صحت سہولیات کا بحران اور مریم نواز۔

20

ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر

حرم شاہد کی عمر سواسال ہے اس کے والد رکشہ ڈرائیور اور یہ خاندان کریم پارک لاہور کا رہائشی ہے جہاں سے قائد پاکستان مسلم لیگ(ن) میاں محمد نواز شریف اور بلال یاسین 2024کے الیکشن میں رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ۔
حرم کو کچھ عرصہ قبل بار بار بخار آنے کی شکایت ہوئی تو مقامی ڈاکٹر نے تجویز کیا کہ اس کو چلڈرن ہسپتال کے کارڈک یونٹ میں چیک کرائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ اس کے دل کامسئلہ تو نہیں ۔
چلڈرن ہسپتال کے چکر کاٹنے کے بعد ان کو تین ماہ بعد پتہ چلا کہ اس کے دل میں چھوٹا سا سوراخ ہے جس کی وجہ سے اسے بار بار بخار آتا ہے اور اب اس کا علاج ایک انجکشن ہے جو اسے ہر ماہ لگے گا اور اس کے بعد ہر تین ماہ بعد ۔
ڈاکٹرز کی تجویز کے بعد جب حرم کی ماں نے ہسپتال سے انجکشن لینے کا قصد کیا تو اس کو پتہ چلا کہ یہ انجکشن ہسپتال میں موجود نہیں اس کو بازار سے خرید کر ہی لگا نا پڑے گا ،مرتا نہ کیا اس کے والد نے کہیں سے تین ہزار روپے کا بندوبست کرکے 20جون کو پہلا ٹیکہ اپنی بچی کو لگوایا تاکہ اس کی بچی کی بیماری ختم ہوسکےاور اب اگلے انجکشنز کے لیے اللہ کی ذات پر توکل کر کے بیٹھے ہیں بلاشبہ اللہ تعالی کی ذات بہترین کار ساز ہے ۔
یہ ساری بات میں نے اس لیے کی ہے کہ کچھ روز قبل وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے چلڈرن ہسپتال میں جاری بحران کا بڑا سخت ایکشن لیا تھا مگر آج بھی اس ایکشن کا ریزلٹ زیرو ہے اور وہاں پر بچوں کو ادویات نہیں مل رہی یہ ایک چلڈرن ہسپتال کی بات نہیں بلکہ محکمہ صحت پنجاب کے صوبے بھر کے جتنےہسپتال ہیں وہاں پر ایسے ہی حالات ہیں ۔
آپ دیکھیں اربوں روپے کی ری ویمپنگ ہونے کے باوجود عام آدمی کے بچے ادویات کے حصول کی راہ تک رہے ہیں اور اس سارے مسائل کی جڑ سیکرٹری صحت پنجاب علی جان ہیں جن کا فرض تھا کہ تمام ہسپتالوں میں ادویات اور ٹیسٹوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں مگر لگ ایسے رہا ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کا صحت ویژن ،سیکرٹری ہیلتھ نے اجاڑ کر رکھ دیا ہے۔
اس وقت مختلف ہسپتالوں کے سربراہان کی جانب سے ہسپتالوں کے ذمہ واجب الادا قرضوں کی ادائیگی نہ ہونے فنڈز کی شدید کمی اورمریضوں کے علاج معالجہ شدید متاثر ہونے کی شکایات کے باجود سیکرٹری صحت نے ہسپتالوں کی تزئین و آرئش کے لئے حکومت سے مزید 16ارب روپے مانگ لئے ہیں
جبکہ مختلف ہسپتال سربراہان کی جانب سے ہسپتالوں کی تزئین وآرئش میں ناقص کاموں کی حوالے سے متعدد شکایات سامنے آگئیں ہیں جن کا اظہار وائس چانسلرز اور پرنسپل کانفرنس میں کیا گیا
جس کے مطابق اس وقت ٹیچنگ ہسپتال اربوں روپے کے مقروض ہیں جسکی وجہ سے مریضوں کا علاج معالجہ شدید متاثر ہورہا ہے اور اگر یہ ادائیگیاں نہ کی گئ تو علاج معالجہ بالکل بند ہوجائے گا ۔
ایک بڑی میڈیکل یونیورسٹی کےوی سی نے کہا کہ ہمارے ہسپتالوں کا حال ملکی حالات جیسا ہے کہ جتنی رقم آتی ہے وہ بقایاجات جات کی ادائیگی میں اٹھ جاتی ہے اس وقت صرف میو ہسپتال کو 3 ارب سے زائد کے بقایاجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے،
