کومل شہزادی کے تاثرات ۔۔۔۔

32

تحریر: محمدنوید مرزا

کومل شہزادی نوجوان ادیبہ ھیں،جو بیک وقت بچوں کے ادب اور تنقید نگاری سے وابستہ ھیں۔کومل مستقبل میں ڈاکٹر آف فلاسفی کے روپ میں اپنی زمہ داریاں سنبھالنی والی ھیں۔شاید اس لئے بھی انھیں نفسیات سے گہرا شغف ھے۔ان کی تحریریں اپنے اندر گہری فکر اور تخلیقی توانائی رکھتی ھیں۔
ماضی میں خواتین لکھاریوں کی طرف سے تنقید نگاری کی جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔تاھم اب چند خواتین لکھاریوں نے اس شعبے کی طرف توجہ دی ھے۔انہی خواتین میں ایک نام کومل شہزادی کا بھی ھے،جن کی کتاب،تآثرات کے آئینے میں،حال ھی میں منظر عام پر آئی ھے۔اس کتاب میں مصنفہ کے 24 مضامین شامل ھیں۔کتاب میں اردو ادب کے نئے پرانے ھم شاعروں و ادیبوں کے تخلیقی ،تنقیدی اور تحقیقی کام پر گہری نظر ڈالی گئی ھے۔یہ مضامین زیادہ طوالت کا شکار نہیں۔مصنفہ نے کم الفاظ میں زیادہ اور مفید گفتگو کرکے ایک اچھی روایت قائم کی ھے۔انھوں نے کتاب کا انتساب اپنی ماں اور دنیا کی تمام ماؤں کے نام کیا ھے۔ماں دنیا کی عظیم ترین ھستی ھے۔
کومل شہزادی کے بارے میں ڈاکٹر شفیق آصف لکھتے ھیں،،اردو کی علمی و ادبی دنیا میں نوجوان محققین کی ایک نسل اپنی صلاحیتوں کا اظہار اردو زبان میں کر رھی ھے۔جن میں ایک اھم نام کومل شہزادی کا بھی ھے جو ڈاکٹر آف فلاسفی کے دقیق سفر پر گامزن ھیں اور علمی و ادبی مضامین بھی تسلسل سے لکھ رھی ھیں،کومل شہزادی نے اردو ادباء اور ناقدین کی تحاریر کا مطالعہ بہت عمیق نظری سے کیا ھے اور خود پر منکشف ھونے والی آگہی میں دوسروں کو بھی شامل کیا ہے ،،
اس کتاب کا پہلا مضمون ۔۔۔غالب شناسی کی تکون ۔مختصر جائزہ ۔۔۔جناب یوسف نون کے ایم فل مقالہ کے حوالے سے ھے۔جس میں انھوں نے نہ صرف مصنف کو خراج تحسین پیش کیا ھے بلکہ غالب شناسی سے وابستہ تین اھم ناموں گوپی چند نارنگ ،شمس الرحمٰن فاروقی اور اسلم انصاری کی غالب شناسی کا احاطہ بھی کیا ھے،جو مصنف اپنی کتاب میں تحریر کر چکے ھیں۔دوسرا مضمون ،انسان اپنے روبرو ،ایک جائزہ کے بارے میں ھے،جو ایک انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ھے،جسے محمد عاصم بٹ نے کیا ھے۔مصنفہ نے اس کتاب کا جائزہ بھی بڑی خوب صورتی سے کیا ھے اسی طرح ایک اھم مضمون ،قراۃ العین حیدر کے ناولوں میں تانیثی شعور ،اجمالی جائزہ بھی ھے۔جو نعمان نذیر کا ایم فل کا مقالہ ھے۔مصنفہ نے ڈاکٹر تابندہ سراج کی تحقیقی کتاب،اردو میں راشد شناسی پر بھی سیر حاصل بحث کی ھے۔ایک اور اھم تحریر معروف شاعر اعزاز احمد آذر کی کلیات کی تدوین کرنے والے جناب راشد محمود کے بارے میں ھے۔اس کے علاؤہ بھی کئی عمدہ تحریریں شامل ھیں۔مصنفہ نے میرے مجموعے ،میں سناتا ھوں قصہء درویش پر بھی ایک مختصر مگر جامع مضمون لکھا ھے۔جس کے لئے میںان کا شکر گذار ھوں۔
کتاب میں نامور شخصیات کا مصنفہ کو خراج تحسین شامل ھے۔آئیے چند تحریروں سے اقتباسات دیکھتے ھیں۔
میں کومل شہزادی کو جب پہلی بار ملا تو وہ ایک طالب علم تھی لیکن مجھے اس کے اندر ایک شعلہ نظر آیا کو اگلے چند سالوں میں بھڑک اٹھا۔
خالد فتح محمد

یہ کتاب تآثرات کے آئینے میں مصنفہ کی تخلیقات کی کاریگری،موضوعاتی گہرائی،اور صفحات پر موجود جذباتی اظہار کی تفصیلات پیش کرتی ھے۔
علی رفاد فتیجی

اردو ادب سے شغف رکھنے والے اپنی بساط کے مطابق ان دروازوں سے اردو کے محل میں داخل ھو کر اس کو خوبصورت بنانے کی کوشش کر رہے ھیں۔ان مجتہدین میں کومل شہزادی بھی شامل ھے۔
ڈاکٹر تحسین بی بی

کتاب میں کچھ اور بڑی شخصیات کی رائے بھی شامل ھیں۔یوں یہ کتاب مصنفہ کی علمی وادبی تحریروں سے مزین ھو کر خواتین لکھاریوں میں ایک نیا اور بھر پور اضافہ کر رھی ھے۔کومل شہزادی کے یہ مضامین انھیں تنقید کی دنیا میں بھر پور طریقے سے متعارف کرا رھے ھیں۔میں اس کتاب کی اشاعت پر انھیں مبارک باد پیش کرتا ھوں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.