فیس معافی کی درخواست

23

احساس کے انداز
تحریر ؛۔ جاویدایازخان


اسکول میں داخلہ لیا تو استاد بڑے قابل اور محنتی ملے کچی اور پکی پہلی جماعت اسکول کے
گراونڈ میں بیٹھ کر پڑھنا ہوتی تھی
اپنے قاعدے اور تختی اور قلم دوات کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک عدد پٹ سن کی
بوری بھی لے کر جانی پڑتی تھی
جسے گراونڈ پر بچھا کر بیٹھتے تھے
چھٹی کے وقت اس بوری کو جھاڑ کر تہ کرتے اور واپس گھر لے جاتے کیونکہ کچی پکی
پہلی کو سرکاری اسکولوں میں ٹاٹ مہیا نہیں کئے جاتے تھے
یہ سہولت دوسری جماعت میں جاکر حاصل ہوتی تھی مگر اسکول گراونڈ بہت خوبصورت اور بڑی عمدہ قسم کی گھانس سے بھرا ہوتا
جس کے اردگرد رنگ برنگ پھولوں اور پودوں سے سجی کیاریاں ہوا کرتی تھیں
ان پٹ سن کی بوریوں پر بیٹھ کر جو مزا آیا تھا وہ کبھی ٹاٹوں ،ڈیسکوں اور میز کرسی پر بیٹھنے پر نہ آیا ۔
مجھے یاد ہے کہ ہمارے استاد حاجی اللہ بچایا مرحوم ہمیں ایک منٹ فارغ نہ رہنے دیتے ۔انہیں تو بچوں کو پڑھانے کا جنون تھا۔
پکی کلاس میں روزآنہ زبانی املا لکھوایا جاتا تھا۔ سب کی تختیاں چیک کر کے غلطیوں کی نشاندہی اور اصلاح کی جاتی
جس کا فائدہ یہ ہوا کہ جب ہم دوسری جماعت میں پہنچے تو اردو پڑھنا اور لکھنا سیکھ چکے تھے
میں با آسانی اخبار اور رسالے پڑھ لیا کرتا تھا ۔ اردو لکھنے پر بھی عبور حاصل ہو چکا تھا ۔
دوسری جماعت میں ہمارے استاد سید وہاب شاہ صاحب مرحوم ڈسپلن کے بڑے سخت تھے اور اسکول سے غیر حاضری پر سخت ناراض ہوتے تھے
انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ ہر بچہ اسکول سے چھٹی کرنے کے لیے باقاعدہ درخواست دیا کرے
اور چھٹی لینے کی وجہ لکھے اور سواے ایمرجنسی کے چھٹی ایک دن پہلے منظور کرائے اور اپنے والد سے اپنی چھٹی لینے کی ضرورت کی تصدیق بھی کرائے ۔
انہوں نے چھٹی یا رخصت لینے کی درخواست لکھنا سکھایا جو مجھے آج بھی زبانی یاد ہے ۔
تیسری جماعت میں چھٹی کی درخواست کے ساتھ ساتھ ایک اور درخواست لکھنا سکھائی گئی جو اس وقت بہت مشکل لگتی تھی
وہ تھی فیس معافی کے لیے درخواست جو نہ صرف سکھائی گئی بلکہ ہر طالب علم سے لی بھی گئی
تاکہ اس کی سال بھر کی اسکول کی سرکاری فیس جو بمشکل ایک یا دو روپے ہوا کرتی تھی
اسے بھی ہیڈماسٹر صاحب سے معاف کرا لیا جاے پوری کلاس نے یہ درخواست لکھ کر دے دی جو ہیڈماسٹر صاحب کو روانہ کردی گئیں ۔
مجھے پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ سرکاری اسکول کی بھی فیس ہوتی ہے اور وہ ایک درخواست لے کر معاف کر دی جاتی ہے ۔
