وقت بدلتا رہتا ہے اُمید کا دامن تھام کے رکھ

38

انتخابات کے بعد کے سیاسی منظر نامے سے لگ رہا ہے کہ پھیلی ہوئی بے چینی ختم نہیں ہو گی بلکہ اس میں اضافہ ہو گا
جبکہ عام آدمی کی خواہش ہے کہ اہل اختیار و اقتدار ملک کو درپیش مسائل و مشکلات کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں
مگر موجودہ صورت حال نے مختلف وسوسوں کو جنم دیا ہے مایوسی ایک بار پھر امڈ آئی ہے ۔
حزب اختلاف کو چاہیے کہ وہ تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ راستہ اختیار کرے
جس میں سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔
یعنی عوام کے مسائل پر بھی توجہ دی جاسکے اور جو اسے حکومت سے شکایت ہیں وہ بھی دور ہو سکیں۔
ہم اپنے گزشتہ کالموں میں یہ عرض کر چکے ہیں کہ حکمرانی پھولوں کی سیج نہیں
کسی ایک فریق کے لئےگمبھیر مسائل سے نمٹنا مشکل ہے بلکہ نا ممکن ہے۔
لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر حالات کا مقابلہ کریں
مگر اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہو رہی کوئی مکالمہ کرنے کو تیار نہیں۔
ایسے لوگ جو ملک میں امن پیار اور خوشحالی کی فضا دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں وہ بھی آگے نہیں آ رہے
سوال یہ ہے کہ اس افراتفری کے ماحول میں کیسے معیشت بہتر ہو گی کیسے مہنگائی سے نجات ملے گی؟
بس ایک ہی آواز گونج رہی ہے کہ دھاندلی ہو گئی لہذا ان کی نشستیں واپس کی جائیں
ہمیں نہیں لگتا کہ ایسے طریق کار سے ان کی نشستیں واپس ہو سکیں گی ۔
کیونکہ حکمران اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ حکومت جب بن گئی ہےتو اسے چلانا ہی چلانا ہے
انہیں حزب اختلاف کی ذرا بھر پروا نہیں اسے معلوم ہے کہ کیسے اسے کامیابی حاصل ہوئی ہے
لہذا وہ ڈٹ گئی ہے
اس پر ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں جنہیں ہے وہ واویلا کر رہے ہیں ہمیں تو عوامی مسائل سے دلچسپی ہے کہ وہ ختم ہو جائیں کون کرے گا اس سے غرض نہیں ۔
ہمیں دکھائی دے رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں مہنگائی لوگوں کو مزید بد حال و نڈھال کر ے گی
اب بھی حالت بہت خراب ہے مگر جب بجلی گیس کے بل آئیں گے تو چودہ طبق روشن ہو جائیں گے
لہذا حزب اختلاف ہتھ ہو لا رکھے حکومت کو اپنا کام کرنے دے اسے مسائل حل کرنا ہے
عوام کو ریلیف دے کر سرخرو ہونا ہےوہ تو آئی ہی اپنے ہم وطنوں کی خدمت کے لئے ہے
ہمیں پورا یقین ہے کہ مسلم لیگ کی حکومت اب کی بار پچھلی غلطیاں نہیں دہرائے گی
اگر دہراتی ہے تو اس کی مقبولیت میں بے حد کمی واقع ہو جائے گی جس کی وہ متحمل نہیں ہو سکتی
لہذا وہ زیادہ سے زیادہ ریلیف پیکیج کا اجرا کرے گی
سب سے پہلے وہ بجلی کے تین سو یونٹس مفت فراہم کرے گی کہ
آنے والے دنوں میں محنت کش اور ملازمین بجلی کے بل ادا نہیں کر پائیں گے
ان کا گھریلو بجٹ بُری طرح سے متاثر ہو گا اور ہوا ہے۔
دواؤں اور غذاؤں کا حصول مشکل ترین ہو چکا ہے غریبوں کو تو مکمل غذا ایک عرصے سے میسر نہیں ۔
نئی حکومت کو اس صورت حال کا پورا ادراک ہے وہ چاہے گی کہ عوام کو سہولتیں ملیں
تھانوں اور پٹوار خانوں میں عوام پر ہونے والے مظالم بھی رکیں
یہ دونوں محکمے قابل اصلاح ہیں ان میں بیٹھنے والے اہلکار کسی وقت تو انسان ہی نہیں لگتے ۔
حکومت انتقامی سیاست کا خاتمے کا بھی عندیہ دے رہی ہے کیونکہ اگر وہ اگر انتقامی سیاست کا سلسلہ جاری رکھتی ہے تو اسے یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وقت ایک سا کبھی نہیں رہتا ۔
ہم چشم تصور سے دیکھ رہے ہیں کہ اگلا دور کسی اور کا ہو گا کیونکہ بین الاقوامی سیاست تبدیل ہو رہی ہے جس کا اثر لازمی ہماری سیاست پر بھی پڑے گا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے
خیر ہمیں جو عرض کرنا ہوتا ہے وہ کر دیتے ہیں اپنے ضمیر کے ہاتھوں گھائل نہیں ہوتے۔حکمران کیا سوچتے ہیں کیا کرنا چاہتے ہیں یہ ان کی مرضی ہے ان کا استحقاق ہے۔
ہم عوام کے ترجمان ہیں لہذا ان کی پریشانیاں مصائب اور مسائل اہل اختیار کے گوش گزار کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں مگر افسوس کہ ہمارے حکمران اپنے بیانات میں تو عوام کے کے دکھوں کی بات کرتے ہیں
عملاً کچھ نہیں کرتے جس سے یہ گمان گزرتا ہے کہ انہیں عوام سے شدید نفرت ہے
شاید اسی لئے ان کے اور عوام کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہو چکی ہے جسے پاٹنا بہت ضروری ہو چکا ہے
کیونکہ ملک تباہی کی طرف گامزن ہے معاشی حالت دگر گوں ہے
لہذا حکومت جلد ازجلد عوام کا اعتماد حاصل کرے پھر حزب اختلاف سے رابطہ کرے
کچھ لو کچھ دو کی پالیسی اختیار کرے اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں
اسے اس اقدام سے کافی تقویت مل سکتی ہے حزب اختلاف (پی ٹی آئی) کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا
اس میں اس کی بہتری ہےمگر پہلے حکومت کو مفاہمت کا ہاتھ آگے بڑھانا ہو گا
کیونکہ اسے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا مقابلہ کرنا اکیلے اس کے بس میں نہیں
مگر اسے یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ کوئی بھی اس پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں
اس کے پیچھے یہی چیز ہے کہ اس نے مینڈیٹ میں گڑ بڑ کی ہے لہذا جب تک
وہ اس حقیقت کو تسلیم نہیں کرتی اس سے ہاتھ نہیں ملایا جا سکتا
چلئے مینڈیٹ والی بات درست بھی ہے تو اس کو نظر انداز کرتے ہوئے
حکومت کو اپنے وعدوں پر عمل درآمد شروع کر دینا چاہیے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکے کہ
اسے عوام کے مصائب کو ختم کرنا ہے ملک کو خوشحال بنانا ہے اور
اگر وہ محض اپنے راستے کی دیکھی ان دیکھی رکاوٹوں کو بنیاد بنا کر
فلاحی و رفاہی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر ہے تو وہ اقتدار چھوڑ دے
اور طفل تسلیاں نہ دے اس سے وہ اور غیر مقبول ہو گی پھر یہ سوال پیدا ہوگا
کہ اس کے لئے حکومت میں آنا کیوں ضروری تھا کہتے ہیں کہ کرسی کا مزہ ہی اور ہے
لہذا مسلم لیگ نون بھی اس کے مزے لینا چاہتی ہو گی اسے اس امر کی پروا نہیں ہوگی
کہ لوگ کیا کہتے ہیں اب بھی لوگ بہت کچھ کہہ رہے ہیں مگر
وہ اقتدار سے الگ ہونے کا ہلکا سا بھی اشارہ نہیں دے رہی شاید وہ طاقت کو ہی سب کچھ سمجھ رہی ہے
اور اس میں کوئی شبہ بھی نہیں کہ طاقت نے ہی اسے با اختیار بنایا ہے
مگر تاریخ کے اوراق میں یہ لکھا گیا ہے کہ جب (اصلی طاقت) عوام جاگتے ہیں
تو پھر ہر تاریک چوک چاندنی چوک بن جاتا ہے ہم دیکھ رہے ہیں کہ
اب جب ان کی اہمیت کو پس پشت ڈالا گیا ہے تو وہ حرکت میں آ رہے ہیں چیخ چلا رہے ہیں ۔
حکومت کا اگر یہ خیال ہےکہ انہیں بازوؤں کی طاقت سے دبایا جاسکتا ہے
تو وہ کسی خوش فہمی میں مبتلا ہیں بہتر ہر کسی کے لئے یہی ہے کہ
وہ فاصلے مٹاکر ایک دوسرے کے قریب آ جائے اور مل کر ملک کو سیاسی اور معاشی بھنور سے باہر لائے۔
اس کے سوا دوسرا کوئی راستہ نہیں جو اس بات کو فضول سمجھتا ہے
وہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کو پیش نظر رکھے نفسیات کا اصول ہے
جسے ہم متعدد بار بیان کر چکے ہیں کہ ایک کیفیت کبھی بھی یکساں نہیں رہتی تبدیل ہو جاتی ہے !

ناصف اعوان

11/03/24

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/03/p3-7-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.