اگر پیسے نہ دیں تو کمپنیوں والے ادویات کی سپلائی بند کر دیتے ہیں کہ جس سے مریضوں کا علاج معالجہ شدید متاثر ہو رہا ہے انہوں نے کہا کہ حکومت واجبات ادا کرے اور پھر اداروں کے سربراہان سے کارکردگی کی بات کرےایک میڈیکل یونیورسٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان ڈور الائیڈ ہسپتال میں اس رفتار سے کام نہیں ہو رہا کہ جس رفتار سے پہلے ہورہا تھا، الائیڈ ہسپتال میں کینسر وارڈ کی ریڈی ایشن مشین 40 سال پرانی ہے ، لینر ایکسلیریٹر کی خریداری کرنا چاہی بعد میں یہ منصوبہ ختم کر دیا گیا۔ ایک اور میڈیکل یونیورسٹی کے وی سی کا کہنا تھا کہ ری ویمپنگ کے دوران جتنے نئے اے سی لگائے گئے ہیں ان کا اضافی بل کیسے ادا کیا جائے گا جبکہ ہسپتالوں کے پاس پہلے ہی بجٹ ناکافی ہے۔ اب ذرا اسپیشل سیکرٹری صحت واجد شاہ کی سنیں ان کے مطابق ری ریمنگ کے دوران لاہور کے ایک ہسپتال میں کام ٹھیک نہیں ہوا دیواروں میں نمی آگئی، واش روم ابل پڑے دروازے خراب ہو گئے تو بتائیں یہ اس وقت کہاں تھے جب ری وییمپنگ کا کام جاری تھا اور سیکرٹری صحت علی جان اسی لیے اس میٹنگ میں کہہ گئے کہ ری ویمپنگ کی مد میں 25 ارب ٹیچنگ ہسپتالوں میں خرچ کر چکے ہیں اور حکومت سے مزید 16 ارب مانگا گیا ہے ۔اب حکومت 16ارب مہیا کرئے گی مگر عام آدمی کے بچوں کو علاج میں معاون انجکشن پھر بھی نہیں ملے گا دوسری جانب آج خانیوال میں انجکشن ریکشن سے 3بچوں کی اموات کے حوالے سے انکشاف سامنے آیا ہے کہ یہ انجکشن محکمہ صحت کو نجی فارما نے سپلائی کیاتھا اور اس سیرپ زونیڈ کو ڈیڑھ ماہ قبل غیر معیاری قرار دیا جاچکا ہے ,محکمہ صحت نے اس سیرپ کے 7بیچ چیک کیے جو سارے فیل قرار پائےاوران میں وہی اجزا پائے گئے جن سے نیپال میں بچوں کی اموات واقعہ ہوئیں تھیںجبکہ نجی فارما کو محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ نے اینٹی بائیو ٹک سیرپ اور انجکشنز کی سپلائی کا کنٹریکٹ دیا تھا۔ لاہور سمیت پنجاب بھر کے تمام چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں گرینڈ ہیلتھ الائنس کے زیر اہتمام 8 روز سے ڈاکٹرز، نرسز کی ہڑتال جاری رہی، اوپی ڈیز مکمل بند ، کائونٹرز سے کوئی پرچی جاری ہوئی، نہ ہی نئے داخلے اور آپریشن ہو سکے، مریضوں کے ضروری تشخیصی ٹیسٹ بھی التواء کا شکار، دور دراز شہروں سے آنیوالے مریض علاج معالجہ کیلئے ہسپتالوں کی راہداریوں میں خوار ہوتے رہے۔ینگ ڈاکٹرز کی تنظیم وائے ڈی اے نے حکومتی دھمکیوں کو مسترد کر تےمطالبات کی منظوری تک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان کردیااور محکمہ صحت پنجاب نے ہڑتالی ڈاکٹرز،نرسز سمیت دیگر عملے کیخلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تمام ہڑتالی ڈاکٹرز کو ہسپتالوں میں واپس ڈیوٹی پر آنےکیلئے آج 24جون تک کی ڈیڈ لائن د ے رکھی ہے ۔ اس حوالے سے وائے ڈی اے پنجاب کے صدر ڈاکٹر شعیب نیازی کا کہنا ہے کہ حکومت ہوا میں باتیں کر رہی، حقیقت کا اس سے کوئی تعلق نہیں، حکومت او پی ڈیز کھلوا سکتی ہے تو کھلوا کر دیکھ لے، ہم نے حکومت کو ٹیبل ٹاک کی بھی دعوت دی مگر حکومت نےمذاکرات کی بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ مطالبات منظوری تک ہم بھی مذاکرات نہیں کرینگے، ہڑتال جاری رکھیں گے، توہین آمیز رویہ کی تحقیقات کرائی ،ذمہ داروں کو سزا دی جائے جبکہ صوبائی وزراء صحت خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر کی زیرصدارت محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن میں منعقدہ اہم اجلاس میںفیصلہ کیا گیا کہ آج (سوموار)سے او پی ڈیز ہر صورت کھولی جائیں ۔ دونوں صوبائی وزراء نے تمام ہسپتالوں کے ذمہ داران کو ڈیوٹی روسٹر فراہم کرنے اور اس پر عمل درآمد کی سختی سے ہدایت جاری کر دی تھیںمگر محکمہ صحت پنجاب ابھی تک ہسپتالوں میں صحت کی سہولیات یعنی ادویات اور معاون تشخیصی نظام کو مکمل طور پر فعال نہیں کرپایا جس کی وجہ سے غریب عوام اپنے علاج کے حصول میں حکومت کی پالیسیوں پر نوحہ کناں ہیں اور وزیر اعلی پنجاب کے منتظر ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور اس سارے معاملہ کو ختم کروائیں تاکہ غریب مریض اپنے علاج کے حوالے سے سکھ کا سانس لے سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.