صحافی برادری کو جوڑنے والا عالمی سفیر شاہد چوہان

36

منشاقاضی
حسب منشا

کوئی باپ اپنے بیٹے کو ایسی دعا نہیں دیتا ہے کہ خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے وہ تو کہتا ہے کہ تجھے کسی طوفان سے پالا ہی نہ پڑے اور باد صبح گاہی تیری راہ میں فرش راہ رہے اور تجھے کسی بلا کا سامنا نہ ہو ۔ مگر شاعر مشرق کے نزدیک یہ بیٹے کے حق میں دعا نہیں بد دعا ہے ۔ دعا یہ ہے کہ

خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے

تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں ہے

علامہ ڈاکٹر محمد اقبال اضطراب کو بہت بڑی دولت قرار دیتے ہیں ۔ شیر میں 50 سال سے سن رہا تھا مگر ہمارے ملک کے ممتاز دانشور موٹیویشنل سپیکر جناب سلطان خان نے جس انداز میں سمجھایا اس کا اطلاق بالکل شاہد چوہان پر صادق آتا ہے ۔ شاہد چوہان کو یہی دعا یا بد دعا دی گئی کہ

خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کر دے

تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

شاھد چوہان نے یہ مرتبہ اور یہ مقام یوں ہی حاصل نہیں کر لیا ۔ اس کے عقب میں اضطراب کی دولت موجود ہے اور مسلسل ریاضت اور جدوجہد کا ایک سفر ہے جو آج بھی جاری ہے ساؤتھ افریقہ میں آپ روزگار کے سلسلے میں گئے اور روزگار ء زمانہ تاریخ مرتب کر دی تعلقات عامہ میں آپ نے جو تجربہ حاصل کیا ہے اس کی مثال دور دور تک نظر نہیں آتی پچھلے سال آپ نے یوگنڈا کی نائب وزیراعظم کو لاہور پریس کلب کا دورہ کروایا اور اس دفعہ آپ کے اعزاز میں جو شام منائی گئی وہ شام پذیرائی کی اداؤں سے لبریز اور مسیحائی کی تاثیر میں ڈوبی ہوئی تھی ۔ہمارے دوست غلام مصطفی ماہنامہ زنجیر کے مدیر خوبصورت عادتوں کے دلفریب انسان ہیں انہوں نے بتایا کہ ہمارے ایک صحافی بھائی ساؤتھ افریقہ سے آئے ہیں اور ان کے اعزاز میں شام کا اہتمام کیا گیا ہے تو آپ تشریف لائیں ۔چوہدری جہاں زیب چیئرمین عوام دوست پارٹی واقعی عملی طور پر بھی انسان دوست ہیں ان کی معیت اور قیادت میں وقت مقررہ سے پہلے پریس کلب پہنچ گئے اور مجھ پر ایک اور ذمہ داری ڈال دی گئی کہ نقابت کے فرائض بھی سر انجام دینے ہیں ۔ یہ شام شاہد چوہان کی خدمات کے اعتراف میں توصیف و تعریف کے کلمات میں ڈھل گئی ۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف پاکستانی جنرلسٹ کے بانی صدر شاہد چوہان کے اعزاز میں لاہور پریس کلب میں جو شام رکھی گئی اس میں ملک کے نامور صحافیوں اور سیاسی۔ ادبی سماجی شخصیات نے شرکت کی عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت پہلو اجاگر کرنے والے نامور صحافی شاہد چوہان کے اعزاز میں لاہور پریس کلب میں پروقار تقریب کا اہتمام جس کی صدارت سینیئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کی جبکہ مہمان گرامی میں صدر لاہور پریس کلب جناب ارشد انصاری ۔ حفیظ اللہ خان نیازی سینیئر اینکر پرسن مدثر اقبال کالم نگار میاں حبیب سمیت دیگر نے شرکت کی تقریب سے خطاب میں سینیئر اینکر پرسن مدثر اقبال کا کہنا تھا کہ شاہد چوہان کی پہچان ان کا کام ہے جو نہ صرف صحافی برادری کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے بھی اعزاز کی بات ہے بڑا مختلف سا کام ہوتا ہے کہ آپ دیار غیر میں بیٹھ کر اپنوں کا جس طرح خیال کرتے ہیں اصل کام وہ سامنے لائیں ۔ سینیئر تجزیہ کار حفیظ اللہ خان نیازی کا کہنا تھا کہ شاہد چوہان نے اپنے کام کے ساتھ عمدہ اخلاق کے باعث صحافی برادری اور اوورسیز پاکستانیوں کے دلوں میں گھر کیا ایک بندہ جو ہے اس میں دنیا میں پاکستان کے جتنے جرنلسٹ ہیں ان کو اکٹھا کیا اور ان کی ایک اپنی دنیا بسا دی مسلم لیگ نون پنجاب کے نائب صدر رانا محمد ارشد کا کہنا تھا کہ شاہد چوہان سے زمانہ طالب علمی سے تعلق ہے اور سب کو اکٹھا کر کام اپ کر رہے ہیں وہ یقینی طور پر قابل ستائش ہے مسلم لیگ نون پنجاب کے نائب صدر رانا محمد ارشد کا کہنا تھا کہ شاہد چوہان سے زمانہ طالب علمی سے تعلق ہے اور شاید چوہان نے جس طرح دیار غیر میں پاکستانیوں کی خدمت کی اس پر فخر ہے ہم نے وہ تمام مشکل وقت میں ساتھ ہی رہے میں بطور پریزنٹ مسلم لیگ کواڈپٹیشن کام کرتا رہا اور میرے ساتھ سیکرٹری انفارمیشن کام کرتے رہے چیف کوارڈینیٹر مسلم لیگ نون یورپ حافظ امیر علی اعوان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک کئی پروگرامز میں شاہد چوہان کے ساتھ شرکت کا موقع ملا شاہد چوہان نے ہمیشہ اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کی بات کی ۔ سینیئر تجزیہ کار مجیب الرحمن شامی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ شاہد چوہان نے ہمیشہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کو اجاگر کیا ۔ شاہد چوہان حقیقی معنوں میں عالمی سطح پر پاکستان کے سفیر ہیں ہماری پاکستانی صحافت جو ہے وہ ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور پاکستانی صحافت ایک دوسرے سے جڑ گئی ہے اور شاہد چوہان جوڑنے والوں میں ہیں ۔ میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ہمیں جوڑنے والوں کی ضرورت ہے ہمارے ہاں توڑنے والے تو بہت ہیں جوڑنے والے کم ہیں ۔ تقریب کے اختتام پر بانی و صدر انٹرنیشنل ایسوسییشن آف پاکستانی جرنلسٹ شاہد چوہان نے تقریب میں شریک مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرئے ۔ شاہد چوہان کے انکسار میں میں نے افتخار تلاش کیا اور اعتماد جو آپ پر صحافی برادری کو ہے وہ بڑا گرانمایہ اعزاز ہے ۔ گو اعتماد ایک چھوٹا سا لفظ ہے جسے پڑھنے میں سیکنڈ سوچنے میں منٹ سمجھنے میں دن مگر ثابت کرنے میں ساری زندگی لگتی ہے ۔ میرے لیئے شاہد چوہان کل بھی اجنبی تھے اور آج بھی اجنبی اور میں ان سے یہ خوبصورت تعلق رکھنا چاہتا ہوں اجنبیت یہ بہت ہی خوبصورت تعلق ہے کوئی آپ پر انگلی نہیں اٹھا سکتا کم رشتے بنائیں مگر مخلصی سے نبھائیں محبت بہت سے لوگ آپ سے کرتے ہیں لیکن مخلص سارے نہیں ہوتے شاھد چوہان اس لحاظ سے بڑے خوش قسمت ہیں جنہیں مخلص دوست ملے ہیں جو قسمت سے ملتے ہیں قیمت سے نہیں ۔ عافیت کے 10 حصے ہیں نو حصے خاموشی اور ایک حصہ لوگوں سے کنارہ کش رہنا ہے ہمارے اسلم ڈوگر صاحب نے ذرائع ابلاغ کی ترقی کے حوالے سے ایک جملہ لکھا ہے وہ بڑا گرانمایہ ہے وہ لکھتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کی ترقی نے الفاظ کو تاثیر سے محروم کر دیا ہے ۔ عوام دوست پارٹی کے چیئرمین جناب چوہدری جہاں سے تاثیر میں ڈوبی ہوئی افغان استعمال کی اور شاید چوہان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ جس تیرے شہر چوہان دیار غیر میں سماجی صحافتی اور فلائی کام کر رہے ہیں پاکستان میں بالکل اسی طرح عوام دوست پارٹی کے رہنما کام کر رہے ہیں اس حوالے سے دونوں رہنماؤں میں یکسانیت پائی جاتی ہے ۔ ٹی وی پر ہمارے دوست جناب ہارون عباسی صاحب ساؤتھ افریقہ میں گراں بہا خدمات سر انجام دینے والے شاہد چوہان سے انٹر ویو کر رہے جو بڑی خاصے کی چیز ہو گی ۔ چون کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنے وطن عزیز کی معاشی زلف پریشاں کو سنوارنے میں اپنی گراں قدر قدمات پیش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اپ اپنی مٹی سے جڑے ہوئے ہیں ۔

اپنی مٹی پہ چلنے کا سلیقہ سیکھو

سنگ مر مر پہ چلو گے تو پھسل جاؤ گے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.