گھر جا کر اباجی کو بڑے فخر سے بتایا کہ میں نے استاد صاحب کے حکم پر فیس معافی کی درخواست لکھ کر دی ہے بلکہ درخواست کا مضمون پڑھ کر سنایا تو اباجی کہنے لگے ہم تو فیس ادا کرسکتے ہیں تو معاف کیوں کرائیں ؟
میں نے کہا اباجی پوری کلاس بلکہ پورے اسکول نے یہ فیس معاف کرائی ہے کوئی بھی فیس نہیں دیتا
تو وہ بولے وہ مستحق ہوں گے لیکن تم مستحق قطعی نہیں ہو
فیس معافی تو ایک طرح کی مدد اور خیرات ہوتی ہے جو مستحق طلبا کو ان کی غربت کی وجہ سے دی جاتی ہے جبکہ صاحب حیثیت اور غیر مستحق لوگوں کا یہ قومی فریضہ ہوتا ہے کہ وہ سرکاری فیس جمع کرائیں
میں بچہ تھا ان کی بات میری سمجھ نہیں آرہی تھی کہ جب سب کو معافی مل رہی ہے تو ہم کیوں ادا کریں ؟ دوسرے روز اباجی اسکول آئے اور میری فیس ادا کرکے درخواست واپس لے لی اور کہا کہ
میں نہیں چاہتا کہ میرا بچہ مستحق ہونے کے احساس کے ساتھ تعلیم حاصل کرے
پھر جب تک میں اسکول میں پڑھتا رہا فیس ادا کرتا رہا ۔جب تک حکومت نے سرکاری اسکول کی تمام بچوں کی فیس معاف نہٰ کردی ۔
میں پڑھائی میں ہوشیار اور ذہین بچوں میں شمار ہوتا تھا ۔ اباجی ایک رئٹائرڈ فوجی تھے۔
فوجیوں کے بچوں کو وظیفہ ملتا تھا۔ مجھے بھی سولجر بورڈ کے ذریعے وظیفے کے لیے درخواست دینے کے لیے کہا گیا تو اباجی نے پھر انکار کردیا
اور کہنے لگے اللہ نے مجھے اچھا روزگار اور پینشن دی ہوئی ہے تو میں کیوں یہ مدد لوں
پھر فرمایا وظیفہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جو مدد کے طور پر دیا جائے اور دوسرا وہ جو قابلیت کے انعام اور اعزاز کے طور دیا جائے
مدد کے یہ وظیفے مختصر تعداد میں ہوتے ہیں۔ ہم مستحق نہیں ہیں۔ اگر ہم یہ وظیفہ لیں گے تو کوئی مستحق اس سے محروم ہوجائے گا
مجھے خوشی تب ہوگی جب وظیفے کے امتحان میں کامیاب ہوکر انعام کے طور پر وظیفہ لو گے
یوں پوری تعلیمی زندگی میں کسی بہن بھائی کو فوجی وظیفہ نہ لینے دیا ۔
وہ کہا کرتے تھے کہ وظیفے کے لیے وظیفے کا امتحان دو اور اپنی قابلیت کی بنا پر وظیفہ بطور انعام اور اعزازحاصل کرو ۔
اور ایسا ہی ہوا۔ تقریباً سب بہن بھائیوں نے پانچویں اور مڈل کلاس کے وظیفے کے امتحان دئیے اور پوزیشن حاصل کرکے وظائف حاصل کئے ۔
میری چاروں بہنوں کے نام اسکول کے آنر بورڈ پر آج بھی لکھے ہوئے ہیں ۔جب سب سے چھوٹی بہن نے اسکول چھوڑا تو ان کی استاد نے کہا
اب اس بوڑد پر تمہارے خاندان کے علاوہ کسی اور کا بھی نام لکھا جائے گا تو وہ ہنس پڑی اور جواب دیا
نہیں میڈم اب میری بھتیجی پڑھنے کے لیے داخل ہو گئی ہے ۔
اباجی کی تقلید کرتے ہوئے میں نےبھی اپنی زندگی میں کبھی کسی بچے کے لیے
بینک ملازمت کے دوران بینک سے کوئی سکالرشپ نہیں مانگی
