#کالم

معیشت کے الاؤ پر عوام

Abcag

:زیر و زبر
تحریر:راؤ غلام مصطفٰی
Email:raomustafa538@gmail.com

قومیں صرف جنگوں، قحط سالیوں اور بیرونی حملوں سے زخم نہیں کھاتیں.بلکہ بعض اوقات اپنے ہی معاشی نظام کی بے اعتدالی ان کے اجتماعی وجود کو نقصان پہنچاتی ہے۔جب ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کمزور پڑنے لگے۔جب قربانی کا بوجھ یکساں تقسیم نہ ہو اور آسودگی چند ہاتھوں میں سمٹ جائے۔تو محرومی ایک مستقل اجتماعی نفسیات میں ڈھل جاتی ہے۔
پاکستان میں تیل کی قیمتوں کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔تو عوام کے دلوں میں امید کے چراغ روشن ہو جاتے ہیں۔لیکن یہ امیدیں اکثر سراب ثابت ہوتی ہیں۔اس کے برعکس جب عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔تو اس کے اثرات براہ راست عوام پر اثر انداز ہوتے ہیں۔گویا راحت کے لیے طویل مشاورت اور مصیبت کے لیے فوری فیصلے مخصوص کر دیے گئے ہوں۔
یہ صورتِ حال محض اتفاق نہیں۔ اس کے پس منظر میں ایک ایسا معاشی ڈھانچہ موجود ہے جس میں طاقت اور وسائل کا ارتکاز چند ہاتھوں تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ تیل کی تجارت پر اجارہ داری، قیمتوں کے تعین میں غیر شفافیت اور نگرانی کے کمزور نظام نے عام آدمی کو محض ایک خاموش تماشائی بنا دیا ہے۔ منافع کے اعداد و شمار بلند ہوتے جا رہے ہیں، لیکن عوام کے گھروں میں جلنے والے چراغ مدھم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
حکومت کی مشکلات بھی اپنی جگہ حقیقت ہیں۔ بیرونی قرضے، مالیاتی خسارہ، درآمدی انحصار اور بین الاقوامی اداروں کی شرائط پالیسی سازوں کی گنجائش محدود کر دیتی ہیں۔ پیٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات قومی خزانے کے اہم ذرائع بن چکے ہیں۔ اسی لیے عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود مکمل ریلیف دینا حکومت کے لیے آسان نہیں رہتا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ریاست کی مالی مضبوطی کا انحصار مسلسل عام آدمی کی جیب پر رہے تو فلاحی ریاست کا خواب کس تعبیر کا انتظار کرے گا؟
یہ سوال محض معاشیات کا نہیں بلکہ اخلاقیات کا بھی ہے۔
کیا قومی ترقی کا مفہوم یہ ہے کہ شہری بنیادی ضرورتوں کے لیے ترستے رہیں اور معاشی اشاریے بہتری کی داستان سناتے رہیں؟ کیا خزانے کی مضبوطی کا راستہ ہمیشہ انہی گھروں سے گزرے گا جہاں پہلے ہی فاقوں، محرومیوں اور محدود وسائل نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں؟
تاریخ کا ایک غیر متبدل اصول ہے کہ قومیں وسائل کی کمی سے کم اور انصاف کی کمی سے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ جب دولت اور مواقع چند طبقات تک محدود ہو جائیں تو معاشرتی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ مایوسی جنم لیتی ہے، بے یقینی فروغ پاتی ہے اور اجتماعی اعتماد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اور جب اعتماد ٹوٹ جائے تو ترقی کے بلند بانگ دعوے بھی عوام کے دلوں میں جگہ نہیں بنا پاتے۔
توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں، مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی کمزوریوں کی داستان کوئی نئی نہیں۔ برسوں سے مختلف رپورٹس ان مسائل کی نشاندہی کرتی آ رہی ہیں۔ کھربوں روپے کے اعداد و شمار اخبارات کی سرخی بنتے ہیں، ٹیلی ویژن مباحثوں کا موضوع بنتے ہیں، مگر ایک عام شہری کے لیے ان تمام خبروں کا مفہوم صرف اتنا ہوتا ہے کہ اس کے گھر کا بجٹ مزید بگڑ جائے گا، بچوں کی تعلیم مزید مہنگی ہو جائے گی اور زندگی کی دوڑ مزید تھکا دینے والی بن جائے گی۔
اسمگلنگ اور غیر قانونی تجارت نے اس بحران کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ جب ریاستی نگرانی کمزور پڑ جائے تو ناجائز منافع خور عناصر مضبوط ہو جاتے ہیں۔ نقصان صرف قومی خزانے کا نہیں ہوتا بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچتا ہے۔ اور اعتماد کا زوال کسی بھی ریاست کے لیے معاشی خسارے سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
آج کا کسان بارشوں سے زیادہ ڈیزل کی قیمتوں کے بارے میں پریشان ہے۔ اس کے لیے موسم کی سختیاں قابلِ برداشت ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی لاگت اس کی امیدوں کو کھا جاتی ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور دن بھر پسینہ بہانے کے بعد شام کو یہی حساب لگاتا ہے کہ ایندھن نے اس کی کمائی کا کتنا حصہ نگل لیا۔ ایک سرکاری ملازم مہینے کے پہلے ہفتے میں ہی یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ بچوں کی کون سی خواہش کو اگلے مہینے تک مؤخر کیا جائے۔ اور ایک مزدور، جس کے ہاتھ ملک کی تعمیر میں مصروف ہیں، اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ صرف زندہ رہنے کے اخراجات پورے کرنے پر خرچ کر دیتا ہے۔
یہ وہ دکھ ہیں جو معاشی جدولوں میں درج نہیں ہوتے۔ یہ وہ آنسو ہیں جن کی کوئی سرکاری درجہ بندی نہیں ہوتی۔ مگر یہی خاموش تکلیفیں قوموں کے اجتماعی حافظے کا حصہ بن جاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے مزاج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
اس صورتحال سے نکلنے کا راستہ یقیناً موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قیمتوں کے تعین کے عمل کو مکمل شفاف بنایا جائے، نگرانی کے اداروں کو حقیقی خودمختاری دی جائے اور اجارہ داری کے رجحانات کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ مقامی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جائے اور متبادل توانائی کے منصوبوں کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔ اسمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ قانون کی کمزوری ہمیشہ مافیا کو طاقت عطا کرتی ہے۔
اسی طرح عوام سے وصول کیے جانے والے محصولات کے مصرف کو بھی واضح اور شفاف بنانا ہوگا۔ بہتر سڑکیں، معیاری ہسپتال، جدید تعلیمی ادارے اور زرعی شعبے کے لیے سستی توانائی ایسے اقدامات ہیں جو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی نئی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ قربانی اور فائدے کی منصفانہ تقسیم ہی معاشرتی استحکام کی ضمانت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ صرف تیل کی قیمتوں کا نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی کا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پیٹرول چند روپے مہنگا ہوا یا سستا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کا عام آدمی قومی پالیسیوں کے مرکز میں موجود ہے یا نہیں؟ کیا اس کے خواب، اس کی ضروریات اور اس کی مشکلات بھی اتنی ہی اہم ہیں جتنی معاشی اشاریے اور مالیاتی اہداف؟

معیشت کے الاؤ پر عوام

معیشت کے الاؤ پر عوام

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے