پوٹھوہار یونیورسٹی موومنٹ
تحریر:- نعمان رزاق
چند دن پہلے پوٹھوہار یونیورسٹی موومنٹ کے چیئرمین ظہیر چوہدری کی ایک خبر نظر سے گزری جس میں انہوں نے ممبر پنجاب اسمبلی محترمہ تحسین فواد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان ” دختر پوٹھوہار کے لقب سے بھی نوازا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب اسمبلی میں پوٹھوہار یونیورسٹی کے لئے قرارداد جمع کروانا ان کی گرانقدر خدمات میں سے ایک ہے یہ وہ کام ہے جس کو خطہ پوٹھوہار کے عوامی نمائندوں کو بڑھتی ہوئی آبادی اور سکڑتے پوٹھوہار کو دیکھتے ہوئے عرصہ پہلے کر لینا چاہیے تھا۔۔ لیکن شاید ان کی ترجیحات میں اس طرح کے منصوبے شامل نہیں ہوں گے۔لیکن پوٹھوہار یونیورسٹی موومنٹ جب اپنے عین نقطہ عروج پر پہنچی تو حسب معمول پوٹھوہار کیمپس بھی سامنے آ گیا پوٹھوہار یونیورسٹی کے قرارداد بھی سامنے آ گئی لیکن اس ساری مشہوری اور کریڈٹ کے چکر میں اس کے پس پشت جو شخصیات یا جو تحریک کام کر رہی تھی وہ ماضی کے راہنماؤں اور اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھنے والوں کی طرح یکسر نظرانداز کر کے اپنے عہدوں کا استعمال کرتے ہوئے تختیاں لگانے کی تیاریاں شروع کر رکھی ہیں۔ لیکن سلام اس مرد مجاہد کو جس پوٹھوہار یونیورسٹی موومنٹ کو اپنا خون دے کر اس آواز کو پنجاب اسمبلی کے ایوانوں تک پہنچایا اور خود کریڈٹ لینے کے بجائے محترمہ تحسین فواد صاحبہ کو اس کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے ان کو پوٹھوہار محبت کی وجہ سے دختر پوٹھوہار کا لقب بھی دے دیا۔ حالانکہ برصغیر پاک وہند کی تعلیمی ترقی کی طرف نظر دوڑائی جاۓ تو سب سے پہلے ۱۸۹۷ میں زوال مغلیہ کے بعد مسلمانان ہند کو تعلیمی، سماجی اور سیاسی پسماندگی سے نکالنے کے لئے سرسید احمد خان نے تحریک کا آغاز کی۔اور باقاعدہ طور پر ۱۸۶۴ میں سائنٹیفک سوسائٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کے تحت انگریزی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرنے کے لئے آغاز کیا گیا۔ اور اس کو ہی علی گڑھ تحریک کا باقاعدہ نقطہ آغاز مانا جاتا ہے۔ اور یہ تحریک سرسید احمد خان کے زیر قیادت مختلف مراحل طے کرتے ہوئے ۱۹۲۰ میں ایم اے او کالج کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے روپ میں ظاہر ہوئی۔ یہ سب کچھ ایک ایسے شخص کی لگن، محنت اور مسلسل جد وجہد کا نتیجہ تھی جو اپنے والد کی وفات کے بعد ایک نائب منشی کی حثیت سے ملازمت میں آیا تھا اور اپنی محنت سچی لگن سے جج کے عہدے تک رسائی حاصل کی۔ ان کا نام سرسید احمد خان تھا جو ۱۸۱۷سے۱۷۹۸ برصغیر ہند میں جدید تعلیم اور سماجی اصلاحات کے بانی تھے۔ جن کو "سر” کے خطاب سے نوازا گیا۔۔اس کے بعد برصغیر کی دوسری بڑی یونیورسٹی جو تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان کے حصے میں آئی وہ پنجاب یونیورسٹی ہے پنجاب یونیورسٹی کے لئے انگریز کے اپنے ہی ایک اپنے ہی اعلیٰ افسر ڈاکٹر گوٹ لیب ولیم لیٹنر کا اہم کردار ہے۔ ڈاکٹر جی ڈبلیو انیسویں صدی کے ایک مایہ ناز برطانوی ماہر لسانیات اور ماہر تعلیم تھے انہوں نے پنجاب میں جدید اور مشرقی علوم کے امتزاج سے تعلیمی انقلاب برپا کرنے میں تاریخی کردار ادا کیا۔وہ اس تعلیمی نظام کے سخت مخالف تھے جو مقامی زبانوں اور ثقافت کو نظرانداز کرے۔ انہوں نے "انجمن پنجاب” کے نام سے مقامی راہنماؤں مل کر)(پنجاب یونیورسٹی موومنٹ ) تحریک شروع کی۔ ان کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں ۱۸۸۲ میں پنجاب یونیورسٹی لاہور کا قیام عمل میں آیا۔ ان کو آج تک یاد رکھا گیا اور ان کے نام سے روڈ بھی منسوب کیا گیا ہے۔ اب جبکہ یہ تیسری بڑی یونیورسٹی کے لئے تیسری بڑی تحریک جس کی قیادت جناب ظہیر چوہدری کر رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں جب کوئی یونیورسٹی یا اعلیٰ تعلیمی ادارہ بننے جاتا تو مین کردار اس وقت کے برسراقتدار نمائندوں کا ہی ہوتا ہے کیونکہ عوامی حمایت سے تحریک تو چلائی جا سکتی ہے لیکن پراجیکٹ کی تکمیل ناممکن ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لئے آواز اٹھانے والے شخص یا اشخاص کو نظرانداز کرنا بھی زیادتی ہو گی بالکل اسی طرح جس طرح آج ظہیر چوہدری کو آج تک کسی سرکاری سطح پر یا پرائیوٹ طور پر نہیں سراہا گیا ہے اور نہ ہی کبھی ذکر کیا گیا ہے جبکہ ان کوششوں سے شہرت پانے والے پوٹھوہار یونیورسٹی کے نام کو ایک پرائیوٹ تعلیمی ادارے کو اپنی دن رات کی کوششوں سے الاٹ کرا کر باقاعدہ اس نام اپنے پراجیکٹ کی تشہیر بھی شروع کر دی ہے۔ جو قائد تحریک ظہیر چوہدری کی کوششوں اور کاوشوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔۔ راقم الحروف کی اس تحریر کے حوالے سے یہ گزارش ہے کہ ظہیر چوہدری کو باقاعدہ اس یونیورسٹی کے بانی ارکان میں شامل کیا جائے تا کہ جو تاریخ رقم ہو رہی ہے ظہیر چوہدری کا کردار اس میں زندہ رہے۔۔ میری ممبران پنجاب اسمبلی محترمہ تحسین فواد صاحبہ، جناب راجہ شوکت عزیز بھٹی صاحب، جناب چوہدری عمران الیاس،جناب محترمہ زیب النساء صاحبہ، وزیر تعلیم جناب سکندر حیات ، سنئیر صوبائی وزیر جناب محترمہ مریم اورنگزیب وزیر اعلیٰ پنجاب جناب مریم نواز صاحبہ سے گزارش ہے کہ پوٹھوہار یونیورسٹی موومنٹ کے چئیرمین جناب ظہیر چوہدری کو بھی اتنی ہی عزت دی جائے جتنی ممبران صوبائی اسمبلی کو قرارداد جمع کرانے پر دی جائے۔