لیکن اس کے باوجود میرے بچوں نے قومی پاکستان ٹیلنٹ ایورڈ تک حاصل کرکے ریکارڈ قائم کئے ۔
لیکن مجھے فیس معافی کی درخواست اُردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کبھی نہیں بھولی
وہ مجھے ہمیشہ حفظ رہی اور آج بھی یاد ہے
اور اتفاق سے جب بھی کوئی امتحان دینا ہوتا تو اردو گرائمر یا انگریزی گرائمر کے پرچے میں
یہ سوال ضرور آتا تھا اور مجھے پورے نمبر ملتے تھے
مجھے آج اس بات پر فخر ہے کہ میرے اباجی مرحوم واقعی ایک عیال دار اور غریب ،
مگرایک خود دار اور انا ءرکھنے والے انسان تھے
ان کی کوئی وراثت تھی ہی نہیں جو ہم بچوں میں تقسیم ہو پاتی۔ اپنی ساری آمدنی
اپنے گزاوقات اور ہماری پڑھائی پر لگا دیتےتھے
پوری زندگی کرائے کے یا سرکاری گھروں میں گزاری ۔اپنا ذاتی گھر تک نہ بنا سکے۔
ساری زندگی پیدل یا سایکل پر سفر کیا ۔مزے کی بات یہ ہے کہ جب وہ بھارت میں جنگی قیدی تھے
ہم بہن بھائی اس وقت بھی اسکول کی فیس ادا کرتے تھے ۔
مجھے اپنے اباجی کی یہ بات اس لیے یاد آئی کہ پچھلے دنوں ایچیسن کالج کے پرنسپل کا
استعفیٰ اور بورڈ آف گورنر پنجاب کا فیس معافی کا فیصلہ اخبارات ،میڈیا اور سوشل میڈیا پر بہت گرم رہا
بہت سےصحافیوں ،دانشوروں اور کالم نگاروں نے اپنے اپنے انداز میں اس پر بےشمار تبصرے کئے
اور اب بھی کر رہے ہیں
میرے نزدیک سب قابل احترام ہیں۔ دوسرے میں بہت سے پس پردہ حقائق سے بھی بےخبر ہوں
اس لیے اب اس پر کچھ مزید کہنا یا لکھنا ضروری نہیں سمجھتا اور نہ ہی اب اس لاحاصل بحث میں پڑنا چاہیے
البتہ اس بات پر یہ حیرت ضرور ہوئی کہ ایچیسن جیسے پاکستان کے سب سے اعلیٰ کالج کی
فیس بھی معاف ہو سکتی ہے ؟
جہاں داخلے کے لیے سوچ رکھنا بھی ایک خاص طبقے تک محدود ہوتا ہے
مجھ سمیت پاکستان کے پچانوے فیصد لوگ تو دلوں میں اس کالج کو ایک نظر دیکھنے کی
حسرت اور خواہش لیے ہی دنیا سے چلے جاتے ہیں ۔
رفتہ رفتہ ہم یہ سب بھی بھول جائیں گے ۔
اس بارے میں صرف اتنا کہوں گا کہ ہمیں اسکول کی فیس معافی اور
وظیفے کے بارے حقائق اور ان کی مقصدیت کو سمجھنے کی آج بھی بڑی ضرورت ہے
کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اپنے فائدے کے لیے کسی فرد یا ادارے کو نقصان پہنچا رہے ہوں ۔
اس لیے فیس معافی کی درخواست اب اردو اور انگریزی گرائمر کے نصاب سے نکال دینی چاہیے
کیونکہ اب اس کی ضرورت نہیں نظر آتی
اور وظائف یا سکالرشپ کا معیار اور اس کی اہلیت کا فیصلہ صرف قابلیت اور میرٹ ہونا چاہیے
یہ وقت کا تقاضہ ہے ۔

30/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-9-scaled.webp

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.