اخلاقی بے راہ روی: قصور صرف سوشل میڈیا کا یا پورے معاشرے کا؟
احساس کے انداز تحریر :۔ جاویدایازخان
گذشتہ دنوں میرے بہت ہی قابل احترام بزرگ دوست چوہدری خادم حسین صاحب نے "روزنامہ پاکستان لاہور” کےاپنے کالم "جنسی جرائم میں اضافے کا سبب بھی سوشل میڈیا ہے ! ” میں بہت عمدگی سے موجودہ جنسی زیادتیوں کے واقعات حوالے سے ان کی وجوہات اور ان میں کمی لانے کی تجاویز پیش کی ہیں ۔انہوں نے سوشل میڈیا اور موبائل فون کو بھی اس کا ذمہ دار قرار دیا ہے ۔جو یقینا” ضرور ہے مگر میں ان ہی کی بات آگے بڑھانا چاہتا ہوں کہ دنیا میں بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں تو سولہ سال سے کم عمر بچوں پر موبائل فون اورسوشل میڈیا دیکھنے پر پابندی لگا دی گئی ہے ۔مگر سوال یہ ہے کہ بظاہر تو یہ ایک اچھا عمل ہوسکتاہے مگر کیا یہ عمل ان جرائم میں کمی لا سکے گا ؟یا یہ پابند ی ان کے لیے تجسس کا باعث بنے گی ؟ ان منفی محرکات کا حل صرف سوشل میڈیا پر کنٹرول ہی نہیں بلکہ کئی دوسرۓعوامل بھی جو انفرادی اور اجتماعی طور پر توجہ طلب ہیں ۔
کہتے ہیں کہ ہر دور اپنے ساتھ نئے اور منفرد چیلنج لے کر آتا ہے، مگر آج کا سب سے پیچیدہ چیلنج نئی نسل کی بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی، جذباتی انتشار ،عدم برداشت ،انتقام اور اخلاقی الجھن ہے۔ جب بھی اس موضوع پر گفتگو ہوتی ہے تو انگلی سب سے پہلے بھارتی ڈراموں، پاکستانی میڈیا، فلموں، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرف اٹھتی ہے۔لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا قصور صرف فلموں اور میڈیا کا ہی ہےیا پھر یہ ایک بڑے اور خوفناک معاشرتی اورسماجی بحران کی علامت ہے؟
میڈیا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر وہ محبت کو صرف جسمانی کشش، تعلقات کو صرف وقتی لطف، اور آزادی کو ہر حد سے بے نیازی کے طور پر پیش کرے، تو نوجوان ذہن یقیناً متاثر ہوتے ہیں۔ مسلسل رومانوی اور جنسی نوعیت کے مواد کی نمائش نوجوانوں کی سوچ، توقعات اور رویوں پر اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر جب تنقیدی سوچ اور مناسب رہنمائی موجود نہ ہو۔ لیکن اگر صرف میڈیا ہی ذمہ دار ہوتا تو ہر وہ نوجوان جو یہ مواد دیکھتا ہے، ایک ہی راستہ اختیار کرتا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بہت سے نوجوان اسی ماحول میں رہتے ہوئے بھی اپنے کردار، تعلیم اور اقدار پر قائم رہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اصل فرق تربیت، خاندانی ماحول اور شخصیت سازی سے پیدا ہوتا ہے۔ والدین کی ذمہ داری صرف اچھی تعلیم، اچھے کپڑے اور اچھی خوراک مہیا کرنا نہیں، بلکہ کردار سازی، اعتماد، دینی و اخلاقی رہنمائی اور اولاد کے ساتھ کھلے مکالمے کا ماحول پیدا کرنا بھی ہے۔ جب بچے اپنے سوالات کے جواب گھر میں نہیں پاتے تو وہ انٹرنیٹ، دوستوں یا سوشل میڈیا سے جواب تلاش کرتے ہیں، جہاں ہر جواب درست نہیں ہوتا۔ معاشرے کی مجموعی صورتحال بھی اس مسئلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بے روزگاری، تفریح کے صحت مند مواقع کی کمی، تاخیر سے شادیاں، غیر حقیقی معیارِ زندگی، اور موبائل فون تک غیر محدود رسائی نوجوانوں کو ذہنی اور جذباتی دباؤ میں مبتلا کر سکتی ہے۔ ایسے حالات میں اگر اخلاقی رہنمائی کمزور ہو تو غلط فیصلوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ س مسئلے کا حل صرف میڈیا پر پابندیاں لگانا نہیں، بلکہ ایک متوازن حکمت عملی ہے اوالدین اولاد کے ساتھ اعتماد اور مکالمے کا رشتہ قائم کریں۔ تعلیمی ادارے کردار سازی اور ڈیجیٹل شعور کو فروغ دیں۔ اور میڈیا اپنی سماجی ذمہ داری کو محسوس کرے اور متوازن مواد پیش کرے۔ معاشرہ نوجوانوں کے لیے صحت مند سرگرمیوں اور بروقت شادی جیسے عملی مسائل پر بھی توجہ دے۔ دینی و اخلاقی تعلیم کو محض نصاب نہیں بلکہ عملی زندگی کا حصہ بنایا جاۓ ۔
نئی نسل آئینہ ہے؛ اگر آئینہ دھندلا نظر آ رہا ہے تو صرف آئینے کو الزام دینے سے تصویر صاف نہیں ہوگی۔ میڈیا، سوشل میڈیا، والدین، تعلیمی ادارے اور معاشرہ—سب اس منظرنامے کا حصہ ہیں۔ جب تک ہم اجتماعی ذمہ داری قبول نہیں کریں گے، صرف ایک فریق کو موردِ الزام ٹھہرانا مسئلے کو حل نہیں کرے گا۔ مضبوط خاندان، ذمہ دار میڈیا اور باشعور معاشرہ مل کر ہی ایسی نسل تیار کر سکتے ہیں جو آزادی اور ذمہ داری، دونوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔ایک وقت تھا کہ ہمیں غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے باہر جانے سے روکا جاتا تھا۔اسٹیڈیم ،گراونڈ اور پارک ہر وقت بھرے رہتےتھے ۔ پٹھو گرم ،چور سپاہی ،کانچے ،تاش اور لڈو کھیلنے والے ہر گلی کوچے میں نظر آتے تھے ۔اس زمانے میں جو فلمیں سینما گھروں میں دکھائی جاتی تھیں ان کا اختتام ہمیشہ برائی اور بدی کےکرداروں کے عبرت ناک انجام پر ہوتا تھا ۔آج مائیں بچوں کو گھر سے نکالنا چاہتی ہیں مگر وہ گھر کے کسی کونے میں موبائل فون سے جڑا ہوا ہے ۔اس بارۓ معلم ،استاد ،مذہبی خطیب بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ۔ہماری تبلیغی جماعتوں کے لاکھوں کے اجتماع اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ ان کے پیرو کار اللہ اور اسکے رسول ؐ کی اطاعت اور عبادات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اسلام کا پیغام گھر گھر ،گلی گلی ،محلے اور شہروں میں ہر مکتبہ فکر تک پہنچا رہے ہیں پھر یہ اخلاقی تربیت کا اہم ترین فریضہ بھی ضرور ادا کریں ۔