سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک۔۔۔
محمد نوید مرزا
جس طرح زندگی کے مختلف شعبوں میں بہت سے فنکار کم عمری کی بجائے دیر یا ادھیڑ عمری میں وارد ہوئے اور پختہ عمر میں پہنچ کر زیادہ بہتر انداز میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔اسی طرح کتابی دنیا میں بھی کئی ایسے مصنفین ہیں ،جن کی آمد عمر کے اس حصے میں ہوئی ،جب بہت سے ادیب و شاعر درجنوں کتب کے خالق بن چکے تھے۔ہمارے فاضل مصنف عبد الغفور چوھدری نے بھی ایک عمر گذار کر قلم سے رشتہ استوار کیا۔ تاہم جب چند برسوں میں ہی وہ تین اہم کتب کے مصنف بن گئے تو دیر آید درست کے مصداق ان کی شہرت پورے پاکستان میں پھیل گئی اور ہر طرف سے انھیں بھر پور خراج تحسین پیش کی گئی۔اس وقت میرے سامنے ان کی خود نوشت سوانح حیات۔۔۔۔سپاہی سے ڈپٹی کمشنر تک۔۔۔ہے۔یہ کتاب ان کی ساری زندگی کا وہ آئنہ ہے،جس میں معاشرے کی اچھی بری تمام تصویریں واضح نظر آتی ہیں۔معروف صحافی جناب مجیب الرحمٰن شامی اس کتاب کے بارے میں لکھتے ہوئے کہتے ہیں،،چوھدری عبدالغفور اپنی مثال آپ ہیں۔منفرد اور یکتا۔ایک محنت کش گھرانے میں آنکھ کھولی۔اپنے خاندان کے پہلے بچے تھے۔جنھیں سکول نصیب ہوا۔دوران تعلیم ہی فوج میں بھرتی ہونا پڑا،سپاہی بن کر بھی علم کا جنون سوار رہا۔پڑھتے اور آگے بڑھتے گئے۔امتحان پر امتحان پاس کرتے فوج ہی کے تعلیمی شعبے میں انسٹرکٹر بن گئے لیکن ان کی منزل ابھی دور تھی۔مقابلے کے امتحان کی تیاری شروع کر دی،سول سروس کے دروازے کھل گئے۔وہ فوجی کوٹے پر نہیں باقاعدہ مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کر کے اسسٹنٹ کمشنر بنے اور ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی کے منصب تک پہنچے،،شامی صاحب کی یہ چند سطریں چوھدری صاحب کی طویل جدو جہد کے بارے میں مختصر مگر جامع اعتراف فن ہے۔ساڑھے پانچ سو سے زائد بڑے سائز کی اس کتاب میں مصنف نے من وعن اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور اتار چڑھاو¿ کا بڑی عمدگی سے ذکر کیا ہے۔میرا اپنا تعلق بھی فوج کے ایک ادارے سے ہے اور مصنف نے بھی اپنی ملازمت کا آغاز فوج میں ایک سپاہی کی حیثیت سے کیا تھا اور اپنی محنت ،جرآت،ریاضت،جدوجہد اور سچائی کے بل بوتے پر ترقی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر ریٹائر ہوئے۔یہ ایک شخص کی محنت اور ہر مشکل محاذ پرحق پر قائم رہنے کی سچی داستان ہے،جو آج کی اس نئی نسل کے لئے چراغ راہ ہے،جو محنت سے کتراتے ہیں۔مصنف اس بات کا ذکر کتاب کے دیباچے میں یوں کرتے ہیں،،اس میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں کہ کامیابی محنت کا دوسرا نام ہے۔ہر کامیابی کا کھرا محنت کے گھر سے ہو کر جاتا ہے۔جو شخص محنت سے جی چراتا ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوتا۔تاریخ عالم پر نظر دوڑانے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ دنیا میں جتنے لوگوں نے بھی کامیابی کی منازل طے کی ہیں وہ سب کے سب لوگ محنتی تھے،،مصنف نے اپنی زندگی کے روز و شب بیان کرتے ہوئے بارہا اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ہمیشہ انصاف اور حق کے ساتھ جڑے رہے اور کبھی بھی اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کیا اور نہ ہی کسی ظالم یا جابر کے دباو¿ میں نہیں آئے۔اس حقیقت کو اسلامی اسکالر جناب امیر حمزہ نے یوں بیان کیا ہے،،چودھری عبد الغفور اسسٹنٹ کمشنر بنے تو تحصیل ہیڈ کوارٹر کے پٹرول پمپوں سے سیمپل لئے اور جرمانوں کے ساتھ پمپ سیل کر دئیے۔تحصیل ناظم نے آکر دھمکایا تو کہا,تمھیں گرفتار کیا جاتا ہے۔دوسری تحصیل میں تبادلہ ہو گیا۔وہاں ایک مجرم کو لایا گیا تو اس کا بھائی بھی آگیا اور مجرم کو بھگا دیا چوھدری صاحب نے پوچھا کہ مجرم کو بھگایا کیوں ہے،کہنے لگا،میری مرضی ،چوھدری صاحب نے کہا،تم گرفتار ہو۔وہ بھاگنے لگا تو چوھدری صاحب نے اسے قابو کر لیا اور پولیس کو بلوا کر ہتھکڑی لگوا دی،،میرے نزدیک چوھدری صاحب کی یہ خودنوشت جرآت،بہادری اور ہمت کی ایک ایسی داستان ہے جو انھوں نے بے ساختہ اور رواں دواں انداز میں تحریر کی ہے۔کتاب کا انتساب انھوں نے اپنے مرحوم والدین اور ہر اس شخص کے نام کیا ہے جس کی پر خلوص دعائیں ہمیشہ سایہ بن کر ان کے ساتھ رہیں۔اس بات میں تو کوئی شک نہیں کہ قدرت نے ہر موڑ پر ان کی مدد کی اور سارے سفر جہاں ان کے کئی مخالفیں پیدا ہوئے تو وھاں کئی مددگار بھی ساتھ ساتھ رہے۔میں ان کی خود نوشت کی کامیاب اشاعت پر انھیں دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ویل ڈن






