صاحب کی شاعرہ۔۔۔۔۔

20

روبرو ۔۔۔۔محمد نوید مرزا

پروین سجل ھمارے عہد کی معروف اور خوبصورت لہجے کی شاعرہ ھیں۔ان کا شعر کہنے کا انداز قدرے مختلف اور جاندار ھے۔سجل اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں شعر کہتی ھیں۔حال ھی میں ان کا شعری مجوعہ،صاحب منظر عام پر آیا ھے۔اس سے پہلے ان کے گیارہ شعری مجموعے شائع ھو کر شہرت حاصل کر چکے ھیں۔صاحب کی شاعری بھی ان کے پہلے شائع شدہ شعری مجموعوں کی طرح صوفیانہ رنگ لئے ھوئے ھے۔روحانیت کی خوشبو سے سرشار یہ شعری مجموعہ عام روش سے ھٹ کر ھے۔بقول جناب نذیر قیصر،،پروین کی شاعری مذھب کے ذکر کی شاعری نہیں،روحانی قدروں کی شاعری ھے جس کی نمود انسانی قدروں کی کونپلوں میں جھلملاتی ھے،،
پروین سجل صوفی منش شاعرہ ھیں۔صاحب کا نام اپنے اندر بڑی معنویت رکھتا ھے ۔ھماری پروین سجل صاحبہ نے بھی اسے تہہ در تہہ کئی معنوں میں برتا ھے۔تاھم میں اسے محض اتفاق ھی سمجھتا ھوں کہ اس نام سے دو شعری مجموعے پہلے بھی منظر عام پر آچکے ھیں۔سجل نے یہ نام اپنی طویل غزل سے لیا ھے۔جس کا ھرشعر خوبصورت ھے۔ملاحظہ کریں۔۔۔۔
کیا مجال آپ سے میں منہ پھیروں
جس طرح آپ کی مرضی صاحب

حسن منت کے ھیں اوراق کھلے
عمر بھر کی ھے یہ پوتھی صاحب۔

پینگ آنگن میں میں یونہی ھلتی رھی
عمر ماں نے مری کاٹی صاحب

ھاتھ آتی تھی سجل کیسے دعا
جبکہ دامن بھی تھا چھلنی صاحب

کیا ھوا نقش خیالی آباد
آبسی مجھ میں تو بستی صاحب

پروین سجل کی شاعری میں موضوعات کی فراوانی نظر آتی ھے۔ان کی شاعری روایت اور جدت کا حسین امتزاج رکھتی ھے اور ان کا یہ شعری مجموعہ سنجیدہ ادب کے قارئین کے لئے تحفہء خاص ھے۔اس حقیقت کی نشاندھی جناب ارشد نعیم نے بھی کی ھے۔کتاب کے دیباچے میں وہ ایک جگہ لکھتے ھیں،،پروین سجل کے تجربات ھوں یا روایت کی پابندی میں لکھی گئی شاعری،سب میں ان کو ھم سنجیدہ تخلیق کار کے روپ میں دیکھتے ھیں اور دیانت داری سے یہ محسوس کرتے ھیں کہ ان کے نزدیک شاعری محض ذات کے اظہار کا وسیلہ نہیں ھے بلکہ ایک فکری اور فلسفیانہ سرگرمی ھے،،

صاحب کی شاعری کی طرح اس کتاب کا انتساب بھی مختلف ھے۔آپ بھی پڑھیں،،انتساب۔۔۔۔۔ودیعت کے پہلے لمحے کے نام۔جب۔۔۔ظہور ھوا۔۔۔
پروین سجل کی طویل ریاضت اور شعری سفر جاری و ساری ھے اور وہ نت نئے تجربات سے گذر کر اپنی غزل کو نیا شعور عطا کر رھی ھے۔بقول نوید صادق،،پروین سجل کے ھاں شدت احساس اور جذبے کی صداقت خوب صورت شعری پیکر تراشتی ھے۔ھجر و وصال کے موضوعات کی بات کی جائے تو خود کلامی ،غنائیت،رچاؤ،سرشاری،نسائی جذبات کا اظہار اوران سب کے پہلو بہ پہلو ایک دبی دبی غم انگیزی و غم خیزی اپنا جادو جگاتی نظر آتی ھے،،
آخر میں چند شعر نذر قارئین ھیں۔۔۔۔۔

داستاں جس کو آگے بڑھنا تھا
وہ پڑی تھی نصاب سے باھر

وہ مری جان کو ایسا آیا
مجھ سے میرے ھی معانی پوچھے

اپنی تکمیل کے لئے نفسا
چاک سے کیاا ترا جمال اترا

آئیے سرکار جب فرصت ملے تو
منتظر ھر شے ھے گھر کی دست بستہ

روانی دیکھئے اشک رواں کی
کہ بنجر خشک دریا بھر گئی ھے

پاؤں کی سمت جا کے بیٹھ رھیں
احترام اس قدر دیا اس کو

سچ پوچھو تو اپنی طرف سے
یعنی سب ھموار کریں کیا

تیرے آنکھ لگی پانی میں
سیل دریا نہ کنارا چھوڑا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.