انسانی کردار سزوں ا کے ڈر سے نہیں خدا کے خوف سے تعمیر ہوتے ہیں ۔ہمارے اسکول میں پہلا پیریڈ قرآن شریف باترجمہ کا ہوا کرتا تھا ۔سول ڈیفنس ،فرسٹ ایڈ ،سکاوٹنگ ،تقریری مقابلے ہوت جس میں اخلاقی تربیت اور عملی زندگی کے معاملات کو مدنظر رکھا جاتا تھا ۔دوپہر کو ظہر کی نماز باجماعت مسجد صادق سراۓ میں ادا کی جاتی اور باقاعدہ حاضری لگتی تھی ۔اسکول کی اسمبلی میں ہر ماہ ایک دو بار کوئی نہ کوئی مقرر یا خطیب اخلاقیات پر درس ضرور دیا کرتا تھا۔ہمارے ایک استاد ماسٹر اسحاق صاحب مرحوم اسلامیات کے پیریڈ میں دین کے ساتھ دنیاوی معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کرتے اور مسائل پر کھل کر اظہار خیال کرتے تھے ۔ہمیشہ دنیاوی معاملات پر ایک حدیث بیان فرماتے تھے ۔ان کے دیے ہوۓدرس آج بھی یاد ہیں ۔وہ کہا کرتے تھے عبادات انسان کے کردار میں نظر آنی چاہیئں ۔
آج کا بچہ پہلے کی طرح گلی میں کرکٹ نہیں کھیلتا، لائبریری میں کتابیں نہیں پڑھتا، باغ یا گلی میں دوستوں کے ساتھ وقت نہیں گزارتا اور نہ ہی کسی ہنر یا فن کی تربیت لیتا ہے۔ والدین اپنی مصروفیات اور مہنگائی کی پریشانی میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ انہوں نے بچوں کو اپنا وقت دینے کے بجائے موبائل فون دے دیا ہے۔ یہ فون وقتی طور پر بچے کو خاموش تو کر دیتا ہے، مگر اس کی شخصیت، سوچ اور اقدار کی تعمیر نہیں کرتا۔ والدین کی موجودگی صرف گھر میں موجود ہونے کا نام نہیں، بلکہ اولاد کی بات سننے، اس کے جذبات کو سمجھنے، اس کے دوستوں، دلچسپیوں اور مسائل سے واقف رہنے کا نام ہے۔ جس گھر میں مکالمہ ختم ہو جائے، وہاں سوشل میڈیا گفتگو شروع کر دیتا ہے، اور پھر بچے اپنے کردار کی تعمیر گھر سے نہیں بلکہ اسکرین سے سیکھتے ہیں۔
"اگر ہم نئی نسل کو جنسی بے راہ روی سے بچانا چاہتے ہیں تو صرف موبائل سے نہیں، بلکہ تنہائی، بے مقصدی اور والدین کی بے توجہی سے بھی بچانا ہوگا۔ کھیل کے میدان آباد ہوں گے، لائبریریاں روشن ہوں گی، والدین بچوں کے دوست بنیں گے، تو موبائل کی اسکرین کا جادو خود بخود کم ہونے لگے گا۔فطرت کا اصول ہے کہ خالی ذہن اور بےمقصد وقت کسی نہ کسی مشغلے کی تلاش میں رہتا ہے ۔اگر نوجوان کے ہاتھ میں کتاب ،کھیل ،مشغلہ ،ہنر ،فن یا کوئی مثبت شوق اور خواب نہ ہو تو پھر موبائل کی اسکرین اس کا استاد بن جاتی ہے اور جب اس استاد کے نصاب میں ہوس ،لالچ ، سنسنی ،شہوت ،رشوت اور مصنوؑی محبت کی کہانیاں ہی شامل ہوں تو کردار کی تعمیر کی بجاۓخواہشات کی پرورش ہونے لگتی ہے ۔اپنے بچوں کو وقت دیں آج کا لڑکا لڑکیوں سے زیادہ توجہ مانگتا ہے ۔وقت کی نزاکت کو سمجھیں اور اپنے بچوں کی شادیاں اسلامی احکامات کے مطابق کریں ۔بچوں کی بروقت شادیاں ایسے جرائم میں پچاس فیصد کمی کا باعث بن سکتی ہیں ۔”






