#کالم

.6 شدت کا زلزلہ :جاپان میں خوفناک لمحے ریکارڈ!

news desing 754

تحریر: انجینئر بخت سید یوسفزئی – قلمِ حق (engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

جاپان میں آنے والا حالیہ زلزلہ نہ صرف ایک قدرتی سانحہ ثابت ہوا بلکہ اس نے دنیا بھر کے انسانوں کو یہ احساس بھی دلایا کہ زمین کی طاقت اور اس کے اندر چھپی ہوئی حرکتیں کس قدر اچانک انسان کو بے بس کر سکتی ہیں۔ ریکٹر اسکیل پر 7.6 شدت کا یہ جھٹکا اتنا شدید تھا کہ بڑے بڑے شہروں کی مضبوط ترین عمارتیں بھی لرزتی رہیں اور لوگوں میں بے چینی کی لہر پھیل گئی۔ زلزلے کے طویل جھٹکوں نے ایک لمحے میں روزمرہ زندگی کا تمام معمول درہم برہم کر دیا، اور شہریوں کی بڑی تعداد کھلی جگہوں کی جانب بھاگتی ہوئی نظر آئی۔

زلزلے کے فوراً بعد سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز نے اس حقیقت کو مزید واضح کر دیا کہ اس سانحے نے کس قدر شدت کے ساتھ مختلف علاقوں کو متاثر کیا۔ فوٹیجز میں دکانوں کے اندر سامان کا فرش پر گر جانا، دفاتر میں فائلوں اور فرنیچر کا بکھر جانا، بازاروں میں سائن بورڈز کا جھٹکوں سے ہلنا، اور پارکنگ ایریاز میں کھڑی گاڑیوں کا اپنی جگہ سے ہل جانا سب دکھائی دیتا ہے۔ یہ مناظر نہ صرف خوف کی علامت تھے، بلکہ زلزلے کی غیرمعمولی شدت کی کھلی گواہی بھی تھے۔

حکومتی اداروں نے زلزلے کے چند ہی لمحوں بعد ساحلی علاقوں کیلئے سونامی وارننگ جاری کر دی، جس سے عوام میں مزید خوف پیدا ہوا۔ الارم بجائے گئے، میگا فون کے ذریعے اعلانات کیے گئے اور ساحلی آبادی کو فوری طور پر بلند مقامات کی طرف جانے کی ہدایات دی گئیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد اپنے گھروں سے باہر نکل آئی اور سڑکوں پر ہنگامی صورتحال کا سماں دکھائی دیا۔ ہر کوئی اپنے پیاروں کی سلامتی کیلئے بے چین دکھائی دیتا تھا۔

زلزلے کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا اور کئی عمارتوں میں نمایاں دراڑیں نمودار ہوئیں۔ کچھ عمارتوں میں نصب سیکیورٹی سسٹمز نے خودکار طریقے سے گیس اور بجلی کی فراہمی بند کر دی تاکہ کسی بڑے حادثے کو روکا جا سکے۔ حکام نے انفراسٹرکچر کے نقصانات کا مکمل جائزہ لینے کیلئے خصوصی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں روانہ کیں تاکہ نقصان کا صحیح تخمینہ لگایا جا سکے۔

جاپان چونکہ زلزلوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے خطوں میں شمار ہوتا ہے، اس لیے وہاں کے تعمیراتی اصول اور حفاظتی نظام دنیا میں مثالی مانے جاتے ہیں۔ پھر بھی 7.6 شدت کا زلزلہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک بہت بڑا چیلنج تھا۔ شہروں کی گلیوں اور سڑکوں پر لوگوں کے چہروں پر خوف کی لکیریں تھیں، اور ہر کوئی اس اچانک آنے والی آفت سے بے حد متاثر دکھائی دیتا تھا۔

حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو مشن کا آغاز کیا اور فائر بریگیڈ، میڈیکل اسٹاف اور امدادی ٹیموں کو فوری طور پر فعال کر دیا۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور اضافی ڈاکٹرز اور نرسوں کو طلب کر لیا گیا تاکہ کسی بھی اہم صورتحال کا بروقت مقابلہ کیا جا سکے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ چھوٹی موٹی چوٹوں سے بچنے کیلئے گھروں میں احتیاط برتیں اور غیر ضروری طور پر خطرناک علاقوں کا رخ نہ کریں۔

