نواز شریف کا بیانیہ

82

روداد خیال ۔۔۔صفدرعلی خاں

سابق وزیراعظم نواز شریف نے خود ساختہ جلاوطنی ختم کرتے ہوئے وطن واپسی کا جب اعلان کیا تو انکی واپسی کے حوالے سے بے شمار شکوک وشبہات پیدا کئے گئے لیکن ان سب کے باوجود تقریبا چار سال بعد وہ سرزمین پاکستان پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوئے کیونکہ پاکستان آنے سے قبل انکے بیانیہ پر ہی کچھ سیاسی مبصرین کئی طرح کے تحفظات کا اظہار کرتے رہے لیکن ان تمام تحفظات اور شکوک وشبہات کا اس وقت خاتمہ ہوگیا جب ہفتے کے روز انکا طیارہ اسلام آباد ایئر پورٹ پر لینڈ کرگیا ،راستے میں ہی انہوں نے اپنی آمد کو معتبر بنانے کا بندوبست اس بیانیہ سے کیا کہ”ہم 28مئی والے ہیں ،9مئی والے نہیں”اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس بیانیہ نے وطن کی حفاظت کرنے والوں اور وطن دشمنوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دی ،اسکے بعد وہ لاہور پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا ،ملک بھر سے لوگ جلسہ گاہ پہنچے ۔چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر وگلگت بلتستان سے آنے والے ن لیگ کے کارکنوں و عوام نے مینار پاکستان پر میلہ لگا دیا ،بلاشبہ بہت بڑا جلسہ ہوا جس کی کامیابی ہر لحاظ سے طشت ازبام ہے ۔طویل عرصے بعد بیٹی سے ملاقات سمیت کئی جذباتی مناظر بھی دیکھے گئے ،شہباز شریف نے بھائی کا والہانہ استقبال کیا ،رشتوں کے اخلاص کی ایک مضبوط روایت مشرقی اقدار کا مظہر بنی ،پنڈال میں عوام کے فلک ہلا دینے والے نعروں کی گونج میں سابق وزیراعظم نواز شریف جب سٹیج پر آئے تو انہوں نے بڑے اطمینان سے قوم کے سامنے اپنے حالات بیان کئے ،اپنے دور حکومت کا تقابلی جائزہ پیش کیا اور عوام کو کھل کر اپنی روداد سنائی ،بڑے جذباتی انداز میں اپنے اوپر ٹوٹنے والی ہر افتاد کا حوصلے سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے واقعات بھی سامنے رکھے ۔عزم وہمت کی داستان سنائی گئی ،اس موقع پر انہوں نے قوم کو مصائب ومشکلات سے نکالنے کا عزم بھی باندھا، ان سب میں نوازشریف کی وطن سے اٹوٹ محبت کا برملا اظہار ملتا ہے ،نواز شریف نے قوم کی تقدیر بدلنے کے عزم کو دعائیہ انداز میں ظاہر کیا ،سابق وزیراعظم کے اس خطاب میں جو مجھے انکی سب سے اچھی بات لگی وہ ان کا انتقام نہ لینے کا بیانیہ ہے جس میں انہوں نے اپنے اس عزم پر کاربند رہنے کیلئے خدائے بزرگ وبرتر سے اس تناظر میں اپنی ثابت قدمی کیلئے دعا بھی مانگی ،نواز شریف نے بجلی کے بلز دکھائے انکو ٹھیک کرنے کی جستجو کا عزم باندھ کر واقعی قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے والا کام کرکے مسیحائی کا کردار نبھایا ۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے قوم کو بتایا کہ وہ انتقام کا جذبہ نہیں رکھتے اور آئین کی روح کے مطابق متحد ہو کر مستقبل کا منصوبہ بنائیں گے ، قوم پر یہ امر واضح کیا کہ آئین پر عمل درآمد کرنے والے ریاستی اداروں اور جماعتوں سے مل کر کام کریں گے ۔انتقام کے جذبے سے دور رہنے کی برسر عام دعا کرنے والے نواز شریف نے اپنے بیانیہ سے پاکستان کی سیاست کو نیا موڑ دیدیا ۔غریبوں کی خوشحالی کیلئے جدوجہد کا اعلان ہی انکی عوامی سیاست کا منہ بولتا ثبوت ہے اس حوالے سے اب میرے سمیت پوری قوم انکے بیانیہ پر عملدرآمد کی منتظر رہے گی کیونکہ قوم نے انہیں موقع دینے کا خوش دلی سے فیصلہ سنا دیا ہے ،نواز شریف کا وطن آنا ہی بڑا واقعہ بن گیا کیونکہ پچھلے چار پانچ سال سے سیاسی طور پر سوئی ہوئی ن لیگ نے اس موقع پر والہانہ استقبال کرکے اپنے زندہ ہونے کا ایک عملی مظاہرہ کیاہے ۔لہذا ان حالات میں میاں نواز شریف کو اپنے حالیہ بیانیہ کو ہر آن ذہن نشین رکھنا ہوگا ،الیکشن کے بعد اگر انھیں اللہ تعالیٰ دوبارہ اقتدار عطا کرتا ہے تو پھر عجز و انکساری کے ساتھ قوم کو وہی عزت دینا ہوگی جو آج اس قوم نے انہیں طویل عرصے کی خود ساختہ جلاوطنی کے خاتمے پر دی ہے ،قوم کو مشکلات ومصائب سے نکالنے کی خاطر اسی جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا ،ہم وطنوں کو تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی سمیت انکے شہری حقوق کی پاسداری کرنا ہوگی ۔عوام کو حقیقی عزت و تکریم دیکر سر کا تاج بنانا ہوگا ،عوامی لیڈر بننا کوئی آسان کام نہیں ہوتا اسے پاکستان میں بہت عام سی چیز سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ اسکے لئے قوم کے دکھ ،درد ،مشکلات اور مسائل کو دل و دماغ سےسمجھنا ہوتا ہے اور لوگوں کو ریلیف دینے کی ہر حال میں صورت پیدا کرنا ضروری ہوتی ہے ۔کہیں کسی لمحے بھی قوم کو رعایا سمجھ کر بادشاہی سوچ کی ایک جھلک بھی سب کچھ ملیا میٹ کرسکتی ہے ۔نوازشریف نے قوم کے سامنے بہت بڑی ذمے داری قبول کرلی ہے،لہذا کسی قسم کی کوتاہی ناقابل تلافی ہو گی۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.