قرض کی پیتے تھے مے۔۔۔۔

111

روداد خیال

صفدر علی خاں

پاکستان میں الیکشن کے انعقاد کا اعلان اس بار تاریخ کے ساتھ ہوا ہے اور تین آئینی اداروں کے سربراہوں کےاتفاق سے کیا گیا ہے ،بلاشبہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دو آئینی اداروں کے سربراہوں صدر اور چیف الیکشن کمیشنر کو اس حوالے سے ایک صفحے پر لانے کی خاطر”90 دن الیکشن کیس “کے عنوان پر سماعت شروع کی اور اسے یوں منطقی انجام تک پہنچایا کہ قوم کو فروری کی 8تاریخ میں ” بقول بلاول بھٹو کے “الیکشن چاند” واضح نظر آ گیا ۔اس حوالے سے اب تمام شکوک وشبہات دور ہوگئے ہیں ۔یہ تو خیر عام انتخابات کا سیاسی معاملہ ہے ہمارے ہاں تو عید کے چاند پر ہی چاروں صوبوں میں اتفاق کی صورت پیدا کرنا محال رہا ہے ۔قوم کو قومی معاملات پر یکجا کرنے کی خاطر قومی رہنمائوں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے ۔اس پر بھی بحثیں ہو رہی ہیں کہ پاکستان کا مفاد کس کے جانے میں ہے یا پھر کس کے آنے میں ہے ؟.عوام کے مسائل تاحال جوں کے توں ہیں ،عام انتخابات کے انعقاد سے نئی قومی حکومت کے قیام سے بڑی امیدیں وابستہ کی جاتی رہی ہیں ،قوم کو ریلیف دینے کا حقیقی اختیار رکھنے والی منتخب حکومت کا قیام ہی مسائل کا حل سمجھا جاتا ہے ۔جمہوریت کے طریقے میں عوامی مشکلات کے ازالے کی خاطر عوام کے اپنے ووٹوں سے جمہوری حکومت قائم کی جاتی ہے ۔پاکستان بلاشبہ گوناں گوں مسائل کی دلدل میں دھنستا جارہا ہے ،آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر اب ستر کروڑ ڈالر کی نئی قسط کےلئے چند دن پہلے جائزہ اجلاس ہوا ہے ۔سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے لیے طریقہ کار پر عمل درآمد کا جائزہ لیاگیا ۔ساتھ ہی گیس کا سرکلر ڈیٹ کم کرنے کے لیے مینجمنٹ پر بات چیت ہوئی جس کیلئے پاکستان کی تیاریاں مکمل رہیں ،اگرچہ عوام کو ان شرائط پر عملدرآمد کی بھاری قیمت چکانا پڑ رہی ہے ۔دوسری طرف سرکاری اداروں کے نقصانات کم کرنے کے لیے اقدامات کا جائزہ بھی لیاگیا ۔آئی ایم ایف نے پاکستان سے افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات اٹھانے پر بھی زور دیا ہے تا کہ عام آدمی پر بوجھ کم کیا جا سکے۔پاکستان کو یہ نئی قسط بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کیساتھ تین ارب ڈالر کے اس سٹینڈ بائی ارینجمنٹ سے مراد ہے کہ قلیل مدتی فنانسنگ کے ذریعے کسی ملک کی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کی جائیں۔ ایسے میں کم آمدنی والے ممالک کی اسی صورت میں مدد کی جاتی ہے اگر وہ ان مشکلات کو دور کریں جن کی بدولت انھیں فنڈنگ کی ضرورت پیش آئی تھی۔اس قسم کی فنانسنگ کی مدت 12 سے 24 ماہ تک ہوسکتی ہے مگر 36 ماہ سے تجاوز نہیں کرسکتی جبکہ فنانسنگ کی رقم ساڑھے تین سے پانچ سال میں لوٹائی جاتی ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.