دنیا بھر کے ممالک نے جاپان کیلئے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ کئی ممالک نے امدادی ٹیمیں بھیجنے کی پیشکش کی، ایسے مواقع انسانیت کو ایک دوسرے کا سہارا بننے کی یاد دلاتے ہیں، اور جاپان کے عوام کیلئے دنیا کے بے شمار لوگوں نے نیک خواہشات پیش کیں۔

زلزلے نے ٹرانسپورٹ کے نظام کو بھی کافی متاثر کیا ہے۔ کئی ایئرپورٹس پر پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں، کچھ کو منسوخ کرنا پڑا اور ٹرینوں کی کئی سروسز عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔ سڑکوں میں پڑنے والی دراڑیں نہ صرف گاڑیوں کی آمدورفت میں رکاوٹ بنیں بلکہ شہریوں کو اپنی منزل تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کئی خاندانوں نے خوف اور بے یقینی کے باعث اپنی راتیں پارکوں، گاڑیوں اور خالی میدانوں میں گزاری۔ بچے ڈرے ہوئے تھے، بڑوں کے چہروں پر تشویش کے آثار نمایاں تھے اور بوڑھے افراد اس اچانک سانحے سے ذہنی طور پر بہت زیادہ متاثر تھے۔ حکومت نے نفسیاتی معاونت کیلئے خصوصی ٹیمیں متحرک کیں تاکہ عوام کو ذہنی دباؤ سے نکالا جا سکے۔

اس موقع پر دنیا بھر کے لوگوں نے ماضی میں آنے والے تباہ کن زلزلوں کو بھی شدت سے یاد کیا۔ دنیا کے مختلف خطوں میں رہنے والے افراد کے ذہنوں میں پرانی تصاویر اور المناک مناظر تازہ ہو گئے، جب چند لمحوں کے اندر پوری بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں اور انسان اپنی ہی تعمیرات کے نیچے دب کر بے بسی کی تصویر بن کر رہ گیا تھا۔ قدرتی آفات کی یہ یادیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ ترقی یافتہ ٹیکنالوجی، مضبوط انفراسٹرکچر اور جدید ترین حفاظتی نظام بھی زمین کی طاقت کے سامنے کمزور پڑ جاتے ہیں، اور انسان کی پوری محنت ایک جھٹکے میں ختم ہو سکتی ہے۔

خصوصاً پاکستان میں 2005 کا وہ ہولناک زلزلہ لوگوں کے دلوں میں آج بھی تازہ ہے، جس نے ہزاروں خاندانوں کو ہمیشہ کیلئے بدل کر رکھ دیا۔ شمالی علاقہ جات سے لے کر کشمیر تک تباہی کی ایسی دردناک داستانیں رقم ہوئیں جنہیں وقت کا بہاؤ بھی مکمل طور پر مٹا نہیں سکا۔ اسکولوں کی عمارتیں گر گئیں، معصوم بچے شہید ہوئے، گھرانے بکھر گئے اور پوری قوم ایک ایسی آزمائش میں مبتلا ہو گئی جس نے ہر پاکستانی کو اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا۔ آج بھی جب اس تباہ کن حادثے کا ذکر ہوتا ہے تو لوگوں کے چہرے افسردہ ہو جاتے ہیں، اور وہ لمحات دلوں پر پھر سے بوجھ بن کر اتر آتے ہیں۔

جاپان میں آنے والا حالیہ زلزلہ اسی حقیقت کی ایک تازہ یاد دہانی ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی مضبوط عمارتیں بنا لے، سائنس میں کتنی ہی ترقی کر لے یا بڑے سے بڑا حفاظتی نظام تیار کر لے، لیکن قدرتی آفات کے سامنے اس کی حیثیت ہمیشہ محدود ہی رہے گی۔ یہ سانحہ نہ صرف جاپان کیلئے، بلکہ پوری انسانیت کیلئے ایک گہرا

.6 شدت کا زلزلہ :جاپان میں خوفناک لمحے ریکارڈ!

12/12/2025 Daily Sarzameen Lahore

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے