مریم نواز پنجاب کی ترقی کی آواز

31

عائشہ سلیم اور بابارحمت کی 25سالہ بیٹی صائمہ کا ایک ہی مسئلہ اور ان دونوں کو ڈاکٹروں نے ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین ٹیسٹ کنٹراسٹ لکھ کردیے
عائشہ کا علاج پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز جبکہ صائمہ کا علاج گنگا رام میں جاری ہے
مگر دونوں غربت کی وجہ سے علاج کرانے سے قاصر ہیں
 بلکہ عائشہ کو تو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز میں
کنٹراسٹ ایم آئی آر کے لیے ۱۹ فروری کی تاریخ بھی ملی اور ساتھ کہا گیا کہ کنٹراسٹ کا ٹیکہ اپنے ہمراہ لائیں 
جو بازار میں اس وقت 20ہزار روپے میں بھی میسر نہیں جبکہ اس کی اصل قیمت 2000ہےاور سرکاری ہسپتالوں میں ماضی میں مریضوں کو یہ بلا معاوضہ مہیا کیا جاتا تھا
جس کے لیے محکمہ صحت فنڈز جاری کرتا تھا اور کچھ بندوبست مخیر حضرات کے تعاون سے بھی ہوجاتا تھا
مگر گزشتہ ایک سال کی نگران حکومت کے محکمہ صحت نے غریب مریضوں پر تو بم گرادیا
اور ان کو ادویات اور ٹیسٹوں کے حصول کی خاطر دربدر ہونا پررہا ہے
یہ بات عائشہ اور صائمہ کی نہیں بلکہ اس معاملے کا دائرہ اختیار پورے پنجاب کی حد تک ہے
جہاں لاکھوں غریب لوگ اپنا حق نہ ملنے کی وجہ سے شٹل کاک بن کررہ جاتے ہیں اور ان کو حق نہیں ملتا
اس معاملے پر جب میں نے اپنے طور تحقیق کی تو پتہ چلا کہ
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ادویات اور دیگر چیزیں مہیا کرنے کا ذمہ دار ہے
مگر اس محکمہ کے سیکرٹری علی جان اپنے آفس میں نہیں بیٹھتے بلکہ
انھوں نے اپنے دفتر سے کچھ دور ایک اور گھر کرائے پہ لے کر اپنا دفتر قائم کر رکھا ہے
جس کا کرایہ لاکھوں میں تو ہوگا ۔
محکمہ صحت اس مد میں سالانہ کڑوروں روپیہ خرچ کر رہا ہے مگر
غریب مریضوں کے لیے دوسال سے کنٹراسٹ کا ٹیکہ ہسپتالوں کو مہیا نہیں کرپارہا
جس کی وجہ سے عائشہ اور صائمہ جیسے ہزاروں مریضوں کا علاج مکمل نہیں ہوتا
اور وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔
مریم نواز آج پہلی خاتون وزیر اعلی کی حثیت سے اپنا عہدہ سنبھال لیں گی
ان کی سیاسی وابستگی صرف عوام کے ساتھ ہے کیونکہ یہ عوام کا ووٹ حاصل کرکے
اس مقام تک پہنچی ہیں اور انھوں نے اپنی تقریریوں میں عوام کی خدمت کے جذبے کا اظہار کئی بار کیا ہے
ان کے پیش نظر محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم میں ترجیحات نافذ کرنا ضروری ہوں گی
کیونکہ اگر آپ ایک خاندان کو صحت کی سہولیات فراہم کر دیں تو یقین مانیے
کہ وہ خاندان آپ کو دعائیں دیتا نظر آئے گا
صحت سہولیات کی فراہمی ہر ایک کے لیے ہونی چاہیں اس میں 
کسی بھی جماعت اور فرقہ کی تفریق نہیں ہونی چاہیے کیونکہ آپ پنجاب کی وزیر اعلی ہیں
اور اسی طرح تعلیم کے میدان میں اگر پنجاب کے بچوں کی تعلیم کے لیے بڑے فیصلے کریں
 ان کو مفت تعلیم کی سہولت ان کے گھروں کے نزدیک حاصل ہو
اور پنجاب حکومت اس بچہ کو تمام سہولیات فراہم کرئے اور کوئی بھی بچہ
صرف اس وجہ سے تعلیم نہ چھوڑے کہ اس کے پاس فیس ادا کرنے کئے پیسے نہیں ہیں 
اگر ایسا میکنزم آپ ترتیب دے دیں جو کوئی مشکل کام نہیں تو
یقین جانیے آپ نے کئی خاندانوں کے سنہرے مستقبل کا آغاز کردیا جو اس سسٹم کی کامیابی کی بنا پر مستقبل میں ملکی خدمت میں اپنا کردار ادا کرے گا
اور اپنے خاندان کی معاشی ضروریات کا خیال رکھے گا جو سابق وزیر اعظم اور آپ کے دست راست محمد نواز شریف کا ماٹو ہے
جو کہتے ہیں نوجوان نسل ہی پاکستان کو اپنی منزل تک پہنچائے گی
نوجوانوں نے اتحاد ، اصلاح ،فلاح اور معاشرے میں بہتری کےلئے دل لگا کر محنت کرنی ہے
اور خود کو انتشار ،تقسیم ،گالی گلوچ اور بد تہذ یبی سے دور رکھنا ہے
وہ شخص کبھی
کامیاب نہیں ہو پاتا جس میں ناکامی کا خوف کامیابی سے زیادہ ہو ۔
قائد محترم محمد نواز شریف میرٹ کے قائل ہیں اور انھوں نے ہمیشہ میرٹ کے کلچر کو پروان چڑھایا
جس کی وجہ سے آج ہزاروں لوگ اپنے کنبہ کو پال رہے ہیں اور جہاں میرٹ کی قدر نہ کی جائے
وہاں پر ہمیشہ انسان کی قدر زوال پزیری کا شکار رہتی ہے
آپ نے بھی اپنی تقریروں میں میرٹ اورت نوجوانوں کو باعزت روزگار دینے کا وعدہ کیا ہے
مگر جو ذیادتیاں نگران دور حکومت میں ہوئیں اور ایسے لوگوں کو نوازا گیا
جو میرٹ سے بالاتر تعینات ہوئے اور سب سے بڑی بات ایک محکمہ سے ریٹائر ہو کر
دوسرے محکمہ میں تعینات ہوئے اور نوجوانوں کا نہ صرف حق مار گئے بلکہ
اپنی مرضی کی تعیناتیاں بھی کرگئے
ایسے مافیا کے خلاف بھی کاروائی ہونی چاہیے اس جیسا ٹیسٹ کیس
محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری میں بھی ہے جہاں پر این ٹی ایس پاس کرنے والے امیدواروں کا
حق مار کر 62سالہ خاتون کو
پراجیکٹ ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا جس نے اس سارے سیٹ اپ پر اپنی مرضی کی تعیناتیاں کردیں 
اور نیشنل ٹیسٹنگ سروس سے پاس ہوئے امیدوار اپنے انٹرویو کی راہ تکتے رہ گئے ۔
انسانی حق تلفی کی اس سے بڑی مثال کہیں اور نظر نہیں آتی کہ کیسے
نوجوان میرٹ سے حامل امیدوار اس ساری گیم ہی سے باہر ہوگئے اور
سفارش کے حامل 2سرکاری نوکریوں پر برجمان ہوگئے ۔
اس سارے پراسس کی جانچ ضروری ہے کہ کیسے سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر علی جان نے بھی سارے پراسس کو سبو تاز کیااور ان لوگوں کے آرڈز جاری کیے جو اہل نہیں تھے ۔
1947ء سے لے کر اب تک20وزرائے اعلیٰ ’’تخت لہور‘‘ پر براجمان ہوئے جن میں افتخار حسین ممدوٹ،
ممتاز دولتانہ، ملک فیروز خان نون، عبدالحمید دستی، معراج خالد، غلام مصطفیٰ کھر، حنیف رامے، صادق حسین قریشی، نواز شریف ، غلام حید وائیں، منظور وٹو ، شیخ منظور الٰہی، عارف نکئی،
میاں افضل حیات، شہباز شریف ، چوہدری پرویز الہٰی، شیخ اعجاز نثار، دوست محمد کھوسہ، نجم سیٹھی، حسن عسکری، عثمان بزدار، حمزہ شہباز اور محسن رضا نقوی کے نام قابل ذکر ہیں
پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نوازکو واضح اکثریت ملنے سے اہم فیصلے کرنے میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں ہو گی مسلم لیگ (ق) اور استحکام پاکستان پارٹی کی حمایت سے
صوبائی حکومت کو بہترین ماحول میں کام کرنے کا موقع ملے گا ۔
مریم نواز کے لیے اب ایک بڑا امتحان ہو گا وزیر اعلیٰ کو جارحانہ مزاج چھوڑ کر ایوان میں آنا ہو گا
اور انہیں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی پر برداشت اور صلح جوئی کی پالیسی اختیار کرنا ہو گی کیونکہ مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے غریب آدمی کو 200یونٹ مفت بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔
پہلی جماعت سے پی ایچ ڈی تک مفت تعلیم کر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی لوٹ مار ختم کرنی ہوگی
مفت علاج کےپروگرام کو یقینی بنانا ہوگا
بلکہ در حقیقت عام آدمی کے چہرے پر مسکراہٹ واپس لانا حکومت کا ایجنڈا ہونا چاہیے جبکہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کو جہاں وزیر اعلیٰ تک رسائی کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے
وہاں انہیں ہفتہ میں ایک بار عام لوگوں کی براہ راست فون پر شکایات کو سننا چاہیے
اور کرپشن پرزیرو ٹالرنس ہونی چاہیے۔ مریم نواز ایک پر عزم اور باصلاحیت خاتون ہیں
ان کی گڈ گورننس سے مسلم لیگ (ن) کا کم بیک ہو سکتا ہے
کیونکہ انتخابی مہم کے دوران مریم نواز نے عوامی فلاح و بہبود اور خدمت کے جو وعدے کیے اب ان کی تکمیل کا وقت شروع ہونے والا ہے۔

ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر

https://dailysarzameen.com/wp-content/uploads/2024/02/p3-19-1-scaled.jpg

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.