پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا ایٹمی ملک

37

تحریر: محمد عمیر خالد

سال 1998ء کی بات ہے جب بھارت میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوئی اور اٹل بہار و اجپائی بھارت کے وزیراعظم بن گئے تھے۔ اُس وقت بھی بھارت کی نئی حکومت نے اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پاکستان سے نہایت ہی غلط اور سخت رویہ اختیار کیا تھا۔نئی بھارتی حکومت کے ان منفی اداروں اور وزیراعظم واجپائی حکومت کے رویوں سے اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو خطرے کا احساس محسوس ہوا۔ جس کے بعد پاکستانی وزیراعظم نے اپریل 1998ء کو امریکی صدر بِل کلنٹن کو بھارت کے منفی ادروں کے بارے میں آگاہ کیا، مگر امریکی صدر نے بھارت سے متعلق پاکستان کے اس خطرے کو میاں محمد نواز شریف کا وہم قرار دے دیا تھا۔ پاکستان کے دِفاع سے متعلق گہرائی سے علم رکھنے والی شخصیات کو یہ بات یاد ہوگئی کہ 06 اپریل 1998ء کو پاکستانی افواج نے زمین سے زمین پر وار کرنے والے میزائل حتف “5” غوری میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔ اس میزائل کی رینج 1500 کلو میٹر تھی۔ اُس وقت یہ تجربہ پوری دنیا کے لئے پاکستان کی طرف سے ایک بڑا سر پرائز تھا تب اُس وقت کے بھارتی وزیرِ خارجہ نے پاکستان کے اس کامیاب تجربے سے جلتے ہوئے کہا تھا کہ ہم بھی بہت جلد دنیا کو ایک بہت بڑا سرپرائز دینے والے ہیں۔ یاد رہے کہ 13 اپریل 1998ء کے کامیاب تجربے کے بعد بھارت کے سائنسدانوں کی طرف سے کیے جانے والے انتظامات پر سے پاکستان کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارتی خفیہ ایجنسی RAW نے پاکستان کے صوبہ سندھ میں بم دھماکے کیے تھے۔ جس کے ردِ عمل میں پاکستانی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جو ابی کاروائی کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم کو مذاکرات کی دعوت دی۔ لیکن بھارت نے مذاکرات کے لیے کوئی بھی جواب نہ دیا، چنانچہ ایسی ناگہانی صورتحال میں بھی 11 مئی 1998ء کو تقریباً 24 سال کے بعد بھارت نے دوبارہ تین ایٹمی دھماکے کیے ان ایٹمی دھماکوں سے ابھی دنیا حیرت میں ہی تھی کہ ٹھیک دو دن بعد 13 مئی 1998ء کو بھارت نے مزید 2 نو کلیئر ایٹمی دھماکے اور کر دیئے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو اُس وقت شدید پریشانی اور دبائو کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگر پاکستان ایٹمی دھماکے کرتا تو صورتحال کچھ ایسی تھی کہ اقتصادی مسائل پیدا ہو جاتے۔ لہٰذا اوزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اُس وقت کے امریکی صدر بِل کلنٹن سے ضمانت طلب کرنی چاہی کہ بھارت مزید ایٹمی دھماکے نہیں کرے گا لیکن امریکہ نے پاکستان کو ضمانت دینے سے معذرت کر لی۔ 22 مئی 1998 ء کو ایران کے صدر محمد خاتمی نے نواز کلنٹن رابطوں سے متعلق معلومات حاصل ہونے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو ٹیلی فون کیا اور ایرانی صدر نے نواز شریف کو کہا کہ مسلم اُماں کے وسیع تر مفاد کی خاطر پاکستان ایٹمی طاقت بننے کا فیصلہ کر لے اور ایرانی صدر نے اپنی اس تجویز میں میاں محمد نواز شریف کو یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ یعنی پاکستان امریکہ پر کسی طرح کا بھی اعتماد نہ کرے۔ بالا آخر میاں محمد نواز شریف نے اپنے ہم اعتماد ہمسایہ ممالک اور پاکستانی عوام کی آواز پر لبیک کرتے ہوئے 28 مئی 1998ء کو سہ پہر 3 بج کر 15 منٹ اور 30 سیکنڈ پر 5 نوکلیئر ایٹمی دھماکے ایک ساتھ ہی کر دیئے۔ جس کی تصدیق وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے شام 6 بجے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کی تھی۔ یاد رہے کہ اُس وقت نواز شریف کو پوری دنیا سے بہت زیادہ تھریٹس مل رہے تھے، جبکہ دنیا کی سب سے بڑی سُپر پاور نے اُس وقت ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے لئے میاںمحمد نواز شریف کو اربوں روپے کی آفر بھی کی تھی مگر میاں محمد نواز شریف نے ملک وقوم کی خاطر اور پاکستان کو نو کلیئر ایٹمی طاقت بنانے کے لیے کسی بھی چیز کو مدِ نظر نہیں رکھا۔ سال 1998ء میں بھی امریکہ نے پاکستان کے ایٹمی تجربات کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا لیکن ٹھیک دو دن بعد یعنی 30 مئی 1998 ء کو پاکستان نے چھٹا نوکلیئر ایٹمی تجربہ کر کے بھارت پر اپنی برتری پوری دنیا میں ثابت کر دی اور پاکستان دنیا کا پہلا ایٹمی صلاحیت کا حامل مسلم ملک اور دنیا کی چھٹی عالمی قوت اور طاقت بن گیا۔ جس کے بعد بھارت نے دنیا کے سامنے اپنی مظلومیت کا رونا دھونا شروع کر دیاتھا۔ پاکستان کے 28 مئی 1998ء اور 30 مئی سال 1998ء کے ایٹمی دھماکوں نے جہاں ایک طرف پاکستان کے دفاعی اداروں کو ایٹمی چھتری فراہم کر دی تو وہیں دوسری طرف پوری دنیا میں بھی یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان ایک مضبوط ایٹمی ملک ہے اور پاکستان کا دفاع نا قابلِ تسخیر ہے۔ پاکستان نے اس وقت پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اب کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے۔ امریکہ سمیت جس کسی نے بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ اُٹھا کر دیکھا بھی تو اُس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔ سال 1998ء سے لے کر آج دن تک ہمارے ایٹمی اثاثے جس کے بانی مُحسنِ انسانیت ڈاکٹر عبدالقدیر خان (مرحوم) تھے اور جن کی بدولت پاکستان دنیا کی چھٹی ایٹمی طاقت بنا اُس کو افواجِ پاکستان نے بہت ہی احتیاط سے اور حفاظت کے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ اب اگر ضروت ہے تو صرف اس بات کی کہ ہم اپنی افواج پر مکمل یقین، بھروسہ اور اعتماد رکھیں تاکہ ہمارا ملک رہتی دنیا تک سلامت رہے۔ (آمین)

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.