلاحات سے تحقیق وترقی پر سرمایہ کاری کرکے حکومت اور نجی شعبہ کے درمیان اشتراک کے ذریعے سائنسی رویوں اور تخلیقی سوچ کو فروغ دیا جاۓ تو ہمارا یہ ملک نہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوسکتا ہے بلکہ ایک ڈیجیٹل لیڈر کے طور پر پوری دنیا کو حیرا ن کر سکتا ہے بلکہ ہمارے تمام تر ملکی مسائل کا حل بھی اسی میں پوشیدہ دکھائی دیتا ہے ۔کنوئیں کے مینڈک سے ڈیجیٹل لیڈر تک کا سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں ہے ۔