قانون موجود، معلومات ناپید
شہزاد عمران خان
رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو پاکستان میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی حقِ دانست کی ضمانت قرار دیا جاتا ہے، مگر عملی حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون زیادہ تر سرکاری فائلوں میں قید ہو کر رہ گیا ہے۔ آئین اور قانون شہریوں کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ اپنے ٹیکس کے پیسوں سے چلنے والے سرکاری اداروں سے سوال پوچھ سکیں، مگر جب سوال کرنے والا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اکثر اوقات اسے یا تو خاموشی ملتی ہے یا پھر ایسی دیوار جس پر “معلومات دستیاب نہیں” لکھا ہوتا ہے۔
پنجاب اور وفاقی سطح پر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے نفاذ کو کئی برس گزر چکے ہیں، لیکن سب سے بنیادی شرط، یعنی پبلک انفارمیشن آفیسر کی تعیناتی، آج بھی درجنوں محکموں میں پوری نہیں ہو سکی۔ قانون واضح طور پر ہر سرکاری ادارے کو پابند کرتا ہے کہ وہ ایک ذمہ دار افسر مقرر کرے جو معلومات کی فراہمی کا مجاز ہو، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یا تو ایسا افسر موجود ہی نہیں یا پھر اضافی چارج دے کر معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ درخواست گزار کو یہ تک معلوم نہیں ہو پاتا کہ اس کی درخواست کس کے پاس ہے اور جواب کون دے گا۔
اعداد و شمار اس ناکامی کی کھلی تصویر پیش کرتے ہیں۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں ملک بھر میں ہزاروں رائٹ ٹو انفارمیشن درخواستیں دائر کی گئیں، مگر صرف تیس سے پینتیس فیصد درخواستوں پر ہی قانون کے مطابق جواب دیا گیا۔ پنجاب میں تقریباً اٹھارہ سو درخواستوں میں سے پانچ سو کے قریب درخواستوں پر معلومات فراہم ہو سکیں، جبکہ باقی یا تو التوا کا شکار رہیں یا پھر مکمل طور پر نظرانداز کر دی گئیں۔ یہ شرح اس دعوے کی نفی کرتی ہے کہ سرکاری ادارے شفافیت کی راہ پر گامزن ہیں۔
ملتان اور جنوبی پنجاب کی صورتحال بھی اس عمومی تصویر سے مختلف نہیں۔ یہاں ضلعی سطح کے محکموں، خصوصاً تعلیم، صحت، بلدیات، زراعت اور ترقیاتی اداروں میں معلومات تک رسائی ایک مشکل مرحلہ بن چکی ہے۔ مقامی صحافیوں اور شہریوں کے مطابق گزشتہ دو برسوں میں ملتان کے مختلف دفاتر کو درجنوں درخواستیں دی گئیں جن میں ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں، ادویات کی خریداری، تعلیمی فنڈز کے استعمال اور سرکاری اخراجات کی تفصیلات مانگی گئیں، مگر اکثریت کو مقررہ مدت میں کوئی تحریری جواب موصول نہیں ہوا۔ کئی درخواست گزاروں کو بار بار دفتر کے چکر لگانے کے بعد یہ بتایا گیا کہ متعلقہ پبلک انفارمیشن آفیسر تعینات ہی نہیں۔
یہ صورتِ حال نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہے۔ جب شہری کو یہ احساس ہو جائے کہ سوال پوچھنے کا حق صرف کاغذوں میں ہے تو وہ یا تو خاموش ہو جاتا ہے یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر ریاستی نظام سے بدظن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے درخواست گزار آخرکار انفارمیشن کمیشن کا رخ کرتے ہیں، مگر وہاں تک پہنچنا بھی آسان نہیں۔ اپیل کا عمل وقت طلب ہے اور عام شہری کے لیے قانونی پیچیدگیوں سے بھرپور۔
ملتان سے سامنے آنے والی دو مثالیں اس مسئلے کو مزید واضح کرتی ہیں۔ ایک مقامی صحافی نے ضلع کے صحت کے شعبے میں خریدی گئی ادویات اور طبی آلات کی تفصیلات کے لیے رائٹ ٹو انفارمیشن درخواست دی۔ قانون کے مطابق چودہ دن میں جواب آنا تھا، مگر دو ماہ گزرنے کے باوجود کوئی تحریری جواب فراہم نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں جب معاملہ انفارمیشن کمیشن کے سامنے آیا تو انکشاف ہوا کہ متعلقہ محکمہ میں باقاعدہ پبلک انفارمیشن آفیسر ہی تعینات نہیں تھا اور درخواست ایک میز سے دوسری میز تک گھومتی رہی۔ دوسری مثال ایک شہری کی ہے جس نے بلدیاتی ادارے سے سڑک کی تعمیر پر آنے والی لاگت کی تفصیل طلب کی۔ اسے کبھی “ریکارڈ دستیاب نہیں” اور کبھی “فائل زیرِ کارروائی ہے” کہہ کر ٹال دیا گیا، حالانکہ وہی معلومات آڈٹ رپورٹس میں درج تھیں۔
وفاقی اور صوبائی انفارمیشن کمیشنز کے پاس آنے والی اپیلوں کی تعداد بھی اس نظامی ناکامی کا ثبوت ہے۔ ہزاروں اپیلیں دائر ہو چکی ہیں اور درجنوں فیصلوں میں کمیشنز نے متعلقہ اداروں کو معلومات فراہم کرنے کے واضح احکامات جاری کیے، مگر ان احکامات پر عملدرآمد کی رفتار بھی حوصلہ افزا نہیں۔ جرمانے اور تادیبی کارروائی کے اختیارات موجود ہونے کے باوجود افسران کے خلاف شاذ و نادر ہی عملی قدم اٹھایا جاتا ہے، جس کے باعث سرکاری مشینری کو کسی قسم کا دباؤ محسوس نہیں ہوتا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کو اب تک ایک بوجھ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ عوامی خدمت کا ذریعہ۔ معلومات کو طاقت سمجھ کر چھپانے کی روایت آج بھی سرکاری کلچر کا حصہ ہے۔ جب تک اس سوچ کو تبدیل نہیں کیا جاتا اور ہر سرکاری ادارے میں باقاعدہ، تربیت یافتہ اور بااختیار پبلک انفارمیشن آفیسر تعینات نہیں کیے جاتے، اس قانون سے حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا۔
ملتان جیسے شہروں میں جہاں صحت، تعلیم اور بلدیاتی مسائل پہلے ہی عوام کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں، معلومات تک رسائی کا حق سلب ہونا ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ شفافیت صرف بیانات اور سیمینارز سے نہیں آتی، اس کے لیے سرکاری دفاتر کے دروازے اور فائلیں عوام کے لیے کھولنا پڑتی ہیں۔ اگر رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ پر دیانت داری سے عملدرآمد ہو جائے تو بدعنوانی میں کمی، بہتر حکمرانی اور عوامی اعتماد کی بحالی ممکن ہے۔
سوال اب بھی وہی ہے کہ کیا یہ قانون محض کاغذی وعدہ بن کر رہے گا یا واقعی عوام کو ان کا حق دلایا جائے گا؟ وقت گزر رہا ہے اور ہر گزرتا دن اس حق کو مزید کمزور کر رہا ہے۔ فیصلہ بہرحال حکومت اور سرکاری اداروں کو ہی کرنا ہے، مگر اس فیصلے کا اثر براہِ راست عوام کی زندگی پر پڑے گا۔






